سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
اے کپڑا اوڑھنے والے (1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» نازل ہوئی، اس کے بعد وحی کچھ عرصہ کے لیے رک گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین رہنے لگے۔ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنھما نے وحی رک جانے کے اس عرصہ کے متعلق ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: [ بَيْنَا أَنَا أَمْشِيْ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِيْ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِيْ جَائَنِيْ بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلٰی كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِيْ زَمِّلُوْنِيْ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ» إِلٰی قَوْلِهِ: «وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ» فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَ تَوَاتَرَ ] [بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي…: ۴۔ مسلم: ۱۶۱ ] ”اس حالت میں کہ میں چلا جا رہا تھا میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ وہ فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا زمین اور آسمان کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا، میں اس سے ڈر گیا اور واپس آکر کہا: ”مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ» سے «وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ» تک، پھر وحی گرم ہو گئی اور مسلسل آنے لگی۔“ اس سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے سورۂ علق کی آیات نازل ہوئیں اور وحی رک جانے کے بعد سب سے پہلے سورۂ مدثر نازل ہوئی۔ (آیت 1) {يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ: ” الْمُدَّثِّرُ “} اصل میں {” اَلْمُتَدَثِّرُ “} تھا ”تاء“ کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کر دیا گیا۔ جو کپڑا جسم کے ساتھ ملا ہوا ہو اسے ”شعار“ اور جو اس کے اوپر پہنا جائے اسے ”دثار“ کہتے ہیں۔ اس خطاب کی وجہ کے لیے دیکھیے سورۂ مزمل کی پہلی آیت کی تفسیر۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
15۔ 1 یعنی کفر و معصیت کے باوجود، اس کی خواہش ہے کہ میں اسے زیادہ دوں۔
(آیت 2) {قُمْ فَاَنْذِرْ:} اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کے آغاز کا حکم ہوا۔ سورۂ علق کے شروع میں آپ کو وہ وحی پڑھنے کا حکم ہوا تھا جو آپ پر نازل ہوئی، اب وحی کے احکام کے مطابق لوگوں کو نصیحت کرنے اور ڈرانے کا حکم ہوا اور وہ اوصاف اختیار کرنے کا حکم دیا گیا جو داعی کے لیے ضروری ہیں۔ ان میں سے پہلی چیز سستی اور غفلت چھوڑ کر کمر ِہمت باندھنا اور اللہ کے علاوہ دوسری چیزوں کی پرستش کرنے والوں کو اس کے وبال سے ڈراناہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 3){ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ: ” رَبَّكَ “} کو پہلے لانے سے یہ معنی پیدا ہو گیا کہ صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ {” فَكَبِّرْ “} میں ”فاء“ پہلے {” قُمْ “} کے جواب ہی میں ہے، یعنی {”قُمْ فَكَبِّرْ رَبَّكَ۔“} اسی طرح {” وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ “} اور {” وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ“} میں بھی ”فاء“ اسی {” قُمْ “} کے جواب میں ہے۔ {” وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ “} کے الفاظ میں ”صرف اپنے رب کو بڑا جان“ اور ”صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر“ دونوں معنی موجود ہیں، یعنی دعوت دیتے وقت کوئی کتنا بڑا سردار یا مال دار یا بادشاہ یا بدمعاش ہو اس کی بڑائی تمھاری دعوت کے لیے رکاوٹ نہ بنے، بلکہ صرف اپنے رب کو بڑا جانو۔ جب تمھارے دل و دماغ میں اور تمھاری آنکھوں کے سامنے صرف وہی بڑا ہو گا تو ساری مخلوق تمھاری نظروں میں ہیچ ہو گی اور تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام پہنچانے میں کسی کی بڑائی مانع نہیں ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کا وصف بیان فرمایا: «الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ يَخْشَوْنَهٗ وَ لَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ» [ الأحزاب: ۳۹ ] ”وہ لوگ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے۔“ دوسرے معنی ہیں ”صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر“ یعنی جاہل اور مشرک لوگ جن جن کی بڑائی مان رہے ہیں ان سب کی نفی کر دو اور صاف اعلان کر دو کہ اس کائنات میں بڑائی صرف اللہ کی شان ہے، اس کے علاوہ بڑا بننا کسی کا حق ہی نہیں ہے، اس لیے عبادت کے لائق بھی صرف اسی کی ہستی ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
4۔ 1 یعنی قلب اور نیت کے ساتھ کپڑے بھی پاک رکھ۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ مشرکین مکہ طہارت کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔
(آیت 4) ➊ {وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ:} کافر لوگ کتنے بھی صاف ستھرے ہوں اپنے کپڑے پاک نہیں رکھتے، نہ انھیں پیشاب سے پرہیز ہوتا ہے نہ استنجا کی فکر اور نہ غسلِ جنابت کا خیال۔ حکم ہوا کہ آپ اپنے کپڑے پاک رکھیں۔ جب کپڑے پاک رکھنا ضروری ہے تو جسم پاک رکھنا تو بدرجۂ اولیٰ ضروری ہوا۔ آیت کے ظاہری الفاظ کا تقاضا یہی ہے اور سب سے پہلے مراد بھی یہی ہے۔ ہاں، محاورہ میں پاک دامنی سے مراد گناہوں کی آلودگی سے پاک ہونا بھی ہوتا ہے، اس لیے یہ معنی بھی ہے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھو۔ طبری نے پہلا معنی زیادہ ظاہر قرار دیا ہے۔ ➋ {” وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ “} (اپنے کپڑے پاک رکھو) میں ٹخنے سے اوپر کپڑا اٹھا کر رکھنے کا حکم بھی داخل ہے، کیونکہ لٹکانے کی صورت میں اس کے پلید ہونے کا خطرہ بالکل ظاہر ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
5۔ 1 یعنی بتوں کی عبادت چھوڑ دے۔ یہ دراصل لوگوں کو آپ کے ذریعے سے حکم دیا جا رہا ہے۔
(آیت 5) {وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ:} اس کا لفظی معنی ہے ”اور پلیدی کو پس چھوڑ دے۔“ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی پلیدی سے علیحدہ رہو۔ ”رجز“ اور ”رجس“ ایک ہی چیز ہے، اس کا سب سے پہلا مصداق بت اور غیر اللہ کے آستانے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ» [ الحج: ۳۰ ] ”پس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔“ یعنی پلیدی سے بچو، جو بت ہیں۔ علاوہ ازیں {” الزُّوْرِ “} (پلیدی) میں ہر قسم کے فاسد اعتقاد، برے اخلاق، جھوٹے اقوال، قبیح اخلاق اور نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی تمام نجاستیں شامل ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں داعی کو خود کو ہر لحاظ سے پاک صاف رکھنے کی تاکید ہے، کیونکہ اگر وہ خود ہی ناپاک یا آلودہ ہو گا تو اس کی دعوت کیا اثر کرے گی؟
اور (کسی پر) احسان نہ کیجئے زیادہ حاصل کرنے کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور( اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
6۔ 1 یعنی احسان کرکے یہ خواہش نہ کر کہ بدلے میں اس سے زیادہ ملے گا۔
(آیت 6){ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ: ”مَنَّ يَمُنُّ“} احسان کرنا۔ {”اِسْتَكْثَرَ“} (استفعال) زیادہ طلب کرنا۔ {”اِسْتَكْثَرَ الشَّيْءَ“} کا معنی کسی چیز کو زیادہ سمجھنا بھی آتا ہے۔ یعنی آپ کسی پر احسان کریں تو اس نیت سے نہیں کہ مجھے اس سے زیادہ ملے گا۔ نہ راہ حق کی طرف رہنمائی کے احسان پر کسی سے کوئی توقع رکھیں، نہ کسی کو کچھ دے کر اس سے زیادہ حاصل ہونے کی طلب رکھیں، توقع اور طلب صرف اپنے پروردگار سے رکھیں۔ اس کے علاوہ یہ معنی بھی درست ہے کہ آپ کسی پر جتنا بھی احسان کریں اسے زیادہ نہ سمجھیں۔ اس آیت میں داعی کو ہر قسم کے طمع اور لالچ سے اجتناب کا حکم ہے، کیونکہ یہ چیز دعوت الی اللہ کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7) {وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْ:} یعنی آپ کسی پر جو احسان کریں یا کسی کو جو عطیہ دیں اس کی جزا صرف اپنے رب ہی سے لینے کے لیے صبر کریں۔ {” وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْ “} میں یہ معنی بھی داخل ہے کہ آپ کو حق کا پیغام پہنچانے میں بہت سے مصائب و مشکلات کا سامنا ہو گا، عرب و عجم سے لڑائی درپیش ہو گی، آپ ان تمام مصائب پر صبر کریں اور یہ صبر صرف اور صرف اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے ہو، اس ہمت اور اولو العزمی کے بغیر دعوت کا کام سر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ لقمان نے اپنے بیٹے کو فرمایا تھا: «وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ» [ لقمان: ۱۷ ] ”اور نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، یقینا یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9،8) {فَاِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُوْرِ …: ” النَّاقُوْرِ “ ”نَقَرَ يَنْقُرُ“} (ن) سے {”فَاعُوْلٌ“} کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے پھونکنا، ایسی ضرب لگانا کہ سوراخ ہو جائے، مراد صور ہے۔ شروع سورت میں ڈرانے کا حکم ہے، اب اس کی تفصیل ہے کہ جس دن صورمیں پھونکا جائے گا اور ہر چیز فنا ہو نے کے بعد دوبارہ سب لوگ قبروں سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو وہ ایک مشکل دن ہوگا۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۱؎ [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4922]
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ۱؎ [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں }۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ { پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔ پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ { وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3238]
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» ۱؎ [74-المدثر:7] تک اتریں۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ’ کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو ‘۔ پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔ عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں ‘۔ عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔ ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:1] ’ اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:142] ’ اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ‘۔
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ‘۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ’ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ طلب خیر میں غفلت نہ برتو ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ‘، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے ’ ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ‘۔ «نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ } ۱؎ [مسند احمد:1/326:صحیح] پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے ‘۔ زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
10۔ 1 یعنی قیامت کا دن کافروں پر بھاری ہوگا کیونکہ اس روز کفر کا نتیجہ انہیں بھگتنا ہوگا، جو جرم وہ دنیا میں کرتے رہے ہونگے۔
(آیت 10){عَلَى الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ:} پہلے{ ” يَوْمٌ عَسِيْرٌ “} (وہ ایک مشکل دن ہے) فرمایا، پھر فرمایا: «عَلَى الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ» ”جو کافروں پر آسان نہیں ہے۔“ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشکل ہوتا ہی وہ ہے جو آسان نہ ہو، تو اس صراحت کامطلب کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ اس مشکل دن میں کوئی نہ کوئی آسانی بھی ہو سکتی ہے، یا ممکن ہے شروع میں مشکل ہو مگر پھر آسانی ہو جائے، اس لیے فرمایا کفار کے لیے تو اس دن کوئی آسانی نہیں، نہ شروع میں نہ بعد میں۔ ہاں، اہلِ ایمان کے لیے آسانی ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ» [ الأنبیاء: ۱۰۳ ] ”وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انھیں غمگین نہیں کرے گی۔“ اور اگر شروع میں کچھ شدت محسوس ہوئی بھی تو بعد میں آسانی ہو جائے گی۔
چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مجھے اور اسے چھوڑ دے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا
علامہ محمد حسین نجفی
مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیجئے جسے میں نے تنہا پیدا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
چھوڑ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا ‘۔
11۔ 1 یہ کلمہ وعید و تہدید ہے کہ اسے، جسے میں نے ماں کے پیٹ میں اکیلا پیدا کیا، اس کے پاس مال تھا نہ اولاد، اور مجھے اکیلا چھوڑ دو، یعنی میں خود ہی اس سے نمٹ لوں گا، کہتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ کفر و طغیان میں بہت بڑھا ہوا تھا، اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ واللہ عالم۔
(آیت 11) ➊ {ذَرْنِيْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو جھٹلانے میں سب سے پیش پیش مکہ کے بڑے بڑے سردار تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی خوش حالی اور دنیوی نعمتیں عطا فرمائی ہوئی تھیں، مگر انھوں نے مال و اولاد، جاہ و حشمت اور اقتدار پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا دیا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے بجائے اسے جادو اور انسانی کلام قرار دیا۔ ان لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دیں، میں جانوں اور یہ جانیں، ان کا بندو بست میں خود کروں گا۔ ان آیات سے اکثر مفسرین نے اگرچہ ایک خاص شخص ولید بن مغیرہ مراد لیا ہے، مگر {” وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا “} میں {” مَنْ “} کا لفظ واحد ہونے کے باوجود معنی کے لحاظ سے عام ہے اور آیت میں مذکور مال و دولت اور اولاد و اقتدار صرف ولید ہی کے پاس نہ تھا اور نہ ہی وہ اکیلا قرآن کو جادو اور انسانی کلام قرار دیتا تھا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے اکثر متکبرین کا یہی حال تھا،اس لیے ان آیات میں ان سب کو تنبیہ کی گئی ہے۔ ہاں، یہ درست ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ پر بھی صادق آتی ہیں اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو ان آیات سے مراد ہیں اور ان آیات کے اس کے متعلق نازل ہونے کا مطلب بھی یہی ہے، مگر وہ اکیلا ان آیات کا مصداق نہیں بلکہ ان سے ولید بن مغیرہ کے علاوہ ان صفات والے تمام متکبر مراد ہیں، خواہ وہ مکہ کے رہنے والے ہوں یا دنیا کے کسی دوسرے خطہ میں رہنے والے ہوں۔ ➋ { ” خَلَقْتُ وَحِيْدًا “} کے دو معانی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ میں نے اسے اس حال میں پیدا کیا کہ وہ اکیلا تھا، نہ اس کی خدمت میں حاضر رہنے والے بیٹے تھے اور نہ کوئی مال و متاع۔ ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا آتا ہے، مال و اولاد، فوج و لشکر اور سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ» [ الأنعام: ۹۴ ] ”اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے، جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔“ دوسرا یہ کہ میں نے اکیلے ہی اسے پیدا کیا اور اسے یہ سب کچھ عطا کیا، اسے پیدا کرنے میں یا یہ مال و اولاد عطا کرنے میں کوئی دوسرا میرے ساتھ شریک نہ تھا۔
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12تا14){وَ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا …: ” مَمْدُوْدًا “ ”مَدَّ يَمُدُّ“} (ن) سے اسم مفعول ہے، پھیلایا ہوا۔ یعنی مال مویشی، کھیت، باغات، کاروبار اور تجارت وغیرہ ہر قسم کا لمبا چوڑا مال عطا کیا۔ {” شُهُوْدًا “ ”شَاهِدٌ“} کی جمع ہے، ہر وقت خدمت میں حاضر بیٹے عطا کیے۔ بیٹے اللہ کی نعمت ہیں اور پاس رہ کر سارا کام سنبھال لیں اور خدمت کے لیے مستعدرہیں تو مزید نعمت ہیں۔ {” مَهَّدْتُّ “} (تفعیل) بچھانا، مہیا کرنا۔ یعنی مال و اولاد کے ساتھ جاہ و حشمت اور سرداری کے تمام اسباب اس کے لیے ہموار کر دیے۔
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا ‘۔
13۔ 1 اسے اللہ نے اولاد سے نوازا تھا اور وہ ہر وقت اس کے پاس ہی رہتے تھے، گھر میں دولت کی فروانی تھی، اس لئے بیٹوں کو تجارت و کاروبار کے لئے باہر جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی بعض کہتے ہیں کہ اس کے تین بیٹے مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید (فتح القدیر)
اور اس کیلئے (سرداری کا) ہر قِسم کا سامان مہیا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور میں نے اس کے لیے سامان تیار کیا، ہر طرح تیار کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا ‘۔
14۔ 1 یعنی مال و دولت میں ریاست و سرداری میں اور درازی عمر میں۔
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا ‘۔
15۔ 1 یعنی کفر و معصیت کے باوجود، اس کی خواہش ہے کہ میں اسے زیادہ دوں۔
(آیت 15) {ثُمَّ يَطْمَعُ اَنْ اَزِيْدَ:} پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور دوں گا، یعنی اتنا کچھ ملنے کے باوجود دنیا میں اس کی حرص ختم نہیں ہوئی بلکہ آخرت میں اسے مزید ملنے کی توقع ہے۔ کفار کا کہنا تھا کہ اگر واقعی قیامت قائم ہوئی تو مال و اولاد وہاں بھی ہمیں کو ملیں گے۔ وہ دنیا میں ملنے والے مال و اولاد اور جاہ و حشمت کو آزمائش کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے کی دلیل قرار دیتے تھے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۷۷ تا۸۰)۔
ہرگز نہیں! یقینا وہ ہماری آیات کا سخت مخالف رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
16۔ 1 یعنی میں اسے زیادہ نہیں دونگا۔ عنید اس شخص کو کہتے ہیں جو جاننے کے باوجود حق کی مخالفت کرے اور اس کو رد کرے۔
(آیت 16){ كَلَّا اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا: ” عَنِيْدًا “} (ن،ض) حق کو پہچانتے ہوئے ضد کی وجہ سے مخالفت کرنے والا۔ {” كَانَ “} سے ہمیشگی کا مفہوم نکل رہا ہے، {” كَلَّا “} ہرگز نہیں۔ یعنی اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، مزید نوازش و مہربانی کا حق دار تو تب تھا جب وہ ہماری بات مانتا، وہ تو ہمیشہ سے ہماری آیات کا شدید مخالف رہا ہے۔
میں عنقریب (دوزخ کی) ایک سخت چڑھائی پر اسے چڑھا دوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب میں اسے ایک دشوار گھاٹی چڑھنے کی تکلیف دوں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
17۔ 1 یعنی ایسے عذاب میں مبتلا کروں گا جس کا برداشت کرنا نہایت سخت ہوگا، بعض کہتے ہیں، جہنم میں آگ کا پہاڑ ہوگا جس پر اس کو چڑھایا جائے گا (فتح القدیر)
(آیت 17) {سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًا: ” سَاُرْهِقُهٗ “ ”أَرْهَقَ يُرْهِقُ“} (افعال) کسی کو ایسے کام کی تکلیف دینا جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ {” صَعُوْدًا “ ”صَعِدَ يَصْعَدُ“} (س) (چڑھنا) سے سخت دشوار گھاٹی۔ یعنی میں اسے قیامت کے دن ایک دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کے لیے مجبور کروں گا۔ قیامت کے دن کی اور جہنم کی مصیبتیں جھیلنے پر مجبور کرنے کو دشوار چڑھائی کی تکلیف دینے کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ ترمذی میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ” صعود“ آگ کا ایک پہاڑ ہے جس پر کافر ہمیشہ ستر (۷۰) برس چڑھتا رہے گا اور اتنا عرصہ ہی اترتا رہے گا۔ (دیکھیے ترمذی: ۲۵۷۶، ۳۳۲۶) مگر اس کی سند کمزور ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
18۔ 1 یعنی قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سن کر، اس نے اس امر پر غور کیا کہ میں اس کا جواب دوں؟ اور اپنے جی میں اس نے وہ تیار کیا۔
(آیت 18تا25) {اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَ …:} کفار کو مشکل یہ در پیش تھی کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید سے دور رکھنے کے لیے اس کے متعلق جو کچھ بھی کہتے کوئی اسے ماننے کے لیے تیار نہیں تھا، خود ان کے دل اس سے انکار کرتے تھے۔ وہ قرآن کو شعر، کہانت اور جادو کہہ کر اس سے متنفر کرتے تھے، مگر جانتے اور مانتے تھے کہ نہ اس میں شاعروں کے شعر کا مبالغہ یا جھوٹ ہے، نہ کاہنوں کی تک بندی ہے اور نہ جادوگروں کے ٹونے ٹوٹکے۔ اس لیے ان کے بڑے بڑے سرداروں نے، جن میں ولید بن مغیرہ بھی شامل تھا، اپنے دماغ کی ساری صلاحیتیں صرف کرکے جو نتیجہ نکالا وہ دو باتوں پر مشتمل تھا، ایک یہ کہ یہ وہی جادو ہے جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے، کیونکہ یہ قرآن اتنا پر تاثیر ہے کہ بھائی کو بھائی سے اور باپ کو بیٹے سے جدا کر دیتا ہے، حالانکہ وہ جادو اور جادوگروں سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ ہر مؤثر کلام جادو نہیں ہوتا۔ دوسرا نتیجہ قرآن کی عظمت گھٹانے کے لیے یہ نکالا کہ یہ ربانی کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، حالانکہ ان کے سامنے یہ چیلنج موجود تھا کہ اگر یہ انسانی کلام ہے تو تم اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر لے آؤ۔ آج بھی یورپ و امریکہ اور دوسرے ممالک کے تحقیقی ادارے مسلمان طالب علموں کو بھاری وظیفے دے دے کر اپنے اداروں میں اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرواتے ہیں کہ کسی طرح یہ ثابت ہو جائے کہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصنیف ہے، حالانکہ اتنی محنت کے بجائے یہی کافی تھا کہ وہ تین آیات ہی کی کوئی ایک سورت پیش کر دیتے جو وہ نہیں کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں۔ {” اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَ “} سے {” ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَ “} تک ان کیفیات کا ذکر ہے جن کا اظہار کرکے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ اپنے دماغ کی آخری قوت تک صرف کرکے یہ نتیجہ نکال رہے ہیں، حالانکہ ان کے تیوری چڑھانے، برا منہ بنانے اور تکبر سے پیٹھ پھیر کر بات کرنے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ یہ بات انصاف سے نہیں کہہ رہے، بلکہ اس کا باعث صرف اور صرف عناد اور تکبر تھا۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
20۔ 1 یہ اس کے حق میں بد دعائیہ کلمے ہیں، کہ ہلاک ہو، مارا جائے، کیا بات اس نے سوچی ہے؟
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
21۔ 1 یعنی پھر غور کیا کہ قرآن کا رد کس طرح ممکن ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
22۔ 1 یعنی جواب سوچتے وقت چہرے کی سلوٹیں بدلیں، اور منہ بسورا، جیسا کہ عمومًا کسی مشکل بات پر غور کرتے وقت آدمی ایسا کرتا ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
23۔ 1 یعنی حق سے انکار کیا اور ایمان لانے سے تکبر کیا۔
آخرکار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آ رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہنے لگا تو یہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر بولا یہ تو وہی جادو ہے اگلوں سے سیکھا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر کہا کہ یہ تو محض جادو ہے جو پہلوں سے نقل ہوتا ہوا آرہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس نے کہا یہ جادو کے سوا کچھ نہیں، جو نقل کیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
24۔ 1 یعنی کسی سے یہ سیکھ آیا ہے اور وہاں سے نقل کر لایا ہے اور دعویٰ کردیا کہ اللہ کا نازل کردہ ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 27،26){ سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ …: ” سَقَرَ “} جہنم کا ایک نام ہے، علم اور مؤنث ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ سقر (جہنم) کیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
27۔ 1 دوزخ کے ناموں یا درجات ایک کا نام سَقَرُ بھی ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
28۔ 1 ان کے جسموں پر گوشت چھوڑے گی نہ ہڈی، یا مطلب ہے جہنمیوں کو زندہ چھوڑے گی نہ مردہ،
(آیت 28){ لَا تُبْقِيْ وَ لَا تَذَرُ: ” لَا تُبْقِيْ “ ”أَبْقٰي يُبْقِيْ“} (افعال) باقی رکھنا۔ {”أَبْقٰي عَلَيْهِ “} رحم کرنا۔ یعنی وہ ان کی کوئی چیز جلانے سے باقی نہیں رکھے گی، اس پر بھی انھیں چھوڑے گی نہیں کہ ان کا قصہ تمام ہو جائے، بلکہ انھیں دوبارہ پہلے کی طرح بنا دیا جائے گا اور جہنم پھر انھیں جلائے گی، جیساکہ فرمایا: «كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ» [ النساء: ۵۶ ] ”جب بھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم انھیں ان کے علاوہ اور کھالیں بدل دیں گے، تاکہ وہ عذاب چکھیں۔“ اور فرمایا: «ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى» [ الأعلٰی: ۱۳ ] ”پھر وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔“ اگر {” لَا تُبْقِيْ “} کے بعد {”عَلَيْهِمْ“} مقدر مانیں تو معنی ہو گا ”نہ وہ ان پر رحم کرے گی اور نہ انھیں چھوڑے گی۔“ یہ معنی بھی درست ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 29) {لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ: ” لَوَّاحَةٌ “ ”لَاحَ يَلُوْحُ“} (ن) اور {”لَوَّحَ يُلَوِّحُ“} (تفعیل) کا معنی جلانا، متغیر کرنا بھی آتا ہے اور ظاہر ہونا اور چمکنا بھی آتا ہے۔ {”اَلْبَشَرُ“ ”بَشَرَةٌ “} کی جمع ہے، کھالیں، یا {”اَلْبَشَرُ“} بمعنی آدمی ہے۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ وہ کھالوں کو جلا کر سیاہ کر دینے والی ہے (کھالوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا کہ آدمی کو اپنے جس حسن و جمال پر ناز ہوتا ہے وہ اسی کھال ہی کی وجہ سے ہوتا ہے) یا وہ آدمیوں کو جلا دینے والی ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہے کہ وہ جسم پر چمکتی ہوئی نظر آئے گی۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”جیسے لوہا دہکتا سرخ نظر آتا ہے، آدمی کے پنڈے پر وہ سرخ نظر آئے گی۔“ (موضح)
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے ‘، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔ ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔ اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ’ ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ‘۔
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» ۱؎ [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ ۱؎ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
مسند بزار میں ہے کہ { جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ }۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
30۔ 1 یعنی جہنم پر بطور دربان 19 فرشتے مقرر ہیں
(آیت 31،30) ➊ {عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ …:} اللہ تعالیٰ نے جب جہنم پر مامور اشخاص کی تعداد انیس (۱۹) بتائی تو ساتھ ہی اس ٹھٹھے اور مذاق کا جواب بھی ذکر کر دیا جو کافر اڑا سکتے تھے اور انھوں نے اڑایا بھی کہ انیس (۱۹) شخص ہم ہزاروں لاکھوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ فرمایا، ہم نے جہنم پر جن لوگوں کو مقرر کیا ہے وہ فرشتے ہیں اور فرشتہ تو ایک بھی ہو تو تم سب کے لیے کافی ہے۔ ➋ جہنم کے فرشتوں کی تعداد بتانے کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ کافروں کی آزمائش ہو جائے گی، انھوں نے اپنے خبث باطن کا جو اظہار کرنا ہے کرلیں گے، جومذاق اڑانا ہے اڑا لیں گے اور اہلِ کتاب کو اس کے حق ہونے کا یقین ہو جائے گا، کیونکہ یہ تعداد ان کی کتاب کے مطابق ہے، یا وہ اپنی کتابوں کی وجہ سے فرشتوں کی غیر معمولی قوتوں کو جانتے ہیں اور ایمان والوں کا ایمان مزید بڑھ جائے گا اور اہلِ کتاب اور ایمان والوں کو اس کے حق ہونے میں کوئی شک نہیں رہے گا۔ ہاں کفار اور وہ لوگ جن کے دلوں میں حسد اور بغض کا مرض ہے، یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ مثال بیان کرنے سے کیا مقصد ہے؟ فرمایا دیکھ لو ایک ہی بات ہے، مگر کسی کے حصے میں اس سے انکار آیا اور کسی کو ایمان و یقین کی دولت نصیب ہوگئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے مچھر اور اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان کرنے پر ایمان والے تو اس کے حق ہونے کی تصدیق کریں گے اور کافر یہی کہیں گے کہ اس قسم کی مثال بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصد ہے؟ (دیکھیے بقرہ: ۲۶) اور اہل ایمان تو قرآن کی محکم و {متشابه} ہر قسم کی آیات پر بلاچون و چرا ایمان لائیں گے، مگر جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ جوئی کے لیے {متشابهات} کے پیچھے لگے رہیں گے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۷)۔ معلوم ہوا اللہ تعالیٰ کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ جو بات اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے آئے اس پر ہم یقین کریں اور ایمان لائیں خواہ اس کی حکمت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو، جب یہ اعتراض فضول ہے کہ انسان کو مٹی سے کیوں بنایا؟ جنوں کو آگ سے کیوں بنایا؟ بچہ ماں کے پیٹ میں نو ماہ کیوں رہتا ہے؟ انڈے سے بچہ اکیس دنوں میں کیوں نکلتا ہے؟کچھوے کی عمر طویل کیوں ہوتی ہے؟ وغیرہ وغیرہ، تو یہ اعتراض کیوں کہ جہنم پر انیس (۱۹) فرشتے کیوں مقرر کیے ہیں؟ ایمان والوں کے پاس اس قسم کی تمام باتوں کا ایک ہی جواب ہے کہ مالک کی مرضی ہے جو چاہے کرے۔ اس مقام پر بعض مفسرین نے جہنم پر مامور فرشتوں کی تعداد انیس ہونے کی حکمت اپنی عقلی موشگافیوں سے بیان کی ہے جو سراسر تکلف ہے۔ یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اہل ایمان کا ایمان آیاتِ الٰہی سننے سے بڑھ جاتا ہے۔ تعجب ہے ان لوگوں پر جو قرآن کی واضح آیات کے باوجود کہتے ہیں کہ ایمان نہ زیادہ ہوتا ہے نہ کم۔ اب قرآن کی صاف آیات کے بعد انھیں قائل کرنے کے لیے کون سی چیز پیش کی جائے۔ ➌ { وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ:} یہ اس لیے فرمایا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کارکنوں کی کمی ہے، یعنی فرشتے تو اس کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہیں، اللہ کے پاس اتنے لشکر ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی انھیں جانتا ہی نہیں، پھر ان لشکروں میں سے ہر ایک کی تعداد بھی وہی جانتا ہے۔ حدیث معراج میں ساتویں آسمان کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَرُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُوْرُ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيْلَ فَقَالَ هٰذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُوْرُ يُصَلِّيْ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَكٍ، إِذَا خَرَجُوْا لَمْ يَعُوْدُوْا إِلَيْهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ…: ۳۲۰۷ ] ”پھر بیتِ معمور میرے سامنے ظاہر کیا گیا، میں نے جبریل سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ یہ بیتِ معمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں، جب نکل جاتے ہیں تو اپنے آخری وقت تک دوبارہ یہاں نہیں آسکتے۔“ {” وَ مَا هِيَ “} سے مراد وہ آیات ہیں جن میں {” سَقَرَ “} کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔
ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے، تاکہ اہل کتاب کو یقین آ جائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہو سکتا ہے اِس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں۔ اور ہم نے ان کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کی ہے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں، اوراہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وه اور کافر کہیں کہ اس بیان سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، یہ تو کل بنی آدم کے لیے سراسر پند ونصیحت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے بنائے ہیں اور ہم نے ان کی تعداد کو کافروں کیلئے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ اہلِ کتاب یقین کریں اور اہلِ ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے اور اہلِ کتاب اور اہلِ ایمان شک و شبہ نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر لوگ کہیں گے کہ اس بیان سے اللہ کی کیا مراد ہے؟ اسی طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور یہ (دوزخ کا) بیان نہیں ہے مگر انسانوں کے لئے نصیحت۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے جہنم کے محافظ فرشتوں کے سوا نہیں بنائے اور ان کی تعداد ان لوگوں کی آزمائش ہی کے لیے بنائی ہے جنھوں نے کفر کیا، تاکہ وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی ہے، اچھی طرح یقین کر لیں اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ایمان میں زیادہ ہو جائیں اور وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی ہے اور ایمان والے شک نہ کریں اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو کفر کرنے والے ہیں کہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا ہے؟ اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ باتیں بشر کی نصیحت ہی کے لیے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں ‘۔ اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ’ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا کہ ’ اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے ‘، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے ‘۔ یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ’ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ ‘ بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3207]
مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ ۱؎ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔ طبرانی میں ہے { ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا } ۱؎ [طبرانی اوسط:3592:ضعیف] امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ { حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
دوسری روایت میں ہے { آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» ۱؎ [37-الصافات:166-164] یعنی ’ ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں ‘ }۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے، دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔ ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت» ، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف] اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے ‘۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے ‘۔
31۔ 1 یہ مشرکین قریش کا رد ہے، جب جہنم کے دروغوں کا اللہ نے ذکر فرمایا تو ابو جہل نے جماعت قریش کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میں سے ہر دس آدمیوں کا گروپ، ایک ایک فرشتے کے لئے کافی نہیں ہوگا، بعض کہتے ہیں کہ کالدہ نامی شخص نے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا، کہا، تم سب صرف دو فرشتے سنبھال لینا، 17 فرشتوں کو تو میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ کہتے ہیں اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کشتی کا بھی کئی مرتبہ چلینج دیا اور ہر مرتبہ شکست کھائی مگر ایمان نہیں لایا، کہتے ہیں اس کے علاوہ رکانہ بن عبد یزید کے ساتھ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشتی لڑی تھی لیکن وہ شکست کھا کر مسلمان ہوگئے تھے (ابن کثیر) مطلب یہ کہ یہ تعداد بھی ان کے مذاق یا آزمائش کا سبب بن گئی۔ 31۔ 2 یعنی جان لیں کہ رسول برحق ہے اور اس نے وہی بات کی ہے جو پچھلی کتابوں میں بھی درج ہے۔ 31۔ 3 کہ اہل کتاب نے ان کے پیغمبر کی بات کی تصدیق کی ہے 31۔ 4 بیمار دلوں سے مراد منافقین ہیں یا پھر وہ جن کے دلوں میں شکوک تھے کیونکہ مکہ میں منافقین نہیں تھے۔ یعنی یہ پوچھیں گے کہ اس تعداد کو یہاں ذکر کرنے میں اللہ کی کیا حکمت ہے؟ 31۔ 5 یعنی گذشتہ گمراہی کی طرح جسے چاہتا ہے گمراہ اور جسے چاہتا ہے، راہ یاب کردیتا ہے، اس میں حکمت بالغہ ہوتی ہے اسے صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ 31۔ 6 یعنی کفار و مشرکین سمجھتے ہیں کہ جہنم میں 19 فرشتے ہی تو ہیں، جن پر قابو پانا کون سا مشکل کام ہے؟ لیکن ان کو معلوم نہیں کہ رب کے لشکر تو اتنے ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہی نہیں۔ صرف فرشتے ہی اتنی تعداد میں ہیں کہ 70 ہزار فرشتے روزانہ اللہ کی عبادت کے لئے بیت المعمور میں داخل ہوتے ہیں، پھر قیامت تک ان کی باری نہیں آئے گی۔ (صحیح بخاری) 31۔ 7 یعنی یہ جہنم اور اس پر مقرر فرشتے، انسانوں کی پند و نصیحت کے لئے ہیں کہ شاید وہ نافرمانیوں سے باز آجائیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں ‘۔ اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ’ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا کہ ’ اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے ‘، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے ‘۔ یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ’ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ ‘ بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3207]
مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ ۱؎ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔ طبرانی میں ہے { ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا } ۱؎ [طبرانی اوسط:3592:ضعیف] امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ { حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
دوسری روایت میں ہے { آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» ۱؎ [37-الصافات:166-164] یعنی ’ ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں ‘ }۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے، دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔ ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت» ، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف] اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے ‘۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 32تا37) {كَلَّا وَ الْقَمَرِ …:” كَلَّا “} ہر گز نہیں، یعنی جہنم یا اس پر مامور فرشتوں کی تعداد سے انکار ہرگز درست نہیں۔ اس کے بعد تین چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ جہنم یقینا بہت ہی بڑی چیز ہے۔ ان قسموں کی مناسبت جواب قسم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم کا انکار کرنے والوں کا انکار اس لیے ہے کہ وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور ان کے خیال میں اتنی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیز کا موجود ہونا ممکن نہیں۔ فرمایا اس کائنات میں چاند کو دیکھو، وہ ہلال سے بدر اور بدر سے ہلال ہونے تک روزانہ جن مراحل سے گزرتا ہے ان پر غور کرو، رات کو دیکھو جب وہ رخصت ہوتی ہے اور کائنات میں روزانہ ایک عظیم انقلاب رونما ہوتا ہے، پھر صبح کو دیکھو جب روشن ہوتی ہے تو رات کی ظلمت اپنا بوریا بستر سمیٹ لیتی ہے۔ ان میں سے ہر چیز اللہ کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے، ان میں سے کوئی بھی چیز اگر تم نے دیکھی نہ ہوتی اور تمھیں اس کے متعلق بتایا جاتا تو تم اس کا اسی طرح انکار کر دیتے جس طرح جہنم کا انکار کر رہے ہو؟ جب اتنی بڑی بڑی حقیقتیں تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور تمھیں ان کے موجود ہونے میں کوئی شک نہیں تو ان چیزوں کا پیدا کرنے والا تمھیں بتا رہا ہے کہ یقینا جہنم بھی اس کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے، اس میں تمھیں شک کیوں ہے؟ ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ تمھارا یہ جلدی مچانا بھی بے محل ہے کہ اگرسچے ہو تو ابھی لاؤ وہ قیامت اور جہنم جس سے ڈراتے ہو۔ فرمایا چاند کا ہلال سے بدر اور بدر سے ہلال تک پہنچنا، رات کا جانا اور صبح کا روشن ہونا اور کائنات کے بڑے بڑے انقلابات میں سے ہر انقلاب اپنے مقرر وقت پر آتا ہے، کبھی وقت سے پہلے نہیں آتا، اسی طرح تم یقینا درجہ بدرجہ قیامت کی طرف جا رہے ہو اور بہت جلد جہنم تمھارے سامنے آجائے گی۔سورۃ انشقاق کی آیات (۱۶ تا ۱۹) میں یہ مضمون بیان ہوا ہے، تفصیل کے لیے ان آیات کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ {” الْكُبَرِ “ ”كُبْرٰي“} کی جمع ہے، جو {”أَكْبَرُ“} کی مؤنث ہے۔ {” نَذِيْرًا “} ڈرانے والی، {”فَعِيْلٌ“} کا وزن مذکر و مؤنث اور واحد، تثنیہ و جمع سب کے لیے آجاتا ہے۔ یعنی یہ انسانوں کو ڈرانے والی ہے، ان انسانوں کو جنھیں اختیار ہے کہ یہ جہنم سے ڈرانے والی آیات سن کرچاہیں تو ایمان قبول کرکے جنت کی طرف بڑھ جائیں اور چاہیں تو پیچھے رہ کر جہنم کے سزاوار بن جائیں، جیساکہ فرمایا: «فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْيَكْفُرْ» [ الکہف: ۲۹ ] ”پھر جو چاہے سو ایمان لے آئے اور جو چاہے سو کفر کرے۔“ یعنی ایمان و کفر دونوں کا اختیار ہے، ہاں، کفر کی اجازت نہیں اور نہ وہ اللہ کو پسند ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ» [ الزمر: ۷ ] ”اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا۔“
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں ‘۔ اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ’ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا کہ ’ اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے ‘، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے ‘۔ یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ’ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ ‘ بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3207]
مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ ۱؎ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔ طبرانی میں ہے { ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا } ۱؎ [طبرانی اوسط:3592:ضعیف] امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ { حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
دوسری روایت میں ہے { آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» ۱؎ [37-الصافات:166-164] یعنی ’ ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں ‘ }۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے، دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔ ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت» ، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف] اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے ‘۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے ‘۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں ‘۔ اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ’ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا کہ ’ اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے ‘، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے ‘۔ یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ’ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ ‘ بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3207]
مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ ۱؎ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔ طبرانی میں ہے { ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا } ۱؎ [طبرانی اوسط:3592:ضعیف] امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ { حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
دوسری روایت میں ہے { آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» ۱؎ [37-الصافات:166-164] یعنی ’ ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں ‘ }۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے، دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔ ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت» ، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف] اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے ‘۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے ‘۔
بلاشبہ وہ (جہنم) یقینا بہت بڑی چیزوں میں سے ایک ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں ‘۔ اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ’ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا کہ ’ اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے ‘، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے ‘۔ یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ’ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ ‘ بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3207]
مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ ۱؎ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔ طبرانی میں ہے { ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا } ۱؎ [طبرانی اوسط:3592:ضعیف] امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ { حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
دوسری روایت میں ہے { آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» ۱؎ [37-الصافات:166-164] یعنی ’ ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں ‘ }۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے، دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔ ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت» ، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف] اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے ‘۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے ‘۔
35۔ 1 یہ جواب قسم ہے کُبَر، کُبْرَیٰ کی جمع ہے تین نہایت اہم چیزوں کی قسموں کے بعد اللہ نے جہنم کی بڑائی اور ہولناکی کو بیان کیا ہے جس سے اس کی بڑائی میں کوئی شک نہیں رہتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں ‘۔ اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ’ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا کہ ’ اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے ‘، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے ‘۔ یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ’ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ ‘ بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3207]
مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ ۱؎ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔ طبرانی میں ہے { ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا } ۱؎ [طبرانی اوسط:3592:ضعیف] امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ { حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
دوسری روایت میں ہے { آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» ۱؎ [37-الصافات:166-164] یعنی ’ ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں ‘ }۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے، دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔ ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت» ، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف] اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے ‘۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے ‘۔
تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(یعنی) اسے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے
احمد رضا خان بریلوی
اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے یا پیچھے رہے
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی تم میں سے (ہر اس) شخص کیلئے جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے لیے جو تم میں سے چاہے کہ آگے بڑھے، یا پیچھے ہٹے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں ‘۔ اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ’ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا کہ ’ اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے ‘، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے ‘۔ یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ’ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ ‘ بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3207]
مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ ۱؎ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔ طبرانی میں ہے { ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا } ۱؎ [طبرانی اوسط:3592:ضعیف] امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ { حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
دوسری روایت میں ہے { آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» ۱؎ [37-الصافات:166-164] یعنی ’ ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں ‘ }۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے، دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔ ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت» ، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف] اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ ۱؎ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے ‘۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے ‘۔
37۔ 1 یعنی یہ جہنم ڈرانے والی ہے یا نذیر سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا قرآن بھی اپنے بیان کردہ وعد و وعید کے اعتبار سے انسانوں کے لئے نذیر ہے۔ اور ایمان واطاعت میں آگے بڑھنا چاہیے یا اس سے پیچھے ہٹنا چاہیے مطلب ہے کہ انداز ہر ایک کے لیے ہے جو ایمان لائے یا کفر کرے۔
ہر شخص اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی رکھا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
38۔ 1 رہن گروی کو کہتے ہیں یعنی ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہے، وہ عمل اسے عذاب سے چھڑا لے گا، (اگر نیک ہوگا) یا ہلاک کروا دے گا۔ (اگر برا ہے)
(آیت 39،38) {كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ …:} یعنی جس طرح کوئی گروی رکھی ہوئی چیز اس وقت تک نہیں چھوٹتی جب تک وہ حق ادا نہ کر دیا جائے جس کے بدلے اسے گروی رکھا گیا ہے، اسی طرح ہر شخص اپنے عمل کے عوض گروی اور گرفتار ہو گا، جب تک وہ عمل پیش نہ کرے جس کی ادائیگی اس پر واجب تھی، رہائی نہیں پا سکتا۔ ہاں جنھیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ گرفتار نہیں ہو ں گے بلکہ اعمالِ صالحہ کی وجہ سے رہا ہو جائیں گے، جس طرح حق ادا کرنے سے گروی چھوٹ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
39۔ 1 یعنی وہ گناہوں کے اسیر نہیں ہوں گے بلکہ اپنے نیک اعمال کی وجہ سے آزاد ہونگے۔
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
40۔ 1 اہل جنت بالاخانوں میں بیٹھے، جہنمیوں سے سوال کریں گے۔
(آیت 40تا42) ➊ {فِيْ جَنّٰتٍ يَتَسَآءَلُوْنَ…:} یعنی اصحاب الیمین جنتوں میں ایک دوسرے سے مجرموں کے بارے میں سوال کریں گے کہ فلاں مجرم کا کیا بنا اور فلاں کدھر گیا؟ ذرا جہنم ہی میں انھیں تلاش کریں، پھر جہنم میں جھانک کر دیکھیں گے اور وہ انھیں وہاں نظر آئیں گے تو ان سے کہیں گے: «مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ» ”تمھیں جہنم میں کس چیز نے داخل کیا؟“ آیات کی یہ تفسیر{” يَتَسَآءَلُوْنَ “} (تفاعل) اور{” عَنْ “} کے اس ترجمے کے مطابق ہے جو اکثر استعمال ہوا ہے۔ {” مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ “} سے پہلے {”يَقُوْلُوْنَ لَهُمْ“} مقدر ہے۔ سورۂ صافات میں اس سے ملتا جلتا منظر مذکور ہے، فرمایا: «فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ (50) قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ اِنِّيْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ (51) يَّقُوْلُ اَىِٕنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِيْنَ (52) ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِيْنُوْنَ (53) قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ (54) فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِيْ سَوَآءِ الْجَحِيْمِ (55) قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِيْنِ (56) وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ (57) اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ (58) اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ (59) اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ (60) لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ» [ الصافات: ۵۰ تا ۶۱ ] ”پھر ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا بے شک میں، میرا ایک ساتھی تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تو بھی ماننے والوں میں سے ہے۔ کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا واقعی ہم ضرور جزا دیے جانے والے ہیں؟ کہے گا کیا تم جھانک کر دیکھنے والے ہو؟ پس وہ جھانکے گا تو اسے بھڑکتی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔ کہے گا اللہ کی قسم! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے ہلاک ہی کر دے۔ اور اگر میرے رب کی نعمت نہ ہوتی تو یقینا میں بھی ان میں ہوتا جو حاضر کیے گئے ہیں۔ تو کیا ہم کبھی مرنے والے نہیں ہیں۔ مگر ہماری پہلی موت اور نہ ہم کبھی عذاب دیے جانے والے ہیں۔ یقینا یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس جیسی (کامیابی) ہی کے لیے پس لازم ہے کہ عمل کرنے والے عمل کریں۔“ آیات کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” يَتَسَآءَلُوْنَ “ ”يَسْأَلُوْنَ“} کے معنی میں ہے اور {” عَنْ “} زائد ہے: {”أَيْ يَسْأَلُوْنَ الْمُجْرِمِيْنَ“} یعنی اصحاب الیمین مجرموں سے سوال کریں گے کہ تمھیں کس چیز نے جہنم میں داخل کر دیا؟ اصحاب الیمین کا جہنمیوں سے یہ سوال پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ انھیں ذلیل و خوار اور شرمندہ کرنے کے لیے ہو گا۔ ➋ ان آیات سے معلوم ہوا کہ جنت و جہنم کے درمیان بے حساب دوری کے باوجود جنتی جہنمیوں کو دیکھیں گے اور ان سے سوال و جواب بھی کریں گے۔
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43تا46) ➊ { قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ …:} جہنمی اپنے جہنم میں جانے کے چار اسباب بیان کریں گے، پہلا یہ کہ وہ نماز ادا کرنے والوں میں شامل نہ ہوئے، دوسرا یہ کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، تیسرا یہ کہ دین کی باتوں کو مذاق کرنے اور جھٹلانے کے لیے وہ مجلسوں میں بیٹھ کر فضول بحث کیا کرتے تھے اور چوتھا یہ کہ وہ روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے: (1) نماز ایمان کے ان ارکان میں سے ہے جن کے بغیر کوئی شخص اسلامی برادری میں شامل ہی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسے {” اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ “} والی اخوتِ دینی حاصل ہو سکتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ» [ التوبۃ: ۱۱ ] ”پھر اگر وہ (کفر سے) توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں۔“ بلکہ جب تک کوئی شخص ایمان قبول کرکے صلوٰۃ و زکوٰۃ ادا نہ کرے اس سے جنگ کا حکم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَلَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ يُقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَائَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَ حِسَابُهُمْ عَلَي اللّٰهِ ] [ بخاري، الإیمان، باب: «فإن تابوا وأقاموا الصلاۃ…» : ۲۵ ] ”مجھے حکم دیا گیاہے کہ میں لوگوں سے لڑتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پھر جب وہ یہ کام کریں تو انھوں نے اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ (2) جہنمیوں کا یہ اقرار کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں مساکین کو کھانا کھلانا کس قدر ضروری ہے۔ (3) اللہ کی آیات سے مذاق کرنا اور ان کے متعلق فضول بحث کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اگر کوئی مسلمان اس کا ارتکاب کرے تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ (65) لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ» [ التوبۃ: 66،65 ] ”اگر آپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے ہم تو صرف بحث اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دے کیا اللہ کے ساتھ، اس کے رسول اور اس کی آیات کے ساتھ ہی تمھیں ہنسی مذاق کرنا تھا؟ بہانے مت بناؤ، یقینا تم ایمان کے بعد بے ایمان ہو گئے ہو۔“ 4 قیامت پر یقین ایمان کی بنیادی شرط ہے، اس کے بغیر آدمی مسلمان ہی نہیں ہوتا۔ حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی تعریف یہ فرمائی: [ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ وَ مَلَائِكَتِهِ وَ كُتُبِهِ وَ رُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ تُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَ شَرِّهِ ] [ مسلم، الإیمان، باب بیان الإیمان والإسلام…:۸ ] ”(ایمان یہ ہے) کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لاؤ اور تقدیر پر، خواہ اچھی ہو یا بری، ایمان لاؤ۔“ ➋ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کفار اسلام کے تفصیلی احکام کے مخاطب نہیں ہیں اور نہ اللہ کی طرف سے انھیں اسلام کے احکام مثلاً نماز و زکوٰۃ وغیرہ بجا لانے کا حکم ہے، بلکہ ان سے مطالبہ ایمان کا ہے اور مؤاخذہ بھی اسی پر ہو گا، کیونکہ ایمان کے بغیر وہ کوئی عمل کریں بھی تو بے فائدہ ہے، مگر ان آیات سے معلوم ہوا کہ کفار کے جہنم میں جانے کا باعث اعمال کا ترک بھی ہے اور وہ اسلام کے تمام اعمال بجا لانے کے مکلف ہیں۔ ایمان لانے سے پہلے انھیں اعمال سے مستثنیٰ قرار دینا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ وضو کے بغیر چونکہ نماز قبول نہیں ہوتی، اس لیے جب تک کوئی شخص وضو نہ کرلے وہ {” اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ “} کامخاطب ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح بے وضو شخص {” اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ “} کا مخاطب ہے اور اسے حکم ہے کہ وضو کرکے نماز ادا کرے، اسی طرح کفار بھی {” اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ “} اور دوسرے تمام احکام کے مخاطب ہیں اور انھیں حکم ہے کہ ایمان لا کر یہ تمام احکام ادا کریں۔
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
44۔ 1 نماز حقوق اللہ میں سے اور مساکین کو کھانا کھلانا حقوق العباد میں سے ہے مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اللہ کے حقوق ادا کیے نہ بندوں کے۔
اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم بحﺚ کرنے والے (انکاریوں) کا ساتھ دے کر بحﺚ مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےہودہ باتیں کرنے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی بےہودہ کام کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم بے ہودہ بحث کرنے والوں کے ساتھ مل کر فضول بحث کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
45۔ 1 یعنی کج بحثی اور گمراہی کی حمایت میں سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 47) {حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ:” الْيَقِيْنُ “} سے مراد موت ہے، کیونکہ اس کے آنے پر تمام شکوک و شبہات دور ہو کر حقیقت سامنے آجائے گی۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [ الحجر: ۹۹ ] ” اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین آجائے۔“ اس سے مراد بھی موت ہے۔ دنیا میں کسی کو آخرت پر کتنا بھی یقین ہو وہ اس یقین کے برابر نہیں ہو سکتا جو موت آنے پر حاصل ہوگا۔
اُس وقت سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی
احمد رضا خان بریلوی
تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی
علامہ محمد حسین نجفی
تو ایسے لوگوں کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
پس انھیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
48۔ 1 یعنی جو صفات مذکورہ کا حامل ہوگا، اسے کسی کی شفاعت بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی، اس لئے کہ کفر کی وجہ سے محل شفاعت ہی نہیں ہوگا، شفاعت تو صرف ان کے لئے مفید ہوگی جو ایمان کی وجہ سے شفاعت کے قابل ہونگے۔
(آیت 48) ➊ {فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ:} کیونکہ کفار کے حق میں سفارش کی اجازت ہی نہیں ہو گی، اگر کوئی کرے گا بھی تو کافر کے حق میں قبول نہیں ہو گی، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے حق میں سفارش کریں گے تو قبول نہیں ہو گی۔ یاد رہے کہ کفار کو سفارشیوں کی سفارش کا فائدہ نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سفارش سے جہنم سے نہیں نکل سکیں گے، البتہ تخفیف عذاب کا فائدہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ابو طالب کے عذاب میں تخفیف ہو گی۔ ➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مومن موحد ہیں مگر اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے انھیں سفارش فائدہ دے گی۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے انبیاء، شہداء اور صلحاء ان کی سفارش کریں گے اور وہ ان کی سفارش سے جہنم سے نکل آئیں گے، جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
آخر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اِس نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ نصیحت سے منھ موڑ رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو انہیں کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
سو انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے رُوگردانی کرتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
تو انھیں کیا ہے کہ نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 49تا51){ فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ …: ” مُسْتَنْفِرَةٌ “} باب استفعال سے اسم فاعل بمعنی {” نَافِرَةٌ“} ہے، جیسے {”عَجِبَ“} اور {”اِسْتَعْجَبَ“} اسی طرح {”سَخِرَ“} اور {”اِسْتَسْخَرَ“} ہم معنی ہیں۔ حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا، سخت بدکنے والے۔ {” قَسْوَرَةٍ “ ”قَسْرٌ“} سے ہے جس کا معنی غلبہ اور قہر ہے، چونکہ شیر اپنے شکار کو مغلوب و مقہور کرتا ہے اس لیے اسے ”قسورہ“ کہتے ہیں۔ شکاریوں کی جماعت کو بھی ”قسورہ“ کہتے ہیں اور لوگوں کے شورو غل کو بھی ”قسورہ“ کہتے ہیں۔ کفار کے نصیحت اور آیات قرآنی سننے سے بھاگنے کو ان جنگلی گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو شیر کی آہٹ یا شکاریوں کے خطرے سے بدک کر بے تحاشا بھاگتے ہیں۔
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»