بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 20
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۰﴾
یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بصیرت کی باتیں اور ہدایت ورحمت ہے اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے
یہ لوگوں کی آنکھیں کھولنا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت و رحمت،
یہ(قرآن) لوگوں کے لئے بصیرتوں کا سرمایہ اور یقین رکھنے والوں کیلئے ہدایت و رحمت کا باعث ہے۔
یہ لوگوں کے لیے سمجھ کی باتیں ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں ہدایت اور رحمت ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل پر اللہ تعالٰی کے خصوصی انعامات کا تذکرہ ٭٭

بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں، رسول ان میں بھیجے، حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہو گئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا۔ اے نبی! تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا۔ اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا، ان کی چال نہ چلنا اسی لیے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ، مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ، بےعلموں کی ریس نہ کر، یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں، یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے، جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں، جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔

📖 احسن البیان

20۔ 1 یعنی ان کے دلائل کا مجموعہ ہے جو احکام دین سے متعلق ہیں اور جن سے انسانی ضروریات و حاجات وابستہ ہیں۔ 20۔ 2 یعنی دنیا میں ہدایت کا راستہ بتلانے والا اور آخرت میں رحمت الٰہی کا موجب ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 20) ➊ {هٰذَا بَصَآىِٕرُ لِلنَّاسِ:بَصَآىِٕرُ “ ” بَصِيْرَةٌ “} کی جمع ہے، سمجھ میں آنے والی بات۔ {” لِلنَّاسِ “} کا لفظ عام ہے جس میں مسلم و کافر سب شامل ہیں۔ یعنی قرآن کریم کی باتیں ایسی ہیں جو سب لوگوں کی سمجھ میں آنے والی ہیں اور انھیں ان کے نفع و نقصان سے آگاہ کرنے والی ہیں، خواہ وہ انھیں مانیں یا نہ مانیں۔ ➋ {وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ:} یعنی اگرچہ قرآن کی باتیں ایسی ہیں جو سب لوگوں کی سمجھ میں آنے والی ہیں مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو اس پر یقین رکھتے ہوں اور انھی کے لیے یہ ہدایت و رحمت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَ لَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۸۲ ] ”اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔“
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →