بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 19
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
اِنَّہُمۡ لَنۡ یُّغۡنُوۡا عَنۡکَ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۚ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۹﴾
اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے
(یاد رکھیں) کہ یہ لوگ ہرگز اللہ کے سامنے آپ کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (سمجھ لیں کہ) ﻇالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیزگاروں کا کارساز اللہ تعالیٰ ہے
بیشک وہ اللہ کے مقابل تمہیں کچھ کام نہ دیں گے، اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور ڈر والوں کا دوست اللہ
وہ اللہ کے مقابلہ میں آپ(ص) کو ہرگز کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ یقیناً ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں اور اللہ تو پرہیزگاروں کا ساتھی (اور پُشت پناہ) ہے۔
بلاشبہ وہ اللہ کے مقابلے میں ہرگز تیرے کسی کام نہ آئیں گے اور یقینا ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور اللہ متقی لوگوں کا دوست ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل پر اللہ تعالٰی کے خصوصی انعامات کا تذکرہ ٭٭

بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں، رسول ان میں بھیجے، حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہو گئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا۔ اے نبی! تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا۔ اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا، ان کی چال نہ چلنا اسی لیے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ، مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ، بےعلموں کی ریس نہ کر، یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں، یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے، جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں، جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ { اِنَّهُمْ لَنْ يُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا: ”إِنَّ“} تعلیل یعنی کسی بات کی وجہ بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ پچھلی آیت میں فرمایا کہ آپ اللہ کی نازل کردہ شریعت کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو نہیں جانتے۔ اب فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ انھیں خوش کرنے کے لیے ان کی خواہشات کے پیچھے چلیں گے اور دین میں کسی قسم کا رد و بدل کریں گے تو اپنے اللہ کو ناراض کر لیں گے، پھر یہ لوگ آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کسی طرح نہ بچا سکیں گے۔ ➋ { وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ …:} یہ ایسے لوگوں کی خواہشات کی پیروی سے منع کرنے کی دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی متقی لوگوں کا کام ہے اور اس کے غیر کی خواہشات کی پیروی ظالموں کا کام ہے، کیونکہ ظلم کسی کا حق دوسرے کو دینے کا نام ہے اور وہ اللہ کا حق دوسروں کو دے رہے ہیں۔ ایسے ظالم لوگ اپنے دنیوی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے دوست اور ان کے کہنے پر چلنے والے ہوتے ہیں۔ (دیکھیے عنکبوت: ۲۵) جب کہ متقی اللہ تعالیٰ کے دوست اور وہ ان کا دوست ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۵۷) اب اگر آپ نے اللہ کی شریعت کے بجائے کسی اور کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ دوستی کا رشتہ اپنے مالک سے توڑ کر ظالموں کے ساتھ جوڑ لیں گے، پھر اس سے بڑھ کر خسارا کیا ہو گا؟
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →