بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 18
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اس کے بعد اب اے نبیؐ، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے
پھر ہم نے آپ کو دین کی (ﻇاہر) راه پر قائم کردیا، سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں
پھر ہم نے اس کام کے عمدہ راستہ پر تمہیں کیا تو اسی راہ پر چلو اور نادانوں کی خواہشوں کا ساتھ نہ دو
(اے رسول(ص)) پھر ہم نے آپ(ص) کو ایک واضح شریعت پر قائم کیا ہے پس آپ(ص) اس کی پیروی کیجئے! اور ان لوگوں کی خواہش کی پیروی نہ کیجئے جو علم نہیں رکھتے۔
پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل پر اللہ تعالٰی کے خصوصی انعامات کا تذکرہ ٭٭

بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں، رسول ان میں بھیجے، حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہو گئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا۔ اے نبی! تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا۔ اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا، ان کی چال نہ چلنا اسی لیے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ، مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ، بےعلموں کی ریس نہ کر، یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں، یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے، جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں، جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔

📖 احسن البیان

18۔ 1 شریعت کے لغوی معنی ہیں، ملت اور منہاج۔ شاہراہ کو بھی شارع کہا جاتا ہے کہ وہ مقصد اور منزل تک پہنچاتی ہے پس شریعت سے مراد، وہ دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے تاکہ لوگ اس پر چل کر اللہ کی رضا کا مقصد حاصل کرلیں۔ آیت کا مطلب ہے ہم نے آپ کو دین کے ایک واضح راستے یا طریقے پر قائم کردیا ہے جو آپ کو حق تک پہنچا دے گا۔ 18۔ 2 جو اللہ کی توحید اور اس کی شریعت سے ناواقف ہیں۔ مراد کفار مکہ اور ان کے ساتھی ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 18) ➊ { ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ:شَرِيْعَةٍ “} کا معنی صاف راستہ اور واضح طریقہ ہے۔ {” الْاَمْرِ “} سے مراد ”امرِ دین“ ہے۔ یعنی بنی اسرائیل جب اپنی سرکشی، ضد اور عناد کی وجہ سے دین کے واضح احکام پر قائم نہ رہے بلکہ بہت سے گمراہ فرقوں میں بٹ گئے اور واضح اور صحیح دین کی دعوت دینے والوں سے عداوت اور گمراہی میں اس حد تک بڑھ گئے کہ انھوں نے مسیح علیہ السلام جیسے برگزیدہ پیغمبر کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہ کیا، بلکہ اپنے گمان میں انھیں صلیب پر چڑھا کر دم لیا۔ جب وہ سرکشی کی اس حد تک آ پہنچے تو اس فضیلت سے محروم کر دیے گئے جو انھیں دنیا کی امامت کی صورت میں حاصل تھی۔ پھر اے محمد! ہم نے تجھے اس امر (یعنی دین) کے واضح راستے اور طریقے پر لگا دیا اور وہ خدمت جو پہلے پیغمبروں کے سپرد تھی وہ آپ کے سپرد کر دی۔ ➋ { فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ:} اس لیے آپ ہمارے مقرر کر دہ طریقے پر چلیں اور ہمارے نازل کردہ احکام کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں جو نہیں جانتے، یعنی وحی الٰہی کا علم نہیں رکھتے، یا علم کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتے، کیونکہ وہ بھی انھی لوگوں میں شامل ہیں جو نہیں جانتے۔ ان سے مراد اہلِ کتاب اور مشرکینِ عرب ہیں۔ صرف اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کی تاکید اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۴۸ تا ۵۰) اور سورۂ اعراف (۳)۔
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →