بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 21
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾
کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں
کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہوجائے، برا ہے وه فیصلہ جو وه کررہے ہیں
کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کی ان کی زندگی اور موت برابر ہوجائے کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،
کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کی مانند قرار دیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے؟ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے گا؟ بہت براہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں۔
یا وہ لوگ جنھوں نیبرائیوں کا ارتکاب کیا، انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے؟ ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر ہو گا؟ برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اصل دین چار چیزیں ہیں ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں ‘۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہو جائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔ مسند ابو یعلیٰ میں ہے { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے، جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا۔‏‏‏‏“ پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں؟ فرمایا: ”یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال، حرام، حکم اور ممانعت یہ چاروں صرف اللہ کی اختیار میں ہیں، اس کے حلال کو حلال، اس کے حرام بتائے ہوئے کو حرام ماننا، اس کے حکموں کو قابل تعمیل اور لائق تسلیم جاننا، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے باز آ جانا اور حلال حرام امر و نہی کا مالک صرف اسی کو جاننا بس یہ دین کی اصل ہے۔ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس طرح ببول کے درخت سے انگور پیدا نہیں ہو سکتے اسی طرح بدکار لوگ نیک کاروں کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے }۔ ۱؎ [المجروحین:41/3:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ { کعبتہ اللہ کی نیو میں سے ایک پتھر نکلا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہوئے نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خاردار درخت میں سے انگور چننا چاہتا ہو }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:196/1] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے کہ { سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ رات بھر تہجد میں اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی }۔

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ہر ایک شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا اور کسی پر اس کی طرف سے ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے کہ تم نے انہیں بھی دیکھا جو اپنی خواہشوں کو رب بنائے ہوئے ہیں۔ جس کام کی طرف طبیعت جھکی کر ڈالا، جس سے دل رکا چھوڑ دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے اس اصول کو رد کرتی ہے کہ اچھائی برائی عقلی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”اس کے دل میں جس کی عبادت کا خیال گزرتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہے، اس کے بعد کے جملے کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بناء پر اسے مستحق گمراہی جان کر گمراہ کر دیا دوسرا معنی یہ کہ اس کے پاس علم و حجت دلیل و سند آ گئی پھر اسے گمراہ کیا۔‏‏‏‏“ یہ دوسری بات پہلی کو بھی مستلزم ہے اور پہلی دوسری کو مستلزم نہیں۔ اس کے کانوں پر مہر ہے، نفع دینے والی شرعی بات سنتا ہی نہیں۔ اس کے دل پر مہر ہے، ہدایت کی بات دل میں اترتی ہی نہیں، اس کی آنکھوں پر پردہ ہے کوئی دلیل اسے دکھتی ہی نہیں، بھلا اب اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے؟ کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے؟ جیسے فرمایا «مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:186] ‏‏‏‏ یعنی ’ جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں ‘۔

📖 احسن البیان

21۔ 1 یعنی دنیا اور آخرت میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہ کریں۔ اس طرح ہرگز نہیں ہوسکتا یا یہ مطلب ہے کہ جس دنیا میں وہ برابر تھے، آخرت میں بھی برابر رہیں گے کہ مر کر یہ بھی ناپید اور وہ بھی ناپید؟ نہ بدکار کو سزا، نہ ایمان و عمل صالح کرنے والے کو انعام، ایسا نہیں ہوگا اس لئے آگے فرمایا ان کا یہ فیصلہ برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) ➊ { اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ …:} توحید کی دعوت کے بعد یہاں سے آخرت پر کلام شروع ہو رہا ہے اور یہ آیت آخرت کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ص (۲۸) اور سورۂ قلم (۳۴ تا ۳۸)۔ ➋ {سَوَآءً مَّحْيَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ …:} یعنی کفار زندگی میں اپنی مرضی کرتے رہے اور بے لگام ہو کر اپنی خواہشات پوری کرتے رہے، جس کے نتیجے میں انھوں نے زمین میں فساد برپا رکھا اور لوگوں پر اور اپنی جانوں پر بے حساب ظلم کرتے رہے، جب کہ مومن اپنی خواہشات کو روک کر رب تعالیٰ کے احکام کے پابند رہے۔ اب اگر مرنے کے بعد بھی کفار کو ان کے جرائم کی سزا اور ایمان والوں کو ان کے اعمال صالحہ کی جزا نہ ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ عدل اور صفتِ حکمت دونوں کے خلاف ہے۔ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ ایمان و کفر، نیکی و بدی اور ظلم و عدل کو برابر قرار دے رہے ہیں جو ان کا بہت برا فیصلہ ہے۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →