بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 70
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 70
آیت نمبر: 70 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾
یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی
یقیناً ہم نے اوﻻد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی
اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور ان کی خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا
بے شک ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت و بزرگی دی ہے اور ہم نے انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا (سواریاں دیں) پاک و پاکیزہ چیزوں سے روزی دی اور انہیں اپنی مخلوقات پر (جو بہت ہیں) فضیلت دی۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کی اولاد کو بہت عزت بخشی اور انھیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے جو مخلوق پیدا کی اس میں سے بہت سوں پر انھیں فضیلت دی، بڑی فضیلت دینا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان پر اللہ کے انعامات ٭٭

سب سے اچھی پیدائش انسان کی ہے جیسے فرمان ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صفت پر پیدا کیا ہے۔ ‘ وہ اپنے پیروں پر سیدھا کھڑا ہوکر صحیح چال چلتا ہے، اپنے ہاتھوں سے تمیز کے ساتھ اپنی غذا کھاتا ہے اور حیوانات ہاتھ پاؤں سے چلتے ہیں منہ سے چارہ چگتے ہیں۔ پھر اسے سمجھ بوجھ دی ہے جس سے نفع نقصان بھلائی برائی سوچتا ہے، دینی دنیاوی فائدہ معلوم کر لیتا ہے۔ اس کی سواری کے لیے خشکی میں جانور چوپائے گھوڑے خچر اونٹ وغیرہ اور تری کے سفر کے لیے اسے کشتیاں بنانی سکھا دیں۔ اسے بہترین، خوشگوار اور خوش ذائقہ کھانے پینے کی چیزیں دیں۔ کھیتیاں ہیں، پھل ہیں، گوشت ہیں، دودھ ہے اور بہترین بہت سی ذائقے دار لذیذ مزیدار چیزیں۔ پھر عمدہ مکانات رہنے کو، اچھے خوشنما لباس پہننے کو، قسم قسم کے، رنگ برنگ کے، یہاں کی چیزیں وہاں اور وہاں کی چیزیں یہاں لے جانے لے آنے کے اسباب اس کے لیے مہیا کر دیئے اور مخلوق میں سے عموماً ہر ایک پر اسے برتری بخشی۔

ُاس آیت کریمہ سے امر پر استدلال کیا گیا ہے کہ انسان فرشتوں سے افضل ہے۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے کہا اے اللہ تو نے اولاد آدم کو دنیا دے رکھی ہے کہ وہ کھاتے پیتے ہیں اور موج مزے کر رہے ہیں تو تو اس کے بدلے ہمیں آخرت میں ہی عطا فرما کیونکہ ہم اس دنیا سے محروم ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم اس کی نیک اولاد کو جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اس کے برابر میں ہرگز نہ کروں گا جسے میں نے کلمہ کن سے پیدا کیا ہے۔ یہ روایت مرسل ہے لیکن اور سند سے متصل بھی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:126/15] ‏‏‏‏ ابن عساکر میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمیں بھی تو نے پیدا کیا اور بنو آدم کا خالق بھی تو ہی ہے، انہیں تو کھانا پینا دے رہا ہے، کپڑے لتے وہ پہنتے ہیں، نکاح شادیاں وہ کرتے ہیں، سواریاں ان کے لیے ہیں، راحت و آرام انہیں حاصل ہے، ان میں سے کسی چیز کے حصے دار ہم نہیں۔ خیر یہ اگر دنیا میں ان کے لیے ہے تو یہ چیزیں آخرت میں تو ہمارے لیے کر دے۔ اس کے جواب میں جناب باری تعالیٰ نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اور اپنی روح جس میں میں نے پھونکی ہے اسے میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہہ دیا کہ ہو جا وہ ہو گیا۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:6173:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے قیامت کے دن ابن آدم سے زیادہ بزرگ اللہ کے ہاں کوئی نہ ہو گا۔ پوچھا گیا کہ فرشتے بھی نہیں؟ فرمایا فرشتے بھی نہیں وہ تو مجبور ہیں جیسے سورج چاند۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:153:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت بہت ہی غریب ہے۔

📖 احسن البیان

70۔ ا یہ شرف اور فعل، بحیثیت انسان کے، ہر انسان کو حاصل ہے چاہے مومن ہو یا کافر۔ کیونکہ یہ شرف دوسری مخلوقات، حیوانات، جمادات و نباتات وغیرہ کے مقابلے میں ہے۔ اور یہ شرف متعدد اعتبار سے ہے جس طرح کی شکل و صورت، قدو قامت اور ہیئت اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے، وہ کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں، جو عقل انسان کو دی گئی ہے، جس کے ذریعے سے اس نے اپنے آرام و راحت کے لئے بیشمار چیزیں ایجاد کیں۔ حیوانات وغیرہ اس سے محروم ہیں۔ علاوہ ازیں اسی عقل سے صحیح، مفید و مضر اور حسین قبیح کے درمیان تمیز کرنے پر قادر ہے۔ علاوہ ازیں کائنات کی تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت پر لگا رکھا ہے۔ چاند سورج، ہوا، پانی اور دیگر بیشمار چیزیں ہیں جن سے انسان فیض یاب ہو رہا ہے۔ 70۔ 2 خشکی میں گھوڑوں خچروں، گدھوں اونٹوں اور اپنی تیار کردہ سواریوں (ریلیں، گاڑیاں، بسیں، ہوائی جہاز، سائیکل اور موٹر سائیکل وغیرہ) پر سوار ہوتا ہے اور اسی طرح سمندر میں کشتیاں اور جہاز ہیں جن پر وہ سوار ہوتا ہے اور سامان لاتا لے جاتا ہے۔ 70۔ 3 انسان کی خوراک کے لئے جو غلہ جات، میوے اور پھل ہیں سب اسی نے پیدا کئے اور ان میں جو جو لذتیں، ذائقے اور قوتیں رکھیں ہیں۔ انواع اقسام کے کھانے، یہ لذیذ و مرغوب پھل اور یہ قوت بخش اور مفرح مرکبات و مشروبات اور خمیرے اور معجونات، انسان کے علاوہ اور کس مخلوق کو حاصل ہیں؟ 70۔ 4 مذکورہ تفصیل سے انسان کی، بہت سی مخلوقات پر، فضیلت اور برتری واضح ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 70) ➊ { وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ …:} اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو بے شمار نعمتوں کے ساتھ عزت بخشی کہ ان کے جد امجد کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا فرمایا، جب کہ دوسری ساری مخلوق کو کلمۂ{” كُنْ “} سے پیدا فرمایا، پھر انھیں سیدھا قد عطا فرمایا، ہاتھوں سے کھانے کا طریقہ سکھایا، احسن تقویم (بہترین شکل و صورت) میں پیدا کیا، عقل و اختیار سے نوازا، لکھ کر اپنا علم اور تجربہ اگلی نسل کو منتقل کرنا سکھایا، ہر لمحہ نئی سے نئی ایجاد کی لیاقت بخشی۔ زمین کی ہر چیز اور ہر جانور کو اپنے کام میں لانے کا سلیقہ بخشا۔ سمندر میں جہازوں پر، زمین میں سواریوں پر اور فضا میں طیاروں پر (جن کا ذکر سورۂ نحل: ۵ تا ۸ میں ہے) سوار کیا۔ ➋ {وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ: ”اَلرِّزْقُ مَا يُنْتَفَعُ بِهِ“} (قاموس) رزق کا معنی ہے وہ چیزیں جن سے فائدہ اٹھایا جائے، مثلاً کھانا پینا، میاں بیوی کا تعلق، لباس اور مکان وغیرہ۔ {” الطَّيِّبٰتِ”اَلْحَلَالُ وَالْأَفْضَلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ“} (قاموس) طیب کا معنی ہے ہر چیز میں سے جو حلال اور سب سے بہتر ہو۔ یعنی ان کے فائدے کی ہر حلال، لذیذ اور بہترین چیز عطا فرمائی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی فطرت مسخ ہو جائے اور وہ طیب کے بجائے خبیث سے فائدہ اٹھانے لگیں، مثلاً مردار، خنزیر وغیرہ کھانے لگ جائیں، نکاح کے بجائے زنا یا قوم لوط کے عمل کا ارتکاب کرنے لگیں اور اپنے حق کے بجائے دوسروں کا حق استعمال کرنے لگیں، بہرحال اللہ تعالیٰ نے طیبات عطا کرنے میں کمی نہیں فرمائی۔ ➌ { وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا:} اوپر تکریم میں ذکر کردہ اشیاء اور بنی آدم کی اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی بہت سی مخلوق پر بہت بڑی برتری عطا فرمائی۔ اپنی بہت سی مخلوق پر برتری عطا فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی ایسی مخلوق بھی ہے جس پر انسان کو برتری عطا نہیں ہوئی۔ بعض نے فرشتوں کو وہ مخلوق قرار دیا، بعض اہل علم نے بعض انسانوں کو بعض فرشتوں سے اور بعض فرشتوں کو بعض انسانوں سے افضل قرار دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ ] [ ترمذی، المناقب، باب سلوا اللہ لي الوسیلۃ: ۳۶۱۵ ] ” میں روزِ قیامت تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا علم بہت ہی تھوڑا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۸۵) اس لیے ایسے معاملات میں خاموشی ہی باعثِ عافیت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی ساری مخلوق کا علم عطا نہیں فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام کو کیا خبر تھی کہ کوئی خضر بھی ہے اور ہمیں کیا معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کون کون سی ہے، فرمایا: «وَ مَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ» ‏‏‏‏ [ المدثر: ۳۱ ] ”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اس لیے بات اپنی حیثیت کے مطابق سوچ سمجھ کر کرنا لازم ہے۔
← پچھلی آیت (69) پوری سورۃ اگلی آیت (71) →