بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 69
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 69
آیت نمبر: 69 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ اَمِنۡتُمۡ اَنۡ یُّعِیۡدَکُمۡ فِیۡہِ تَارَۃً اُخۡرٰی فَیُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیۡحِ فَیُغۡرِقَکُمۡ بِمَا کَفَرۡتُمۡ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ عَلَیۡنَا بِہٖ تَبِیۡعًا ﴿۶۹﴾
اور کیا تمہیں اِس کا کوئی اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کر دے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے؟
کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ پھر تمہیں دوباره دریا کے سفر میں لے آئے اور تم پر تیز وتند ہواؤں کے جھونکے بھیج دے اور تمہارے کفر کے باعﺚ تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اپنے لئے ہم پر اس کا دعویٰ (پیچھا) کرنے واﻻ کسی کو نہ پاؤ گے
یا اس سے نڈر ہوئے کہ تمہیں دوبارہ دریا میں لے جائے پھر تم پر جہاز توڑنے والی آندھی بھیجے تو تم کو تمہارے کفر کے سبب ڈبو دے پھر اپنے لیے کوئی ایسا نہ پاؤ کہ اس پر ہمارا پیچھا کرے
کیا تم اس بات سے بے فکر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اسی (سمندر) میں پہنچائے اور پھر تم پر طوفانی ہوا چلا کر تمہیں ناشکرے پن کی پاداش میں غرق کر دے۔ پھر تم اس کی ہم سے بازپرس کرنے والا کوئی نہیں پاؤگے۔
یا تم بے خوف ہوگئے کہ وہ تمھیں دوسری بار اس میں پھر لے جائے، پھر تم پر توڑ دینے والی آندھی بھیج دے، پس تمھیں غرق کردے، اس کی وجہ سے جو تم نے کفر کیا، پھر تم اپنے لیے ہمارے خلاف اس کے بارے میں کوئی پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سمندر ہو یا صحرا ہر جگہ اسی کا اقتدار ہے ٭٭

ارشاد ہو رہا ہے کہ اے منکرو! سمندر میں تم میری توحید کے قائل ہوئے باہر آکر پھر انکار کر گئے، تو کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ پھر تم دوبارہ دریائی سفر کرو اور باد تند کے تھپیڑے تمہاری کشتی کو ڈگمگا دیں اور آخر ڈبو دیں اور تمہیں تمہارے کفر کا مزہ آ جائے، پھر تو کوئی مددگار کھڑا نہ ہو، نہ کوئی ایسا مل سکے کہ ہم سے تمہارا بدلہ لے۔ ہمارا پیچھا کوئی نہیں کر سکتا، کس کی مجال کہ ہمارے فعل پر انگلی اٹھائے۔

📖 احسن البیان

69۔ 1 قَاصِف ایسی تند تیز سمندری ہوا جو کشتیوں کو توڑ دے اور انھیں ڈوب دے تَبِیْعًا انتقام لینے والا، پیچھا کرنے والا، یعنی تمہارے ڈوب جانے کے بعد ہم سے پوچھے کہ تو نے ہمارے بندوں کو کیوں ڈبویا؟ مطلب یہ ہے کہ ایک مرتبہ سمندر سے بخریت نکلنے کے بعد، کیا تمہیں دوبارہ سمندر میں جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی؟ اور وہاں وہ تمہیں بھنور میں نہیں پھنسا سکتا؟۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (68) پوری سورۃ اگلی آیت (70) →