اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ‘ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔ حدیث میں ہے { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] پھر فرماتا ہے کہ ’ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ ‘ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ ‘ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ ۱؎ [مسند طیالسی:1755:حسن] «مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“
جب آسمان پھٹ جائے گا (1)
(آیت 1){ اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ:} دوسری جگہ فرمایا: «وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» [ النبا: ۱۹ ] ”اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہو جائے گا۔“ اور فرمایا: «وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا» [ الفرقان: ۲۵ ] ”جس دن آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹے گا اور فرشتے گروہ در گروہ اتارے جائیں گے۔“ یہ نفخہ ثانیہ کے ساتھ ہو گا، آگے زمین سے مردوں کے نکلنے کے ذکر سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے۔
اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اپنے رب کا حکم مانے)
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا اور اسی کے ﻻئق وه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اپنے پروردگار کا حکم سن لے گا (اور اس کی تعمیل کرے گا) اور اس پر لازم بھی یہی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا اور یہی اس کا حق ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین مردے اگل دے گی ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ‘ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔ حدیث میں ہے { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] پھر فرماتا ہے کہ ’ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ ‘ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ ‘ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ ۱؎ [مسند طیالسی:1755:حسن] «مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“
2۔ 1 یعنی اس کے یہ لائق ہے کہ سنے اطاعت کرے، اس لئے کہ وہ سب پر غالب ہے اور سب اس کے ماتحت ہیں اس کے حکم سے سرتابی کرنے کی کس کو مجال ہے؟
(آیت 2){ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ: ” اَذِنَتْ “} (س) کان لگانا، غور سے سننا، یعنی غور سے سن کر اطاعت کرے گا۔ اسی طرح زمین حکم سنتے ہی وہ سب کچھ باہر پھینک دے گی جو اس میں ہے۔ {” حُقَّتْ “ ”هُوَحَقِيْقٌ بِكَذَا أَوْ مَحْقُوْقٌ بِكَذَا“} سے ماخوذ ہے، یعنی وہ اس چیز کے لائق ہے۔ اس کا نائب فاعل {” السَّمَآءُ “} کی ضمیر ہے۔ بیضاوی نے فرمایا: {” حُقَّتْ “ أَيْ جُعِلَتْ حَقِيْقَةً بِالْاِسْتِمَاعِ وَالْاِنْقِيَادِ۔“} زمخشری نے فرمایا: {” وَ هِيَ حَقِيْقَةٌ بِأَنْ تَنْقَادَ وَلَا تَمْتَنِعَ۔“} زمین و آسمان کو اللہ کا حکم سن کر اطاعت سے انکار کی جرأت ہی نہیں، یہ صرف انسان ہی ہے کہ اللہ کے احکام نہ کان لگا کر سنتا ہے اور نہ اطاعت کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ‘ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔ حدیث میں ہے { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] پھر فرماتا ہے کہ ’ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ ‘ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ ‘ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ ۱؎ [مسند طیالسی:1755:حسن] «مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“
3۔ 1 یعنی اس کے طول و عرض میں مزید وسعت کردی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو ہموار کر کے بچھایا جائے گا۔ اس میں میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔
(آیت 3){ وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ: ” مُدَّتْ “ ”مَدَّ يَمُدُّ“} (ن) کھینچنا، پھیلانا، یعنی جس طرح چمڑے کو کھینچا جائے تو اس کی اونچ نیچ اور تمام شکنیں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ طول و عرض میں پھیل جاتا ہے، اسی طرح زمین سے پہاڑ، سمندر اور ہر قسم کی بلندی و پستی ختم ہو جائے گی، جس سے وہ ہموار ہو کر پھیل جائے گی اور اس میں آدمیوں کے کھڑے ہونے کی گنجائش بہت زیادہ ہو جائے گی۔
اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک کر خالی ہو جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس میں جو ہے اسے وه اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جو کچھ اس میں ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ اسے باہر پھینک دے گی اور خالی ہو جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس میں جو کچھ ہے اسے باہر پھینک دے گی اور خالی ہو جائے گی ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین مردے اگل دے گی ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ‘ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔ حدیث میں ہے { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] پھر فرماتا ہے کہ ’ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ ‘ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ ‘ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ ۱؎ [مسند طیالسی:1755:حسن] «مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“
4۔ 1 یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہوجائے گی۔
(آیت 4) {وَ اَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَ تَخَلَّتْ:} یعنی تمام فوت شدہ لوگوں کو حشر کے لیے باہر پھینک دے گی اور وہ خزانے اور بنی آدم کے اعمال کی شہادتیں جو اس کے بطن میں ہیں سب نکال باہر پھینکے گی۔ {” تَخَلَّتْ “ ”خَلَا يَخْلُوْ“} (ن) (خالی ہونا) سے باب تفعّل ہے جس میں مبالغہ ہوتا ہے، یعنی بالکل خالی ہو جائے گی۔
اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے ﻻئق وه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے پروردگار کا حکم سنے گی اور (اس کی تعمیل کرے گی) اور اس پر لازم بھی یہی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور یہی اس کا حق ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین مردے اگل دے گی ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ‘ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔ حدیث میں ہے { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] پھر فرماتا ہے کہ ’ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ ‘ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ ‘ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ ۱؎ [مسند طیالسی:1755:حسن] «مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5){ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ:} تفصیل کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۲) کی تفسیر۔
اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے آدمی! بیشک تجھے اپنے رب کی طرف ضرور دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا
علامہ محمد حسین نجفی
اے انسان! تو کشاں کشاں اپنے پروردگار کی طرف (کھنچا چلا) جا رہا ہے اور اس کی بارگاہ میں حاضر ہو نے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے انسان! بے شک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت، پھر اس سے ملنے والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین مردے اگل دے گی ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ‘ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔ حدیث میں ہے { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] پھر فرماتا ہے کہ ’ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ ‘ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ ‘ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ ۱؎ [مسند طیالسی:1755:حسن] «مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6){ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ …: ” كَادِحٌ “ ”كَدَحَ يَكْدَحُ“} (ف) خوب کوشش کرنا، مشقت جھیلنا، زخمی کرنا۔ {” اِلٰى “} کے لفظ سے اس میں رب تعالیٰ کی طرف جانے کا مفہوم ادا ہو رہا ہے، یعنی اے انسان! تو زندگی بھر کسی نہ کسی کام کی مشقت میں مبتلا رہ کر آخر کار اچھے یا برے اعمال لے کر اپنے رب کے حضور پیش ہونے والا ہے۔
پھر جس کا نامہ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
تو (اس وقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ وہ اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے
علامہ محمد حسین نجفی
پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پس لیکن وہ شخص جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939]
دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7تا9) {فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ …:} آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ کرید کرید کر اصلی حساب نہیں ہوگا، فقط اعمال نامہ پیش ہوگا اور غلطیاں بھی سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَیْسَ أَحَدٌ یُّحَاسَبُ إِلاَّ ھَلَكَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جَعَلَنِيَ اللّٰہُ فِدَاءَكَ، أَلَیْسَ یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: «فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ (7) فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [ الانشقاق: 8،7 ] قَالَ ذَاکَ الْعَرْضُ یُعْرَضُوْنَ، وَمَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ ہَلَكَ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «فسوف یحاسب حسابا یسیرا» : ۴۹۳۹ ] ”جس کسی کا بھی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہو گیا۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتے کہ جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس کا حساب آسان ہوگا؟“ آپ نے فرمایا: ”یہ صرف پیشی ہے (جس میں صرف اس کے اعمال) پیش کیے جائیں گے اور جس سے حساب میں پڑتال کی گئی وہ ہلاک ہوگیا۔“ جن بندوں پر اللہ کی نظر عنایت ہوگی ان کے آسان حساب کی ایک صورت وہ ہوگی جو ابن عمر رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَدْنُوْ أَحَدُكُمْ مِنْ رَبِّهٖ حَتّٰی يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ فَيَقُوْلُ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُوْلُ نَعَمْ، وَ يَقُوْلُ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُوْلُ نَعَمْ، فَيُقَرِّرُهُ ثُمَّ يَقُوْلُ إِنِّيْ سَتَرْتُ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ] [ بخاري، الأدب، باب ستر المؤمن علٰی نفسہ: ۶۰۷۰ ] ”تم میں سے ایک (بندہ) اپنے رب کے قریب ہوگا، یہاں تک کہ وہ اپنا دامن اس پر رکھے گا (کہ کسی اور کو خبر نہ ہو)، پھر فرمائے گا: ”تونے یہ یہ کام کیے؟“ وہ کہے گا: ”ہاں!“ اور فرمائے گا: ”تو نے یہ یہ کام (بھی) کیے؟“ وہ کہے گا: ”ہاں!“ پس اللہ تعالیٰ اس سے اقرار کروالے گا، پھر فرمائے گا: ”میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ ڈالا، سو آج میں تمھیں وہ گناہ معاف کرتا ہوں۔“ آسان حساب کی ایک صورت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا تھوڑی نیکی کا ثواب بہت زیادہ عطا فرما دے گا، جیساکہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی امت کے ایک آدمی کے گناہوں کے حد نگاہ تک پھیلے ہوئے ننانوے (۹۹) دفتر کاغذ کے ایک پرزے کے مقابلے میں ہلکے ہو جائیں گے جس پر{”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ “} لکھا ہو گا۔ [ دیکھیے ترمذي، الإیمان، باب ما جاء فیمن یموت وھو یشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ: ۲۶۳۹، و صححہ الألباني ] غرض اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے گا حساب آسان کر دے گا، مگر شرط یہ ہے کہ آدمی ہر طرح کے شرک ظاہری اور شرک باطنی یعنی ریا سے پاک ہو، پھر اگر گناہ گار توبہ کے بغیر بھی مر گیا تو اللہ کی ذات سے رحمت اور آسانئ حساب کی توقع ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ» [ النساء: ۴۸ ] ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا۔“ مشرک کے لیے معافی نہیں، دوسروں کی مغفرت اللہ کی مشیت پر ہے۔ اس لیے نہ اس کے غضب سے بے خوف ہونا چاہیے اور نہ اس کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے۔
سو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا، نہایت آسان حساب۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939]
دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘
پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939]
دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘
9۔ 1 یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہونگے۔ یا مراد وہ حور عین اور دلدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔
رہا وہ شخص جس کا نامہ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جس کا نامہٴ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس کا نامۂ اعمال اس کے پس پشت دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور لیکن وہ شخص جسے اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا گیا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939]
دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10){ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ …:} یہاں پیٹھ کے پیچھے اعمال نامے ملنے کا ذکر ہے اور سورۂ حاقہ (۲۵) میں بائیں ہاتھ میں، غور کریں تو صاف سمجھ میں آرہا ہے کہ ان مجرموں کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں گے، جہاں انھیں بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا۔
پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939]
دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11){ فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًا:} یعنی عذاب کے ڈر سے ہلاکت کو پکارے گا، تاکہ وہ مر کر عذاب سے نجات پا جائے۔
پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939]
دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13،12) {وَ يَصْلٰى سَعِيْرًا (12) اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا:} اسے دنیا میں آخرت کا کوئی خوف نہ تھا، وہ اپنے بیوی بچوں اور دنیا کی نعمتوں میں ایسا مگن اور خوش تھا کہ پروردگار کے پاس حاضری کو بھول ہی گیا۔ نتیجہ یہ کہ آج جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔ اس کے برعکس اہل ایمان اپنی دنیا میں گزری ہوئی زندگی کو یاد کرکے کہیں گے: «اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِيْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِيْنَ» [ الطور: ۲۶ ] ” ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرنے والے تھے (کہ انجام کیا ہوگا)؟“ آج وہ اپنے گھر خوش خوش لوٹیں گے، فرمایا: «وَ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا» [ الانشقاق: ۹ ] ”اور وہ اپنے گھر کی طرف خوش خوش واپس لوٹے گا۔“
یہ شخص (دنیا میں) اپنے لوگوں میں خوش خوش رہتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ وہ اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939]
دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘
13۔ 1 یعنی دنیا میں اپنی خواہشات میں مگن اور اپنے گھر والوں کے درمیان بڑا خوش تھا،
اس کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہ جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
وہ سمجھا کہ اسے پھرنا نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اس کا خیال تھا کہ وہ کبھی (اپنے خدا کے پاس) لوٹ کر نہیں جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا اس نے سمجھا تھا کہ وہ کبھی ( اپنے رب کی طرف) واپس نہیں لوٹے گا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939]
دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15،14){ اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ …: ”حَارَ يَحُوْرُ حَوْرًا“} (ن) لوٹنا۔ پیٹھ کے پیچھے اعمال نامہ ان لوگوں کو ملے گا جن کا خیال تھا کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے اور نہ کوئی حساب کتاب ہوگا۔ فرمایا، کیوں نہیں! یقینا تمھارا حساب ضرور ہونا تھا، تمھارا رب تمھارے اعمال و اقوال اور احوال سب کچھ خوب دیکھ رہا تھا اور تمھارا اعمال نامہ بھی تیار کروا رہا تھا، مگر اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت تمھیں مہلت دے رکھی تھی، اب وہ مہلت ختم ہو گئی، اب اپنے انکار اور بے فکری کا نتیجہ بھگتو۔
پلٹنا کیسے نہ تھا، اُس کا رب اُس کے کرتوت دیکھ رہا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیوں نہیں، حاﻻنکہ اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا
احمد رضا خان بریلوی
ہاں کیوں نہیں بیشک اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیوں نہیں! بےشک اس کا پروردگار اسے خوب دیکھ رہا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
کیوں نہیں ! یقینا اس کا رب اسے خوب دیکھنے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939]
دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘
15۔ 1 یعنی اس سے اس کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں تھا۔
«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔ خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:612] مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ «وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:17] کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4940] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7068] اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ } ۱؎ [صحیح بخاری:7320] مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“ }
{ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» ۱؎ [50-ق:22] ’ تو اس سے غافل تھا ‘، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:19] پڑھی یعنی ’ ایک حال سے دوسرا حال ‘، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو }۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ’ آپ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں ‘ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔
16۔ 1 شفق جو سورج غروب ہونے پر ظاہر ہوتی ہے اور عشا کا وقت شروع ہونے تک رہتی ہے۔
(آیت 16){ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ:} قسم سے پہلے {”لاَ“} کا مطلب منکرین کی بات کی نفی ہے۔ {”اَلشَّفَقُ“} سورج غروب ہونے کے بعد آسمان کے کنارے کی سرخی جو عشاء تک رہتی ہے۔
اور رات کی اور ان چیزوں کی (قَسم کھاتا ہوں) جن کو وہ (رات) سمیٹ لیتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور رات کی اور اس چیز کی جسے وہ جمع کرتی ہے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیشین گوئی ٭٭
«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔ خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:612] مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ «وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:17] کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4940] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7068] اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ } ۱؎ [صحیح بخاری:7320] مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“ }
{ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» ۱؎ [50-ق:22] ’ تو اس سے غافل تھا ‘، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:19] پڑھی یعنی ’ ایک حال سے دوسرا حال ‘، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو }۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ’ آپ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں ‘ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔
17۔ 1 اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنے مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔
(آیت 17) {وَ الَّيْلِ وَ مَا وَسَقَ: ” وَسَقَ “} (ض) جمع کرنا اور اٹھا لینا۔ ساٹھ(۶۰) صاع غلے کا ایک وسق ہوتا ہے، اسے وسق کہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ غلے کی خاصی مقدار جمع کیے ہوتا ہے۔ {” وَ مَا وَسَقَ “} کے عموم میں تمام آدمی اور جانور آجاتے ہیں، کیونکہ وہ سب دن بھر چلنے پھرنے کے بعد رات کو آرام کے لیے اپنے اپنے ٹھکانے پر جمع ہو جاتے ہیں۔
«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔ خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:612] مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ «وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:17] کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4940] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7068] اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ } ۱؎ [صحیح بخاری:7320] مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“ }
{ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» ۱؎ [50-ق:22] ’ تو اس سے غافل تھا ‘، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:19] پڑھی یعنی ’ ایک حال سے دوسرا حال ‘، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو }۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ’ آپ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں ‘ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18){ وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ: ” اتَّسَقَ “} اوپر مذکور {”وَسَقَ“} سے باب افتعال ہے، جمع ہونا، یعنی چودھویں رات کا پورا چاند بن جائے۔
تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچو گے
احمد رضا خان بریلوی
ضرور تم منزل بہ منزل چڑھو گے
علامہ محمد حسین نجفی
تمہیں یونہی (تدریجاً) زینہ بہ زینہ چڑھنا ہے (اور ایک ایک منزل طے کرنی ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
کہ تم ضرور ہی ایک حالت سے دوسری حالت کو چڑھتے جاؤ گے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیشین گوئی ٭٭
«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔ خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:612] مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ «وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:17] کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4940] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7068] اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ } ۱؎ [صحیح بخاری:7320] مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“ }
{ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» ۱؎ [50-ق:22] ’ تو اس سے غافل تھا ‘، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:19] پڑھی یعنی ’ ایک حال سے دوسرا حال ‘، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو }۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ’ آپ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں ‘ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔
19۔ 1 یہاں مراد شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہونگے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہوگی (یہ جواب قسم ہے)
(آیت 19) ➊ { لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ:} قرآن مجید میں مذکور قسمیں بعد میں آنے والے جواب قسم کی تاکید کے لیے آتی ہیں اور عام طور پر اس کے یقینی ہونے کی دلیل ہوتی ہیں۔ یہاں جس بات کو ثابت کرنے کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں وہ یہ حقیقت ہے کہ تم ضرور ہی ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے جاؤ گے۔ اب قسموں پر غور کیجیے! تینوں آیات میں مذکور چیزوں کا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہونا صاف واضح ہے، یعنی دن بھر کی دھوپ کے بعد سورج غروب ہو کر شفق پھیل جاتی ہے، پھر رات چھا جاتی ہے۔ اللہ کی مخلوق دن کو پھیل جاتی ہے اور رات کو جمع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح چاند پہلی رات خنجر نما شکل میں ہوتا ہے، پھر بدلتے بدلتے مَہِ کامل بن جاتا ہے، پھر دوبارہ گھٹنے لگتا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ تمھیں بھی ایک حالت پر دوام نہیں ہے، بلکہ ان اشیاء کی طرح تمھارا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے چلے جانا بھی یقینی ہے۔ اسی طرح زندگی کے بعد موت، پھر زندگی اور ہر عمل کی جزا و سزا کا ہونا بھی یقینی ہے۔ ➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے {” طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ “} کی تفسیر فرمائی: [ حَالًا بَعْدَ حَالٍ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «لترکبن طبقا عن طبق» : ۴۹۴۰ ] ”یعنی ایک حالت کے بعد دوسری حالت میں۔“ آدمی ہر لمحے نئی سے نئی حالت میں منتقل ہوتا جائے گا۔ بڑے بڑے تغیرات یہ ہیں، مٹی سے پیدا ہو کر نطفہ، پھر ماں کے پیٹ کی مختلف حالتیں، پھر پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپا، تندرستی، بیماری، فقر، غنا، پھر موت، قبر اور قیامت، غرض انسان بے شمار احوال سے گزرتا ہوا جنت یا دوزخ کو پہنچ جائے گا۔
پھر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں کیا ہو گیا کہ ایمان نہیں ﻻتے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا ہوا انہیں ایمان نہیں لاتے
علامہ محمد حسین نجفی
تو انہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے؟
عبدالسلام بن محمد
تو انھیں کیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیشین گوئی ٭٭
«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔ خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:612] مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ «وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:17] کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4940] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7068] اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ } ۱؎ [صحیح بخاری:7320] مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“ }
{ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» ۱؎ [50-ق:22] ’ تو اس سے غافل تھا ‘، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» ۱؎ [84-الإنشقاق:19] پڑھی یعنی ’ ایک حال سے دوسرا حال ‘، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو }۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ’ آپ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں ‘ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) {فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ:} یعنی جب ایک حالت پر قرار نہیں تو یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ انھیں یہ ضد کیوں ہے کہ ہمیں مر کر اسی حال میں رہنا ہے؟
اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجده نہیں کرتے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب قرآن پڑھا جائے سجدہ نہیں کرتے السجدة ۔۱۳
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تویہ سجدہ نہیں کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا ‘، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] یعنی ’ یہ بے انتہا بخشش ہے ‘ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] یعنی ’ ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
21۔ 1 احادیث سے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا سجدہ کرنا ثابت ہے۔
(آیت 21){ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ …:} اور پیدا کرنے والے کا کلام سن کر بھی نہیں جھکتے۔
پھر فرمایا کہ ’ انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا ‘، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] یعنی ’ یہ بے انتہا بخشش ہے ‘ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] یعنی ’ ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
22۔ 1 یعنی ایمان لانے کی بجائے جھٹلا رہے ہیں۔
(آیت 22){ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} یعنی یہ بات نہیں کہ قرآن کے دلائل میں کوئی کمی ہے یا اس کی آواز ان کے دلوں کی گہرائی تک نہیں پہنچی، بلکہ انھوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہم نے ماننا ہی نہیں۔ چنانچہ یہ کفر و عناد ہی تکذیب کا باعث ہے۔
حالانکہ جو کچھ یہ (اپنے نامہ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ خوب جانتا ہے جو اپنے جی میں رکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ بہتر جانتا ہے جو کچھ وہ (اپنے دلوں میں) جمع کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ جمع کررہے ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا ‘، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] یعنی ’ یہ بے انتہا بخشش ہے ‘ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] یعنی ’ ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23){ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَ: ” يُوْعُوْنَ “ ” وِعَاءٌ “} سے مشتق ہے، جس کا معنی برتن ہے، {”أَوْعَي الْمَالَ“} اس نے مال جمع کیا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ جو اعمال وہ آخرت کے لیے جمع کر رہے ہیں، زبانی جھٹلانے کے ساتھ ساتھ انھوں نے دلوں میں جو کبر و عناد جمع کر رکھا ہے اور آپ کے خلاف جو جو سازشیں انھوں نے تیار کر رکھی ہیں وہ اللہ کو ان سے بھی زیادہ معلوم ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا ‘، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] یعنی ’ یہ بے انتہا بخشش ہے ‘ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] یعنی ’ ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24) {فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ:} بشارت اس خوشی کی خبر کو کہتے ہیں جس کا اثر {”بَشَرَةٌ“} (جلد) پر ظاہر ہو جائے، یہاں عذاب الیم کے لیے بشارت کا لفظ بطور استہزا ہے۔
البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو بے شمار اور نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے وہ ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ان کیلئے کبھی ختم نہ ہو نے والا اجر و ثواب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا ‘، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] یعنی ’ یہ بے انتہا بخشش ہے ‘ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] یعنی ’ ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25){ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …: ” غَيْرُ مَمْنُوْنٍ “ ”مَنَّ يَمُنُّ“} (ن) (قطع کرنا) سے اسم مفعول ہے، کہا جاتا ہے: {” مَنَنْتُ الْحَبْلَ“} ”میں نے رسی کاٹ دی۔“ یعنی ایسا اجر جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، جس کی کوئی نعمت نہ کم ہوگی اور نہ ختم ہو گی۔