بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانشقاق — Surah Inshiqaq
آیت نمبر 10
کل آیات: 25
قرآن کریم الانشقاق آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ الانشقاق islamicurdubooks.com ↗
وَ اَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ وَرَآءَ ظَہۡرِہٖ ﴿ۙ۱۰﴾
رہا وہ شخص جس کا نامہ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا
ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا
اور وہ جس کا نامہٴ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے
اور جس کا نامۂ اعمال اس کے پس پشت دیا جائے گا۔
اور لیکن وہ شخص جسے اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا گیا ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرمایا ’ جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:8] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4939] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ { یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ } [ضعیف] ‏‏‏‏ خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔ } ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏‏‏‏ غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔‘

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 10){ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ …:} یہاں پیٹھ کے پیچھے اعمال نامے ملنے کا ذکر ہے اور سورۂ حاقہ (۲۵) میں بائیں ہاتھ میں، غور کریں تو صاف سمجھ میں آرہا ہے کہ ان مجرموں کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں گے، جہاں انھیں بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا۔
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →