بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانشقاق — Surah Inshiqaq
آیت نمبر 23
کل آیات: 25
قرآن کریم الانشقاق آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ الانشقاق islamicurdubooks.com ↗
وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُوۡعُوۡنَ ﴿۫ۖ۲۳﴾
حالانکہ جو کچھ یہ (اپنے نامہ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے
اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں
اور اللہ خوب جانتا ہے جو اپنے جی میں رکھتے ہیں
اور اللہ بہتر جانتا ہے جو کچھ وہ (اپنے دلوں میں) جمع کر رہے ہیں۔
اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ جمع کررہے ہیں ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرمایا کہ ’ انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا ‘، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ بے انتہا بخشش ہے ‘ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23){ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَ:يُوْعُوْنَ “ ” وِعَاءٌ “} سے مشتق ہے، جس کا معنی برتن ہے، {”أَوْعَي الْمَالَ“} اس نے مال جمع کیا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ جو اعمال وہ آخرت کے لیے جمع کر رہے ہیں، زبانی جھٹلانے کے ساتھ ساتھ انھوں نے دلوں میں جو کبر و عناد جمع کر رکھا ہے اور آپ کے خلاف جو جو سازشیں انھوں نے تیار کر رکھی ہیں وہ اللہ کو ان سے بھی زیادہ معلوم ہیں۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →