بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الانسان/الدهر
سورۃ الانسان/الدهر — 31 آیات
قرآن کریم Surah 76
ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا انسان پر لا متناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں اس کا نام بھی نہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت گزر چکا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا۔
عبدالسلام بن محمد
کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا (کہیں) ذکر ہوا ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» ۱؎ [67-الملك:2] ‏‏‏‏ ’ تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ ‘ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی ‘۔

اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» ۱؎ [90- البلد:10] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں ‘، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔ «‏‏‏‏شاکراً» اور «کفوراً» ‏‏‏‏کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ میں ہے، یعنی ’ وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے ‘۔ جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:223] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔‏‏‏‏“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی] ‏‏‏‏

سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ { ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا }۔ مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ { جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:323/2:ضعیف] ‏‏‏‏
یقیناً گزرا ہے انسان ایک وقت زمانے میں (1) جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔
اس سورت کو { ”سُوْرَةُ الإِْنْسَانِ“ } اور {”سُوْرَةُ هَلْ أَتٰي“} بھی کہا جاتا ہے۔ (قاسمی) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرَأُ فِي الْجُمُعَۃِ فِيْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ: «‏‏‏‏الٓمّٓ (1) تَنْزِيْلُ» ‏‏‏‏ [ السجدۃ: ۱،۲ ] وَ «هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ» ‏‏‏‏ [ الإنسان: ۱ ] ] [ بخاري، الجمعۃ، باب ما یقرأ في صلاۃ الفجر یوم الجمعۃ: ۸۹۱ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔“ (آیت 1) ➊ {هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ …: ” هَلْ “} (کیا) پوچھنے کے لیے آتا ہے۔ یہ پوچھنا کبھی تو کوئی خبر معلوم کرنے کے لیے ہوتا ہے، جیسے {”هَلْ فِي الدَّارِ زَيْدٌ“} ”کیا گھر میں زید ہے؟“ اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ کبھی یہ سوال کسی بات کی نفی کے لیے ہوتا ہے، جیسے: {”وَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ ذٰلِكَ أَحَدٌ“} ”بھلا یہ کام کوئی کرسکتا ہے؟“ یعنی کوئی نہیں کر سکتا۔ عربی میں اسے نفی کے علاوہ جحد بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پوچھنا بات منوانے کے لیے ہوتا ہے، اسے عربی میں تقریر کہتے ہیں، جیسے آپ نے کسی کو کچھ دیا ہو یا اس کی عزت کی ہو تو اسے کہیں {”هَلْ أَعْطَيْتُكَ“} ”کیا میں نے تمھیں دیا؟“ اور {”هَلْ أَكْرَمْتُكَ“} ”کیا میں نے تمھاری عزت کی؟“ اس وقت یہ {”هَلْ“} بمعنی {” قَدْ“} ہوتا ہے، یعنی یقینا میں نے تمھیں دیا اور یقینا میں نے تمھاری عزت کی۔ اس آیت میں {” هَلْ “} اسی آخری معنی کے لیے آیا ہے۔ بہت سے مفسرین نے اس کا ترجمہ ”یقینا“ یا ”تحقیق“ کیا ہے، لیکن {” هَلْ “} کا معنی اپنے اصل پر ”کیا“ ہو تب بھی مراد یہی ہے کہ یقینا اس پر ایسا وقت گزرا ہے۔ ➋ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، ان کے خیال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کے خاک ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ پیدا کیا جا سکے۔ یہاں ایسے لوگوں کو قائل کرنے کے لیے سوال ہے کہ کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے جب وہ کوئی ایسی چیز ہی نہ تھا جس کا ذکر ہوتا ہو؟ صاف ظاہر ہے کہ ان کا جواب یہ ہو گا کہ یقینا انسان پر ایسا وقت گزرا ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اسے اس وقت بنا لیا جب یہ کچھ بھی نہ تھا بلکہ کہیں اس کا ذکر بھی نہ تھا تو پیدا کرنے کے بعد دوبارہ وہ کیوں نہیں بنا سکتا؟ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَيًّا (66) اَوَ لَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ يَكُ شَيْـًٔا» ‏‏‏‏ [ مریم: 67،66 ] ”اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا مجھے زندہ کرکے (قبر سے) نکالاجائے گا؟ کیا اسے یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اسے پیدا کیا جب وہ کوئی چیز ہی نہ تھا۔“ ➌ {” الْاِنْسَانِ “} سے مراد یہاں صرف آدم علیہ السلام نہیں بلکہ نسل انسانی ہے، کیونکہ آئندہ آیت میں انسان کے نطفہ سے پیدا ہونے کا ذکر ہے۔
اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ٭ۖ نَّبۡتَلِیۡہِ فَجَعَلۡنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اِس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے آدمی کو کیا ملی ہوئی منی سے کہ وہ اسے جانچیں تو اسے سنتا دیکھتا کردیا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ ہم اسے آزمائیں پس اس لئے ہم نے اسے سننے والا (اور) دیکھنے والا بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» ۱؎ [67-الملك:2] ‏‏‏‏ ’ تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ ‘ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی ‘۔

اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» ۱؎ [90- البلد:10] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں ‘، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔ «‏‏‏‏شاکراً» اور «کفوراً» ‏‏‏‏کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ میں ہے، یعنی ’ وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے ‘۔ جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:223] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔‏‏‏‏“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی] ‏‏‏‏

سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ { ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا }۔ مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ { جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:323/2:ضعیف] ‏‏‏‏
2۔ 1 ملے جلے مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا کرنے کا مقصد انسان کی آزمائش ہے۔ 2۔ 2 یعنی اسے سماعت اور بصارت کی قوتیں عطا کیں، تاکہ وہ سب کچھ دیکھ سکے اور سن سکے اور اس کے بعد اطاعت یا انکاری دونوں راستوں میں کسی ایک کا انتخاب کرسکے۔
(آیت 2) ➊ { اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ:} یعنی انسان کی پیدائش صر ف مرد یا صرف عورت کے نطفہ سے نہیں ہوئی بلکہ دونوں کے ملے جلے نطفہ سے ہوئی ہے، کیونکہ دونوں کے ملنے ہی سے حمل منعقد ہوتا ہے۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيْظٌ أَبْيَضُ وَ مَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيْقٌ أَصْفَرُ فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا أَوْ سَبَقَ يَكُوْنُ مِنْهُ الشَّبَهُ ] [ مسلم، الحیض، باب وجوب الغسل علی المرأۃ…: ۳۱۱] ” مرد کا پانی سفید گاڑھا اور عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، ان میں سے جو غالب آجائے یا سبقت کر جائے اسی سے مشابہت ہوتی ہے۔“ ➋ { نَبْتَلِيْهِ:} ہم اسے آزماتے ہیں، یعنی انسان کو پیدا کرنے کا مقصد اس کی آزمائش ہے کہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [ الملک: ۲] ”(اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کو اس لیے پیدا فرمایا) تاکہ تمھاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔“ ➌ {فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًا بَصِيْرًا:} ”ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا“ اگرچہ جانور بھی سنتے اور دیکھتے ہیں مگر انھیں ”سمیع و بصیر“ نہیں کہا جاتا، کیونکہ وہ عقل کی نعمت سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سننے اور دیکھنے کی ایسی قوتیں دی ہیں جن سے وہ اچھے برے میں تمیز کرسکتاہے اور بہت دور تک سوچ سکتا ہے۔ گویا دوسرے جانور اس کے مقابل بہرے اور اندھے ہیں۔
اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اسے راه دکھائی اب خواه وه شکر گزار بنے خواه ناشکرا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے اسے راہ بتائی یا حق مانتا یا ناشکری کرتا
علامہ محمد حسین نجفی
بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا ہے اب چاہے شکر گزار بنے اور چاہے ناشکرا بنے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ نا شکرا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» ۱؎ [67-الملك:2] ‏‏‏‏ ’ تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ ‘ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی ‘۔

اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» ۱؎ [90- البلد:10] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں ‘، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔ «‏‏‏‏شاکراً» اور «کفوراً» ‏‏‏‏کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ میں ہے، یعنی ’ وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے ‘۔ جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:223] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔‏‏‏‏“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی] ‏‏‏‏

سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ { ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا }۔ مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ { جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:323/2:ضعیف] ‏‏‏‏
3۔ 1 یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کردیا ہے اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اطاعت الہی کا راستہ اختیار کر کے شکر گزار بندہ بن جائے یا معصیت کا راستہ اختیار کر کے اس کا ناشکرا بن جائے۔
(آیت 3) ➊ { اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ:} یعنی ہم نے انسان کی آزمائش کرتے ہوئے اسے صرف سمع و بصر اورعقل کی نعمت عطا کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اسے صحیح اور غلط راستہ بتانے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ نیکی و بدی کی یہ تمیز اس کی فطرت میں بھی رکھی ہے، جس کی وجہ سے اچھے کام اس کے لیے معروف (جانے پہچانے) اور برے کام منکر(نہ پہچانے ہوئے) ہیں اور انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے بھی اسے نیکی و بدی کا راستہ بتایا ہے۔ ➋ { اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا:} سمع و بصر، عقل و فہم، فطرتِ انسانی اور انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے ملنے والی آسمانی رہنمائی کے بعد انسان کے لیے صحیح راستہ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ اس راستے پر چل کر اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بن جائے، یا وہ سیدھا راستہ ترک کرکے اس کی نعمتوں کی نا شکری اور کفر کرنے والا بن جائے۔
اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَلٰسِلَا۠ وَ اَغۡلٰلًا وَّ سَعِیۡرًا ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور شعلوں والی آگ تیار کر رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہیں زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے کافروں کیلئے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» ۱؎ [40-غافر:71-72] ‏‏‏‏ ’ جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے ‘۔ ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو ‘۔ کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔ «تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90] ‏‏‏‏ میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» ۱؎ [18-الکھف:33] ‏‏‏‏ میں۔

پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے { جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6696] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ یعنی ’ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ۱؎ [3-آل عمران:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو ‘۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ } [بیہقی] ‏‏‏‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ { افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1419] ‏‏‏‏ یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ { ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ { نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو }۔ ۱؎ [مسند احمد:3/117:صحیح] ‏‏‏‏ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

«قَمْطَرِيرً» ‏‏‏‏کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» ۱؎ [80-عبس:38-39] ‏‏‏‏ ’ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4418] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں } الخ۔، ۱؎ [صحیح بخاری:3555] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا ‘۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «‏‏‏‏أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «‏‏‏‏شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «‏‏‏‏وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
4۔ 1 یہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔
(آیت 4){ اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ …: ” سَلٰسِلَاْ”سِلْسِلَةٌ“} کی جمع ہے، زنجیریں۔ {” اَغْلٰلًا”غُلٌّ“} کی جمع ہے، طوق۔ انسان کی پیدائش کی ابتدا اور راہ حق کی طرف اس کی رہنمائی ذکر کرنے کے بعد ہدایت قبول کرنے سے انکار کرنے والوں کا اور نیک لوگوں کا انجام ذکر فرمایا کہ ہم نے کفار کے لیے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ کفار کے لیے اغلال اور سلاسل کا ذکر سورۂ حاقہ (۳۰ تا ۳۳) اورسورۂ مومن (۶۹ تا ۷۲) میں دیکھیے۔
اِنَّ الۡاَبۡرَارَ یَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ کَاۡسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوۡرًا ۚ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نیک لوگ (جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک نیک لوگ وه جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک نیک پئیں گے اس جام میں سے جس کی ملونی کافور ہے وہ کافور کیا ایک چشمہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بلاشبہ نیکوکار (جنت میں شرابِ طہور کے) ایسے جام پئیں گے جن میں (آبِ کافور) کی آمیزش ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ نیک لوگ ایسے جام سے پییں گے جس میں کافور ملا ہوا ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» ۱؎ [40-غافر:71-72] ‏‏‏‏ ’ جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے ‘۔ ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو ‘۔ کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔ «تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90] ‏‏‏‏ میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» ۱؎ [18-الکھف:33] ‏‏‏‏ میں۔

پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے { جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6696] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ یعنی ’ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ۱؎ [3-آل عمران:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو ‘۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ } [بیہقی] ‏‏‏‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ { افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1419] ‏‏‏‏ یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ { ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ { نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو }۔ ۱؎ [مسند احمد:3/117:صحیح] ‏‏‏‏ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

«قَمْطَرِيرً» ‏‏‏‏کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» ۱؎ [80-عبس:38-39] ‏‏‏‏ ’ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4418] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں } الخ۔، ۱؎ [صحیح بخاری:3555] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا ‘۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «‏‏‏‏أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «‏‏‏‏شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «‏‏‏‏وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
5۔ 1 کأس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو اور چھلک رہا ہو کافور ٹھنڈی اور ایک مخصوص خوشبو کی حامل ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو مشام جان کو معطر کرنے والی ہوجائے گی۔
(آیت 5) ➊ {اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ …: ” الْاَبْرَارَ”بَارٌّ“} یا {”بَرٌّ“} کی جمع ہے، نیکی کرنے والے۔ {” كَاْسٍ “} وہ برتن جس سے پیا جائے۔ عام طور پر {”كَأْسٌ“} کا لفظ اس برتن پر بولتے ہیں جس میں شراب موجود ہو۔ {”مِزَاجٌ“} آمیزش، ملونی، وہ چیز جو لذت یا خوشبو میں اضافے کے لیے مشروب میں ملائی جائے۔ {” كَافُوْرًا “} ایک خوشبو دار پودا، اس پودے سے نکلنے اور حاصل ہونے والی خوشبو جو تاثیر میں نہایت ٹھنڈی ہوتی ہے۔ ➋ کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کا ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ شراب کے ایسے جام پییں گے جن میں کافور کی آمیزش ہو گی،یعنی بھڑکتی ہوئی آگ کے بجائے انھیں ایسی شراب ملے گی جس میں ٹھنڈی تاثیر اور خوشبودار کافور کی آمیزش ہو گی۔ واضح رہے کہ دنیاکے کافور اور جنت کے کافور میں صرف نام کی مشابہت ہے، جیسا کہ دنیا کی شراب اور جنت کی شراب میں صرف نام کی مشابہت ہے کہ جنت کی شراب میں سرور و نشاط وغیرہ کی وہ خوبیاں تو ہوں گی جو دنیا کی شراب میں ہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہوں گی، مگر وہ دنیا کی شراب کی خرابیوں مثلاً بد بو، زوال عقل، خمار اور اعضا شکنی وغیرہ سے پاک ہو گی۔ اسی طرح جنت کے کافور میں وہ ٹھنڈک، لطافت اور خوشبو تو ہو گی جو دنیا کے کافور میں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہو گی، مگر وہ دنیوی کافور کی خرابیوں مثلاً اس کی زہریلی تاثیر اور بو میں ایک ناگوار سے احساس سے پاک ہوگا۔ {”مِزَاجٌ“} کا مطلب یہ ہے کہ ابرار کوملنے والی شراب میں خوشبو اور لذت کے اضافے کے لیے کافور کے چشمے سے آمیزش کی جائے گی، جس سے اس کی تیزی اور حرارت اعتدال پر آجائے گی۔
عَیۡنًا یَّشۡرَبُ بِہَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ایک بہتا چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے شراب پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں لیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو ایک چشمہ ہے۔ جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے (جدھر چاہیں)
احمد رضا خان بریلوی
جس میں سے اللہ کے نہایت خاص بندے پئیں گے اپنے محلوں میں اسے جہاں چاہیں بہا کر لے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے (خاص) بندے پئیں گے اور جدھر جائیں گے ادھر بہا کرلے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پییں گے، وہ اسے بہا کر لے جائیں گے، خوب بہاکر لے جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» ۱؎ [40-غافر:71-72] ‏‏‏‏ ’ جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے ‘۔ ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو ‘۔ کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔ «تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90] ‏‏‏‏ میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» ۱؎ [18-الکھف:33] ‏‏‏‏ میں۔

پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے { جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6696] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ یعنی ’ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ۱؎ [3-آل عمران:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو ‘۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ } [بیہقی] ‏‏‏‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ { افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1419] ‏‏‏‏ یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ { ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ { نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو }۔ ۱؎ [مسند احمد:3/117:صحیح] ‏‏‏‏ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

«قَمْطَرِيرً» ‏‏‏‏کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» ۱؎ [80-عبس:38-39] ‏‏‏‏ ’ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4418] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں } الخ۔، ۱؎ [صحیح بخاری:3555] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا ‘۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «‏‏‏‏أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «‏‏‏‏شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «‏‏‏‏وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
6۔ 1 یعنی کافور ملی شراب، دو چار صراحیوں یا مٹکوں نہیں ہوگی، بلکہ چشمہ ہوگا، یعنی ختم ہونے والی نہیں ہوگی۔ 6۔ 2 یعنی اس کو جدھر چاہیں گے، موڑ لیں گے، اپنے محلات و منازل میں، اپنی مجلسوں میں اور بیٹھکوں میں اور باہر میدانوں اور تفریح گاہوں میں۔
(آیت 6) {عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ …: ” عِبَادُ اللّٰهِ “} اگرچہ سب لوگ ہی اللہ کے بندے ہیں مگر یہاں مراد اللہ کے خاص بندے ہیں، جیسا کہ{”عِبَادُ الرَّحْمٰنِ“} (رحمان کے بندے)، {”نَاقَةُ اللّٰهِ“} (اللہ کی اونٹنی) اور{”بَيْتُ اللّٰهِ“} (اللہ کا گھر) میں خصوصیت پیدا ہو گئی ہے۔ یعنی اللہ کے یہ خاص بندے ابرار کافور کی آمیزش والی شراب کا جو جام پییں گے وہ ایک جام ہی نہیں ہو گا بلکہ کافور کی آمیزش والا ایک چشمہ ہو گا جس سے مومن جہاں چاہے گا شاخ نکال کر لے جائے گا۔ بعض مفسرین نے {” الْاَبْرَارَ “} اور{” عِبَادُ اللّٰهِ “} کو الگ الگ قرار دے کر یہ معنی کیا ہے کہ ابرار یعنی نیک لوگوں کو پلائے جانے والے شراب کے جام میں کافور نامی چشمے میں سے کچھ ملاوٹ ہو گی، جس طرح کسی کے شربت میں کوئی خوشبو دار شربت مثلاً روح افزا ملا دیا جائے، جب کہ ”عباداللہ“ یعنی اللہ کے مقرب بندوں کو کافور کے چشمے کی صرف آمیزش ہی نہیں بلکہ اس کا خالص پانی جتنا وہ چاہیں گے ملے گا۔ مجھے پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسۡتَطِیۡرًا ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ وہ لوگ ہونگے جو (دنیا میں) نذر پوری کرتے ہیں، اور اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی نذریں (منتیں) پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
جو اپنی نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی مصیبت بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» ۱؎ [40-غافر:71-72] ‏‏‏‏ ’ جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے ‘۔ ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو ‘۔ کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔ «تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90] ‏‏‏‏ میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» ۱؎ [18-الکھف:33] ‏‏‏‏ میں۔

پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے { جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6696] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ یعنی ’ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ۱؎ [3-آل عمران:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو ‘۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ } [بیہقی] ‏‏‏‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ { افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1419] ‏‏‏‏ یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ { ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ { نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو }۔ ۱؎ [مسند احمد:3/117:صحیح] ‏‏‏‏ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

«قَمْطَرِيرً» ‏‏‏‏کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» ۱؎ [80-عبس:38-39] ‏‏‏‏ ’ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4418] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں } الخ۔، ۱؎ [صحیح بخاری:3555] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا ‘۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «‏‏‏‏أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «‏‏‏‏شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «‏‏‏‏وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
7۔ 1 یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں نذر بھی مانتے ہیں تو اسی کے لیے اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس دن سے ڈرتے ہوئے محرمات اور معصیات کا ارتکاب نہیں کرتے۔ برائی پھیل جانے کا مطلب ہے کہ اس روز اللہ کی گرفت صرف وہی بچے گا جسے اللہ اپنے دامن عفو و رحمت میں ڈھانک لے گا۔ باقی سب اس کے شر کی لپیٹ میں ہونگے۔
(آیت 7) {يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ …: ”اَلنَّذْرُ“} اپنے آپ پر وہ چیز واجب کر لینا جو واجب نہیں ہے۔ {” مُسْتَطِيْرًا”طَارَ يَطِيْرُ“} اڑنا اور {”اِسْتَطَارَ يَسْتَطِيْرُ“} باب استفعال میں الفاظ زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ اڑنے والا، مراد ہے بہت زیادہ پھیلنے والا، جیسے آگ یا صبح کی روشنی خوب پھیل جائے تو کہا جاتا ہے: {”اِسْتَطَارَ الْحَرِيْقُ“} یا {”اِسْتَطَارَ الْفَجْرُ“} کہ آگ بہت زیادہ پھیل گئی ہے، یاصبح کی روشنی خوب پھیل گئی ہے۔ اس آیت میں اور اس کے بعد کی تین آیات میں اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کی چند صفات بیان کی گئی ہیں، ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذر پوری کرتے ہیں، یعنی جو کام ان پر واجب نہیں جب اللہ کی رضا کے لیے اپنے آپ پر واجب کر لیتے ہیں تو انھیں پورا کرتے ہیں، پھر جو کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی واجب ہیں ان پرکتنے اہتمام سے عمل کرتے ہوں گے۔ نذر کے مسائل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۰) اور سورۂ حج (۲۹) کی تفسیر۔ ان لوگوں کے نذر پوری کرنے کا باعث یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں جس کی مصیبت ہر طرف پھیلی ہوئی ہو گی۔ اس سے ان صوفیوں کا ردّ ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ جنت کے طمع یا جہنم کے خوف سے عبادت نہیں کرنی چاہیے۔
وَ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو
احمد رضا خان بریلوی
اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اس (اللہ) کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» ۱؎ [40-غافر:71-72] ‏‏‏‏ ’ جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے ‘۔ ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو ‘۔ کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔ «تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90] ‏‏‏‏ میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» ۱؎ [18-الکھف:33] ‏‏‏‏ میں۔

پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے { جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6696] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ یعنی ’ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ۱؎ [3-آل عمران:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو ‘۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ } [بیہقی] ‏‏‏‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ { افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1419] ‏‏‏‏ یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ { ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ { نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو }۔ ۱؎ [مسند احمد:3/117:صحیح] ‏‏‏‏ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

«قَمْطَرِيرً» ‏‏‏‏کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» ۱؎ [80-عبس:38-39] ‏‏‏‏ ’ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4418] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں } الخ۔، ۱؎ [صحیح بخاری:3555] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا ‘۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «‏‏‏‏أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «‏‏‏‏شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «‏‏‏‏وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
یا طعام کی محبت کے باوجود وہ اللہ کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، قیدی اگر غیر مسلم ہو تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے جیسے جنگ بدر کے کافر قیدیوں کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کی تکریم کرو۔ چناچہ صحابہ پہلے ان کو کھانا کھلاتے، خود بعد میں کھاتے۔ (ابن کثیر)
(آیت 8) ➊ { وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ …:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں، ایک یہ کہ خود کھانے کی خواہش و ضرورت کے باوجود وہ دوسرے مستحقین کو کھلا دیتے ہیں، دوسرا یہ کہ اللہ کی محبت کی وجہ سے ان لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ یہاں پہلا معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ دوسرا معنی تو اگلی آیت: «‏‏‏‏اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ» (ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں) میں آہی رہا ہے، لہٰذا تکرار سے بہتر ہے کہ الگ الگ مفہوم مراد لیا جائے۔ مزید دیکھیے سورۂ حشر کی آیت (۹): «‏‏‏‏وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ ➋ مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلانا ان اہم ترین مواقع میں سے ہے جہاں صدقہ کرنے کا حق ہے، کیونکہ مسکین وہ ہے جس کی کمائی سے اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں، یتیم اس سے بھی عاجز ہے، کیونکہ اس کا کمانے والا فوت ہوچکا ہے اور وہ کم عمر ہونے کی وجہ سے کمائی نہیں کر سکتا اور قیدی ان دونوں سے زیادہ عاجز ہے، کیونکہ اسے کسی چیز کا اختیار ہی نہیں، وہ کلیتاً دوسروں کے رحم و کرم پر ہے۔ ➌ زمانۂ جاہلیت میں اسیروں سے بہت برا سلوک کیا جاتا تھا، انھیں بیڑیاں لگا کر ہر روز باہر نکالا جاتا تاکہ وہ گدائی کے ذریعے سے اپنی ضرورت کی چیزیں لوگوں سے حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اسیروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ”ابرار“ کی صفت بیان فرمائی کہ وہ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق صحابہ کو تاکید فرمائی کہ ان کا اکرام کریں۔ چنانچہ وہ کھانے کے وقت انھیں اپنے آپ پر مقدم رکھتے۔ (ابن کثیر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمانوں کے ہاں اسیر کافر لوگ ہی تھے جو جنگ میں گرفتار ہو کر آتے تھے، آپ کے زمانے میں مسلمان اسیر نہیں رکھے جاتے تھے، مگر آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے کوئی مشرک اسیر ہو یا کسی جرم یا مطالبے میں گرفتار مسلم اسیر، سب سے حسن سلوک لازم ہے، بلکہ مسلمان اسیروں سے احسان بالاولیٰ لازم ہے۔ اس کے علاوہ غلام بھی اسیر میں شامل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وصیت میں فرمایا: [ اَلصَّلَاةَ وََ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ] [ ابن ماجہ، الوصایا، باب وھل أوصٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۲۶۹۸۔ أبو داوٗد: ۵۱۵۶، وقال الألباني صحیح ] ”نماز اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا۔“ ➍ اس آیت کی شان نزول میں علی و فاطمہ اور ان کی لونڈی فضّہ رضی اللہ عنھم کے حسنین رضی اللہ عنھما کی صحت کے لیے تین روزوں کی نذر ماننے اور افطار کے وقت قرض لائے ہوئے جو سے تیار کردہ پانچ روٹیاں سب کی سب ایک دن مسکین، دوسرے دن یتیم اور تیسرے دن اسیر کو دے دینے کی جو روایت بیان کی جاتی ہے وہ بالکل من گھڑت اور موضوع ہے۔ ابن جوزی نے اسے ”الموضوعات“ میں ذکر کیا ہے اور قرطبی نے تفصیل سے اس پر جرح کی ہے۔ اہلِ بیت نبوت کے فضائل کا ثبوت اس قسم کی موضوع روایات کا محتاج نہیں اور نہ ہی یہ کوئی نیکی ہے کہ مسکین کو ایک کے بجائے پانچوں روٹیاں دے دی جائیں اور تین دن رات بچوں کو بھوکا رکھا جائے۔ ➎ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یتیموں، مسکینوں اور اسیروں کو، خواہ و ہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، کھانا کھلانے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ ہاں فرض زکوٰۃ صرف مسلمانوں پر خرچ ہوگی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِهِمْ ] [ بخاري، الزکاۃ، باب أخذ الصدقۃ من الأغنیاء…: ۱۴۹۶ ] ”(فرض صدقہ) مسلمانوں کے اغنیا سے لیا جائے گا اور ان کے فقراء پر خرچ کیا جائے گا۔“
اِنَّمَا نُطۡعِمُکُمۡ لِوَجۡہِ اللّٰہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمۡ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اور اُن سے کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری
احمد رضا خان بریلوی
ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتےہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اور کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کیلئے کھلاتے ہیں نہ تم سے کوئی جزا چاہتے ہیں اورنہ شکریہ۔
عبدالسلام بن محمد
(اور کہتے ہیں) ہم تو صرف اللہ کے چہرے کی خاطر تمھیں کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» ۱؎ [40-غافر:71-72] ‏‏‏‏ ’ جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے ‘۔ ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو ‘۔ کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔ «تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90] ‏‏‏‏ میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» ۱؎ [18-الکھف:33] ‏‏‏‏ میں۔

پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے { جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6696] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ یعنی ’ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ۱؎ [3-آل عمران:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو ‘۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ } [بیہقی] ‏‏‏‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ { افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1419] ‏‏‏‏ یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ { ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ { نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو }۔ ۱؎ [مسند احمد:3/117:صحیح] ‏‏‏‏ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

«قَمْطَرِيرً» ‏‏‏‏کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» ۱؎ [80-عبس:38-39] ‏‏‏‏ ’ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4418] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں } الخ۔، ۱؎ [صحیح بخاری:3555] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا ‘۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «‏‏‏‏أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «‏‏‏‏شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «‏‏‏‏وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9){ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ …: ” شُكُوْرًا “} مصدر ہے، بروزن {”دُخُوْلٌ “} اور {”خُرُوْجٌ“} یعنی وہ کھانا کھلاتے ہوئے یہ بات دل میں کہتے ہیں یا زبان سے انھیں اطمینان دلانے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلا رہے ہیں، تم سے نہ یہ خواہش ہے کہ تم اس کا بدلا دو اور ہمارے کسی کام آؤ، نہ یہ کہ ہمارا شکریہ ادا کرو اور لوگوں کے سامنے ہماری سخاوت کا ذکر کرو، تاکہ وہ اپنے آپ پر احسان کا بوجھ محسوس نہ کریں۔
اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا یَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِیۡرًا ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہمیں تو اپنے رب سے اُس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی اور سختی واﻻ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم تو اپنے پروردگار کی طرف سے ایک ایسے دن (کے عذاب) سے ڈرتے ہیں جو بڑا ترش اور سخت ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت منہ بنانے والا، سخت تیوری چڑھانے والا ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» ۱؎ [40-غافر:71-72] ‏‏‏‏ ’ جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے ‘۔ ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو ‘۔ کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔ «تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90] ‏‏‏‏ میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» ۱؎ [18-الکھف:33] ‏‏‏‏ میں۔

پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے { جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6696] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ یعنی ’ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ۱؎ [3-آل عمران:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو ‘۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ } [بیہقی] ‏‏‏‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ { افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1419] ‏‏‏‏ یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ { ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ { نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو }۔ ۱؎ [مسند احمد:3/117:صحیح] ‏‏‏‏ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

«قَمْطَرِيرً» ‏‏‏‏کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» ۱؎ [80-عبس:38-39] ‏‏‏‏ ’ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4418] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں } الخ۔، ۱؎ [صحیح بخاری:3555] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا ‘۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «‏‏‏‏أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «‏‏‏‏شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «‏‏‏‏وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10۔ 1 یعنی وہ دن نہایت سخت ہوگا اور سختیوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے کافروں پر بڑا لمبا ہوگا (ابن کثیر)
(آیت 10) ➊ { اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا …: ” عَبُوْسًا “} تیوری چڑھانے والا، منہ بنانے والا۔ {” قَمْطَرِيْرًا “} سخت تیوری چڑھانے والا۔ سوال یہ ہے کہ اس دن کو {” عَبُوْسًا “} اور {” قَمْطَرِيْرًا “} کیوں کہا گیا، جبکہ تیوری چڑھانا اور منہ بگاڑنا آدمی کا کام ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس دن کی ہیبت اور سختی کی منظر کشی کے لیے اسے ایک ایسے شخص کی صورت میں پیش کیا ہے جس کے منہ اور ماتھے پر غصے کی وجہ سے سخت تیوری چڑھی ہوئی ہو۔ دوسرا یہ کہ جس طرح {”نَهَارُهٗ صَائِمٌ“} (اس کا دن روزہ دار ہے) اور {” لَيْلُهٗ قَائِمٌ “} (اس کی رات قیام کرنے والی ہے) میں صیام وقیام کی نسبت دن اور رات کی طرف کر دی ہے، حالانکہ روزہ رکھنا اور قیام کرنا آدمی کا کام ہے، اسی طرح یہا ں بھی اگرچہ دن کو تیوری چڑھانے والا کہا ہے مگر مراد یہ ہے کہ اس دن میں کافر کا چہرہ سخت تیوری والا اور بگڑا ہوا ہو گا، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ بَاسِرَةٌ» ‏‏‏‏ [ القیامۃ: ۲۴ ] ”کئی چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔“ ➋ {” اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْرًا “} (یقینا ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت منہ بنانے والا، سخت تیوری چڑھانے والا ہو گا) میں ان جاہل صوفیوں کا ردّ ہے جو قیامت یا جہنم کے خوف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اخلاص کے خلاف سمجھتے ہیں۔
فَوَقٰہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الۡیَوۡمِ وَ لَقّٰہُمۡ نَضۡرَۃً وَّ سُرُوۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اللہ تعالیٰ انہیں اُس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی
احمد رضا خان بریلوی
تو انہیں اللہ نے اس دن کے شر سے بچالیا اور انہیں تازگی اور شادمانی دی،
علامہ محمد حسین نجفی
پس اللہ ان کو اس دن کے شر سے بچائے گا اور انہیں (چہروں کی) تر و تازگی اور (دلوں کا) سُرور عطا فرمائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پس اللہ نے انھیں اس دن کی مصیبت سے بچا لیا اور انھیں انوکھی تازگی اور خوشی عطا فرمائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» ۱؎ [40-غافر:71-72] ‏‏‏‏ ’ جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے ‘۔ ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو ‘۔ کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔ «تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90] ‏‏‏‏ میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» ۱؎ [18-الکھف:33] ‏‏‏‏ میں۔

پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے { جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6696] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ یعنی ’ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ۱؎ [3-آل عمران:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو ‘۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ } [بیہقی] ‏‏‏‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ { افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1419] ‏‏‏‏ یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ { ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ { نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو }۔ ۱؎ [مسند احمد:3/117:صحیح] ‏‏‏‏ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

«قَمْطَرِيرً» ‏‏‏‏کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» ۱؎ [80-عبس:38-39] ‏‏‏‏ ’ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4418] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں } الخ۔، ۱؎ [صحیح بخاری:3555] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا ‘۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «‏‏‏‏أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «‏‏‏‏شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «‏‏‏‏وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
11۔ 1 جیسا کہ وہ اس کے شر سے ڈرتے تھے اور اس سے بچنے کے لئے اللہ کی اطاعت کرتے تھے۔ 11۔ 2 تازگی چہروں پر ہوگی اور خوشی دلوں میں، جب انسان کا دل مسرت سے لبریز ہوتا ہے تو اس کا چہرہ بھی مسرت سے گلنار ہوجاتا ہے۔
(آیت 11){ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ …:} اللہ تعالیٰ اخلاص اور خوف کے ساتھ مذکورہ اعمال کرنے والے ابرار و عباد اللہ کو اس دن کی برائی سے بچالے گا اور انھیں تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا۔ تازگی چہرے کی اور خوشی دل کی۔ دل میں خوشی ہو تو چہر ے پر تازگی آجاتی ہے۔ (دیکھیے عبس: 39،38) ان کے برعکس کفار و فجار کے چہرے بگڑے ہوئے اور دل غم و فکر سے بھرے ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ عبس (۴۰ تا ۴۲)۔
وَ جَزٰىہُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا جَنَّۃً وَّ حَرِیۡرًا ﴿ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن کے صبر کے بدلے میں اُنہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کریگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صلہ میں دیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے صبر کے صلہ میں انہیں بہشت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں ان کے صبر کرنے کے عوض جنت اور ریشم کا بدلہ عطا فرمایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» ۱؎ [40-غافر:71-72] ‏‏‏‏ ’ جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے ‘۔ ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو ‘۔ کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔ «تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90] ‏‏‏‏ میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» ۱؎ [18-الکھف:33] ‏‏‏‏ میں۔

پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے { جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6696] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ یعنی ’ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ۱؎ [3-آل عمران:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو ‘۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ } [بیہقی] ‏‏‏‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ { افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1419] ‏‏‏‏ یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ { ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ { نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو }۔ ۱؎ [مسند احمد:3/117:صحیح] ‏‏‏‏ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

«قَمْطَرِيرً» ‏‏‏‏کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» ۱؎ [80-عبس:38-39] ‏‏‏‏ ’ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4418] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں } الخ۔، ۱؎ [صحیح بخاری:3555] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا ‘۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «‏‏‏‏أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «‏‏‏‏شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «‏‏‏‏وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
12۔ 1 صبر کا معنی ہے دین کے راستے میں جو تکلفیں آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اللہ کی اطاعت میں نفس کی خواہشات اور لذات کو قربان کرنا اور معصیتوں سے اجتناب کرنا۔
(آیت 12) {وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِيْرًا:} اور انھیں اللہ تعالیٰ ان کے صبر کے عوض جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ صبر کا مفہوم بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر صبر، اس کی حرام کردہ چیزوں سے صبر، اس کے دین کی دعوت پر صبر، آزمائشوں اور تکلیفوں پر صبر، خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلانے پر صبر، غرض مومن کی زندگی اوّل تا آخر صبر ہی صبر ہے۔
مُّتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۚ لَا یَرَوۡنَ فِیۡہَا شَمۡسًا وَّ لَا زَمۡہَرِیۡرًا ﴿ۚ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہونگے نہ اُنہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی نہ جاڑے کی ٹھر
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی
احمد رضا خان بریلوی
جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے، نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ ٹھٹر (سخت سردی)
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہاں اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہ وہاں نہ سورج (کی گرمی) دیکھیں گے اور نہ سردی کی ٹھٹھر۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ اس میں سخت دھوپ دیکھیں گے اور نہ سخت سردی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭

اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے ‘۔ سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔ پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے ‘۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
13۔ 1 مطلب یہ ہے کہ وہاں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے گا اور وہ ہے موسم بہار، نہ سخت گرمی اور نہ کڑاکے کی سردی۔
(آیت 13){ مُتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَى الْاَرَآىِٕكِ …: ” شَمْسًا “} سے مراد سخت دھوپ اور گرمی اور {” زَمْهَرِيْرًا “} سے مراد سخت سردی ہے، یعنی جنت کا موسم نہایت خوش گوار اور معتدل ہوگا، اس میں نہ تکلیف دہ گرمی ہو گی نہ سردی۔ اس کے برعکس جہنم میں شدید گرمی یعنی آگ کا عذاب بھی ہو گا اور شدید سردی (زمہریر) کا بھی، بلکہ دنیا میں شدید گرمی اور شدید سردی کا اصل بھی جہنم ہی سے ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلٰی رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ! أَكَلَ بَعْضِيْ بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّ، وَ أَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الزَّمْهَرِيْرِ ] [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب الإبراد بالظھر في شدۃ الحر: ۵۳۷ ] ”آگ نے اپنے رب کے پاس شکایت کی اور کہا: ”اے میرے رب! میرے بعض حصے بعض کو کھا گئے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس نکالنے کی اجازت دے دی، ایک سانس گرمی میں اور ایک سردی میں۔ یہ وہی ہے جو تم سخت گرمی محسوس کرتے ہو اور جو تم سخت زمہریر(سردی) محسوس کرتے ہو۔“
وَ دَانِیَۃً عَلَیۡہِمۡ ظِلٰلُہَا وَ ذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُہَا تَذۡلِیۡلًا ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جنت کی چھاؤں ان پر جھکی ہوئی سایہ کر رہی ہوگی، اور اُس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑ لیں)
مولانا محمد جوناگڑھی
ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے (میوے اور) گچھے نیچے لٹکائے ہوئے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوں گے اور اس کے گچھے جھکا کر نیچے کردیے گئے ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ان (باغہائے بہشت) کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے میوے ان کی دسترس میں ہوں گے (کہ ہر وقت بلاتکلف کھا سکیں گے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے خوشے تابع کردیے جائیں گے، خوب تابع کیا جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭

اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے ‘۔ سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔ پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے ‘۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
14۔ 1 گو وہاں سورج کی حرارت نہیں ہوگی، اس کے باوجود درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی شاخیں ان کے قریب ہونگی۔ اور درختوں کے پھل، گوش برآواز فرماں بردار کی طرح انسان کا جب کھانے کو جی چاہے گا تو وہ جھک کر اتنے قریب ہوجائیں گے کہ بیٹھے، لیٹے بھی انہیں توڑ لے۔ ابن کثیر)
(آیت 14) {وَ دَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا …: ” دَانِيَةً”دَنَا يَدْنُوْ“} (ن) سے اسم فاعل ہے، قریب۔ {” ذُلِّلَتْ “} تابع کیے جائیں گے، جھکا دیے جائیں گے۔ {” تَذْلِيْلًا “} تاکید ہے، خوب جھکانا۔ {”قُطُوْفٌ“ ”قِطْفٌ“} کی جمع ہے، خوشہ، چنا ہوا پھل، یعنی جنت کے درختوں کے سائے نہایت گھنے اور جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے پھلوں کے خوشے جنتیوں کے تابع اور ان کی دسترس میں ہوں گے جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے جس طرح چاہیں گے توڑ سکیں گے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَّسِيْرُ الرَّاكِبُ فِيْ ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا ] [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ…: ۳۲۵۱ ] ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے گا مگر اسے طے نہیں کر سکے گا۔“
وَ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ اَکۡوَابٍ کَانَتۡ قَؔوَارِیۡرَا۠ ﴿ۙ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جا رہے ہونگے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا جو شیشے کے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا جو شیشے کے مثل ہورہے ہوں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشہ کے چمکدار گلاس گردش میں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان پر چاندی کے برتن اور آبخورے پھرائے جائیں گے، جو شیشے کے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭

اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے ‘۔ سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔ پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے ‘۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
15۔ 1 یعنی خادم انہیں لے کر جنتیوں کے درمیان پھریں گے۔
(آیت 16،15) {وَ يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ …: ”آنِيَةٌ“ ”إِنَاءٌ“} کی جمع ہے، بروزن {”أَفْعِلَةٌ“} اور {” اَكْوَابٍ”كُوْبٌ“} کی جمع ہے، برتن جس کی نہ ٹونٹی ہو نہ دستی، آبخورے۔ یعنی ان کی مجلس میں چاندی کے ایسے برتنوں اور آبخوروں کا دور چلے گا جو شیشے کے ہوں گے، ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہو گا۔ ایسے برتنوں کا دنیا میں کہیں وجود نہیں، کیونکہ دنیا کی چاندی کو کوٹ کر مچھر کے پر کے برابر باریک بھی کر دیا جائے تب بھی وہ شیشے کی طرح شفاف نہیں ہوسکتی۔ برتنوں کی یہ قسم جنت ہی میں ہو گی جو چاندی کی طرح سفید اور شیشے کی طرح شفاف ہو گی۔ {” قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا “} یعنی وہ پینے والوں کی ضرورت کے عین اندازے کے مطابق بنے ہوئے ہوں گے، نہ کم نہ زیادہ۔
قَؔ‍وَارِیۡرَا۠ مِنۡ فِضَّۃٍ قَدَّرُوۡہَا تَقۡدِیۡرًا ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
شیشے بھی وہ جو چاندی کی قسم کے ہونگے، اور ان کو (منتظمین جنت نے) ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
شیشے بھی چاندی کے جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
کیسے شیشے چاندی کے ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
اور شیشے بھی (کانچ کے نہیں بلکہ) چاندی کی قِسم سے ہوں گے جنہیں (منتظمین نے) پورے اندازے کے مطابق بنایا اور بھرا ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہو گا،انھوں نے ان کااندازہ رکھا ہے، خوب اندازہ رکھنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭

اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے ‘۔ سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔ پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے ‘۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
16۔ 1 یعنی یہ برتن اور آب خورے چاندی اور شیشے سے بنے ہونگے، نہایت نفیس اور نازک۔ 16۔ 2 یعنی ان میں شراب ایسے اندازے سے ڈالی گئی ہوگی کہ جس سے وہ سیراب بھی ہوجائیں، تشنگی محسوس نہ کریں اور برتنوں اور جاموں میں بھی زائد نہ بچی رہے۔ مہمان نوازی کے اس طریقے میں بھی مہمانوں کی عزت افزائی ہی کا اہتمام ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ یُسۡقَوۡنَ فِیۡہَا کَاۡسًا کَانَ مِزَاجُہَا زَنۡجَبِیۡلًا ﴿ۚ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہیں وہاں وه جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
اور اس میں وہ جام پلائے جائیں گے جس کی ملونی ادرک ہوگی
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہیں ایسی شرابِ طہور کے جام پلائے جائیں گے جن میں زنجیل (سونٹھ کے پانی) کی آمیزش ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس میں انھیں ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ ملی ہوگی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ’ جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6571] ‏‏‏‏ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ { ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (‏‏‏‏اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)‏‏‏‏‏‏‏‏

طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ { ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ }۔ تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ }۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:20] ‏‏‏‏ تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے ‘۔ اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» ۱؎ [22-الحج:23] ‏‏‏‏ ’ انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا ‘۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔‏‏‏‏“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ ’ دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے ‘۔ یہاں بھی فرمایا ہے ’ تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے ‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
17۔ 1 زَ نْجَبِیْل (سونٹھ، خشک ادرک) کو کہتے ہیں۔ یہ گرم ہوتی ہے اس کی آمیزش سے ایک خوشگوار تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں عربوں کی یہ مرغوب چیز ہے۔ چناچہ ان کے قہوہ میں بھی زنجبیل شامل ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ایک وہ شراب ہوگی جو ٹھنڈی ہوگی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور دوسری شراب گرم، جس میں زنجبیل کی ملاوٹ ہوگی۔
(آیت 18،17) {وَ يُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا …: ” كَاْسًا “} وہ پیالہ جس میں شراب ہو، خالی پیالے کو کاس نہیں کہتے۔ {”مِزَاجٌ“} آمیزش، ملونی، یعنی وہ چیز جو لذت یا خوشبو میں اضافے کے لیے ملائی جائے۔ {” زَنْجَبِيْلًا “} ادرک، سونٹھ۔ {” سَلْسَبِيْلًا “} کے تین معانی ہیں: (1) آسانی سے حلق میں اتر جانے والا۔ (2) تیزی سے بہنے والا۔ (3) آسانی سے تابع ہونے والا کہ جدھر لے جانا چاہیں لے جائیں۔عرب لوگ شراب کی لذت، حرارت، تلخی اور خوشبو میں اضافے کے لیے اس میں سونٹھ کی آمیزش کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنتیوں کو جو جامِ شراب پلایا جائے گا اس میں زنجبیل کی آمیزش ہو گی۔ گویا جنت میں ایک وہ شراب ہو گی جو ٹھنڈی ہو گی، جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور ایک گرم ہوگی جس میں سونٹھ ملی ہو گی۔ واضح رہے کہ جنت کی نعمتوں کے ذکر کے وقت دنیا کی جن چیزوں کا ذکر آیا ہے ان سے بعینہٖ وہی چیزیں مراد نہیں بلکہ ان سے بے حد و حساب اعلیٰ چیزیں مراد ہیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷) کی تفسیر۔ صاحب احسن التفاسیر لکھتے ہیں: ”اگرچہ جنت میں کھانے پینے، پہننے اور برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہیں، لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے دن ہی وہ کھٹا نہ ہو جائے؟ وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیوں کی بھنکار اس میں جم جم کر نہ مرے اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے؟ اور وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب سے اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہو جائے۔“ (احسن التفاسیر) {” عَيْنًا “ ” كَاْسًا “} سے بدل ہے یا منصوب بہ نزع الخافض ہے، یعنی {”يُسْقَوْنَ كَأْسًا مِّنْ عَيْنٍ۔“} مطلب یہ کہ انھیں وہ جامِ شراب جس میں زنجبیل کی آمیزش ہو گی، ایسے چشمے سے پلایا جائے گا جس کا نام سلسبیل ہے۔ یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا پانی نہایت خوش گوار، رقیق اور آسانی سے حلق سے اترنے والا ہوگا اور اس چشمے سے نکلنے والی نالیاں نہایت تیز رفتار اور اہلِ ایمان کے لیے نہایت تابع ہوں گی کہ وہ جدھر چاہیں گے انھیں لے جائیں گے۔
عَیۡنًا فِیۡہَا تُسَمّٰی سَلۡسَبِیۡلًا ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جنت کی ایک نہر سے جس کا نام سلسبیل ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ ادرک کیا ہے جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس (جنت) میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہاجاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل رکھا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ’ جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6571] ‏‏‏‏ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ { ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (‏‏‏‏اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)‏‏‏‏‏‏‏‏

طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ { ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ }۔ تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ }۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:20] ‏‏‏‏ تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے ‘۔ اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» ۱؎ [22-الحج:23] ‏‏‏‏ ’ انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا ‘۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔‏‏‏‏“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ ’ دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے ‘۔ یہاں بھی فرمایا ہے ’ تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے ‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
18۔ 1 یعنی اس شراب زنجبیل کی بھی ایک نہر ہوگی جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ۚ اِذَا رَاَیۡتَہُمۡ حَسِبۡتَہُمۡ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے ارد گرد گھومتے پھرتے ہوں گے وه کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وه بکھرے ہوئے سچے موتی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے آس پاس خدمت میں پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے جب تو انہیں دیکھے تو انہیں سمجھے کہ موتی ہیں بکھیرے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کی خدمت کیلئے ایسے لڑکے گردش کر رہے ہوں گے جو ہمیشہ ایک حالت میں رہیں گے جب تم انہیں دیکھو گے تو سمجھو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے اردگرد لڑکے گھوم رہے ہوں گے، جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، جب تو انھیں دیکھے گا تو انھیں بکھرے ہوئے موتی گمان کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ’ جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6571] ‏‏‏‏ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ { ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (‏‏‏‏اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)‏‏‏‏‏‏‏‏

طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ { ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ }۔ تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ }۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:20] ‏‏‏‏ تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے ‘۔ اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» ۱؎ [22-الحج:23] ‏‏‏‏ ’ انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا ‘۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔‏‏‏‏“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ ’ دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے ‘۔ یہاں بھی فرمایا ہے ’ تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے ‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
19۔ 1 شراب کی اوصاف بیان کرنے کے بعد، ساقیوں کا وصف بیان کیا جا رہا ہے ' ہمیشہ رہیں گے ' کا مطلب تو یہ ہے جنتیوں کی طرح ان خادموں کو بھی موت نہیں آئے گی۔ دوسرا یہ کہ ان کا بچپن اور ان کی رعنائی ہمیشہ برقرار رہے گی۔ وہ بوڑھے نہ ہونگے نہ ان کا حسن جمال تبدیل ہوگا۔ 19۔ 2 حسن و صفائی اور تازگی و شادابی میں موتیوں کی طرح ہونگے، بکھرے ہونے کا مطلب، خدمت کے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے اور نہایت تیزی سے مصروف خدمت ہوں گے۔
(آیت 19) {وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ …:} یعنی جنتیوں کی مجلس میں خدمت کے لیے ایسے لڑکے گردش کرتے رہیں گے جن میں دو وصف نمایاں ہو ں گے، ایک تویہ کہ وہ ہمیشہ بچے ہی رہیں گے، کیونکہ خدمت کے لیے بڑی عمر کے آدمی کے بجائے بچے زیادہ مستعد اور موزوں ہوتے ہیں اور انھیں خدمت کے لیے کوئی کام کہنے میں حجاب نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ وہ اتنے خوبصورت ہوں گے کہ جب تم انھیں آتے جاتے دیکھو گے تو گمان کرو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ ان کی خدمت کے لیے ہر طرف پھیلے ہوئے ہونے کو موتیوں کے بکھرنے سے تشبیہ دی ہے۔ یہ لڑکے کوئی الگ مخلوق ہو گی، جو اللہ تعالیٰ اہلِ جنت کی خدمت کے لیے پیدا فرمائے گا یا جنتیوں کے اپنے لڑکے ہوں گے؟ اگرچہ پہلی بات بھی ممکن ہے، مگر سورۂ طور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنتیوں کے اپنے بچے ہی ہوں گے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ» [ الطور: ۲۴ ] ”اور ان پر پھریں گے ان کے لڑکے، گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے ان کے اپنے ہی بچے ہوں گے جو دنیا میں فوت ہو گئے یا جنت میں اگر کسی کو اولاد کی خواہش ہوئی، تو وہ بچے انھیں عطا کیے جائیں گے۔ یہ بچے خدمت کے لیے ان کے اردگرد پھریں گے اور ان کے لیے مزید راحت و مسرت کا باعث ہوں گے۔ (واللہ اعلم) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَی الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ، كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِيْ سَاعَةٍ وَّاحِدَةٍ، كَمَا يَشْتَهِيْ ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب صفۃ الجنۃ: ۴۳۳۸، وقال الألباني صحیح ] ”مومن جب جنت میں اولاد چاہے گا تو اس کا حمل اور وضع حمل اور اس کا بڑا ہونا ایک گھڑی میں ہو جائے گا، اس کی خواہش کے مطابق۔“
وَ اِذَا رَاَیۡتَ ثَمَّ رَاَیۡتَ نَعِیۡمًا وَّ مُلۡکًا کَبِیۡرًا ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سر و سامان تمہیں نظر آئے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب تو ادھر نظر اٹھائے ایک چین دیکھے اور بڑی سلطنت
علامہ محمد حسین نجفی
تم وہاں جدھر بھی دیکھو گے وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تو وہاں دیکھے گا تو نعمت ہی نعمت اور بہت بڑی بادشاہی دیکھے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ’ جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6571] ‏‏‏‏ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ { ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (‏‏‏‏اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)‏‏‏‏‏‏‏‏

طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ { ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ }۔ تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ }۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:20] ‏‏‏‏ تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے ‘۔ اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» ۱؎ [22-الحج:23] ‏‏‏‏ ’ انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا ‘۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔‏‏‏‏“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ ’ دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے ‘۔ یہاں بھی فرمایا ہے ’ تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے ‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) {وَ اِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّ مُلْكًا كَبِيْرًا:} اور نعمت کا حال کیا ہو گا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّذِيْنَ عَلٰی إِثْرِهِمْ كَأَشَدِّ كَوْكَبٍ إِضَاءَةً، قُلُوْبُهُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ، لاَ اخْتِلاَفَ بَيْنَهُمْ وَلاَ تَبَاغُضَ، لِكُلِّ امْرِءٍ مِّنْهُمْ زَوْجَتَانِ، كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا يُرٰی مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَّرَاءِ لَحْمِهَا مِنَ الْحُسْنِ، يُسَبِّحُوْنَ اللّٰهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا، لاَ يَسْقَمُوْنَ وَلاَ يَمْتَخِطُوْنَ، وَلاَ يَبْصُقُوْنَ، آنِيَتُهُمُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ، وَأَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَ وَقُوْدُ مَجَامِرِهِمُ الْأُلُوَّةُ قَالَ أَبُو الْيَمَانِ يَعْنِی الْعُوْدَ وَ رَشْحُهُمُ الْمِسْكُ ] [بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ…: ۳۲۴۶ ] ”پہلے گروہ کے لوگ جو جنت میں داخل ہوں گے، چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، ان کے بعد جو لوگ جائیں گے وہ سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ ان کے دل ایک ہی آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، ان میں نہ کوئی اختلاف ہو گا اور نہ بغض۔ ان میں ہر ایک آدمی کی دوبیویاں ہوں گی، حسن کی وجہ سے ان عورتوں کی پنڈلی کا مغز گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا۔ وہ صبح وشام اللہ کی تسبیح کریں گے۔ وہ نہ بیمار ہوں گے، نہ ناک سنکیں گے اور نہ تھوکیں گے۔ ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی، ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن {”أُلُوَّه“} (ایک خوشبودار لکڑی عود) ہو گی اور ان کا پسینا کستوری ہو گا۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے آخر میں جہنم سے نکل کر جنت میں جانے والے شخص کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سے کہیں گے: [ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا ] [ مسلم، الإیمان، باب آخر أھل النار خروجا: ۱۸۶ ] ”تجھے دنیا اور دنیا کے دس گنا کے برابر دیا جاتا ہے۔“ جب آخری جنتی کے ملک و سلطنت کا یہ حال ہے تو دوسروں کے عظیم الشان ملک کا کہنا ہی کیا ہے۔ پھر دوستوں کی ملاقاتیں، فرشتوں کی آمد و رفت، سلام اور اللہ تعالیٰ کا اہلِ جنت سے ہم کلام ہونا، سلام کہنا اور دیدار عطا فرمانا مزید نعمتیں ہیں۔ الغرض، جنت میں وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال آیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے اہلِ جنت میں شامل فرمائے۔ (آمین)
عٰلِیَہُمۡ ثِیَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّ اِسۡتَبۡرَقٌ ۫ وَّ حُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّۃٍ ۚ وَ سَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابًا طَہُوۡرًا ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے، ان کو چاندی کے کنگن پہنا ئے جائیں گے، اور ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا۔ اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا
احمد رضا خان بریلوی
ان کے بدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے اور قنا ویز کے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے گئے اور انہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے بھی اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور انکا پروردگار انہیں پاک و پاکیزہ شراب پلائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز کپڑے اور گاڑھا ریشم ہوگا اور انھیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب انھیں نہایت پاک شراب پلائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ’ جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6571] ‏‏‏‏ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ { ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (‏‏‏‏اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)‏‏‏‏‏‏‏‏

طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ { ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ }۔ تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ }۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:20] ‏‏‏‏ تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے ‘۔ اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» ۱؎ [22-الحج:23] ‏‏‏‏ ’ انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا ‘۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔‏‏‏‏“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ ’ دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے ‘۔ یہاں بھی فرمایا ہے ’ تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے ‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
21۔ 1 جیسے ایک زمانے میں بادشاہ، سردار اور ممتاز قسم کے لوگ پہنا کرتے تھے۔
(آیت 21) ➊ {عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ …: ” سُنْدُسٍ “} باریک ریشم۔ {” اِسْتَبْرَقٌ “} گاڑھا ریشم۔ {” حُلُّوْۤا”حِلْيَةٌ“} سے {”فُعِّلُوْا“ } کے وزن پر ہے، اصل میں {”حُلِّيُوْا“} تھا، زیور پہنائے جائیں گے۔ {” اَسَاوِرَ”سِوَارٌ“} کی جمع ہے، کنگن۔ {” شَرَابًا “} مشروب، پینے کی چیز، {” طَهُوْرًا “} جو پاک ہو اور پاک کرنے والی ہو، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًا» ‏‏‏‏ [ الفرقان: ۴۸ ] ”اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔“ ➋ {” عٰلِيَهُمْ “} (ان کے اوپر) کے دومطلب ہو سکتے ہیں، ایک تویہ کہ وہ جن نشستوں پر بیٹھے ہوں گے ان کے اوپر باریک سبز ریشم اور گاڑھے ریشم کے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ جب پردے اتنے قیمتی ہوں گے تو ان کے لباس کا کیا کہنا۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے باریک سبز ریشم اور گاڑھے ریشم کا لباس پہن رکھا ہو گا، جیسا کہ سورۂ کہف میں فرمایا: «‏‏‏‏وَ یَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ» [الکہف: ۳۱] ” اور وہ باریک اور گاڑھے سبز ریشم کے کپڑے پہنیں گے۔“ یہ معنی زیادہ درست ہے، کیونکہ سورۂ کہف کی آیت سے اس کی تائید ہو رہی ہے۔ انس بن مالک، مجاہد اور قتادہ کی قراء ت میں {”عَلَيْهِمْ“} ہے۔ [ دیکھیے زاد المسیر لابن الجوزي ] اس قراءت سے بھی دوسرے معنی کی تائید ہوتی ہے، اگرچہ پہلا معنی بھی غلط نہیں۔ ➌ سورۂ کہف میں فرمایا: «‏‏‏‏يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ» ‏‏‏‏ [ الکھف: ۳۱ ] ”ان میں انھیں کچھ کنگن سونے کے پہنائے جائیں گے۔“ جبکہ یہاں چاندی کے کنگن پہنائے جانے کا ذکر ہے، دونوں میں تطبیق کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں کئی جنتیں ہیں، جیسا کہ سورۂ رحمان میں الگ الگ دو دو جنتوں کا ذکر ہے اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَ مَا فِيْهِمَا، وَ جَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَ مَا فِيْهِمَا ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وجوہ یومئذ ناظرۃ…» : ۷۴۴۴ ] ” دو باغ ایسے ہیں کہ ان کے برتن اور ان میں جو کچھ ہے چاندی کا ہے اور دو باغ ایسے ہیں کہ ان کے برتن اور ان میں جو کچھ ہے سونے کا ہے۔“ اب جنتی کی مرضی ہے کہ سونے کے کنگن پہنے یا چاندی کے یا دونوں پہن لے اور بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ شاید اہلِ جنت کے درجات کے لحاظ سے سونے کے کنگن مقربین کے لیے اور چاندی کے اصحاب الیمین کے لیے ہوں گے۔ (التسہیل) مگر یہ بات جزم سے نہیں کہی جا سکتی، اس لیے پہلی بات ہی زیادہ درست ہے۔ ➍ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کنگن وغیرہ عام طور پر عورتیں پہنتی ہیں، جنت میں مردوں کو کنگن پہنانے کا کیا مقصد ہے؟ جواب یہ ہے کہ ریشمی لباس اور سونے چاندی کے کنگنوں سے مراد اہلِ جنت کی شاہانہ شان و شوکت بیان کرنا ہے۔ دنیا میں قدیم زمانے سے بادشاہ سونے چاندی کے کنگن پہنتے رہے ہیں، جیساکہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام پر طعن کیا تھا: «‏‏‏‏فَلَوْ لَاۤ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ» [ الزخرف: ۵۳ ] ”اسے سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنا ئے گئے؟“ ➎ {وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا:} آیت کے اس ٹکڑے میں جنتیوں کے لیے کئی بشارتیں ہیں، ایک یہ کہ انھیں ان کا رب خود شرابِ طہور پلائے گا۔ اس سے بڑی عزت افزائی اور کیا ہو سکتی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ مشروب دنیا کے تمام سرور آور مشروبات کی ظاہری و باطنی نجاستوں سے اور ہر قسم کی خرابیوں سے پاک ہو گا، نہ اس میں نشہ ہو گا نہ درد سر، نہ متلی نہ قے، نہ اعضا شکنی، نہ زوال عقل، وہ سراسر لذت و سرور ہو گا۔ تیسری یہ کہ {” طَهُوْرًا “} کے لفظ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اس کے پینے سے اہلِ جنت کے دل پاک ہو جائیں گے اور ان سے حسد، بغض اور تمام کدورتیںدور ہو جائیں گی۔
اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَکُمۡ جَزَآءً وَّ کَانَ سَعۡیُکُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿٪۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کارگزاری قابل قدر ٹھیری ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی
احمد رضا خان بریلوی
ان سے فرمایا جائے گا یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی
علامہ محمد حسین نجفی
یہ تمہاری جزا ہے اور تمہاری کوشش شکرگزاری کے قابل ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یہ تمھارے لیے ہمیشہ کا بدلہ ہے اور تمھاری کوشش ہمیشہ قدر کی ہوئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ’ جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6571] ‏‏‏‏ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ { ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (‏‏‏‏اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)‏‏‏‏‏‏‏‏

طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ { ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ }۔ تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ }۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:20] ‏‏‏‏ تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے ‘۔ اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» ۱؎ [22-الحج:23] ‏‏‏‏ ’ انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا ‘۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔‏‏‏‏“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ ’ دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے ‘۔ یہاں بھی فرمایا ہے ’ تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے ‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22){ اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً …:} ”یہ سب کچھ تمھارے اعمال کا بدلا ہے اور تمھاری کوشش قدر کی ہوئی ہے“ یہ بات جنتیوں سے کہی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں تھوڑی سی عمر کے اعمال کے بدلے میں ابدالآباد کی یہ نعمتیں عطا فرمائے گا۔ اس سے بڑھ کر قدر دانی کیا ہو سکتی ہے؟
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِیۡلًا ﴿ۚ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے تم پر قرآن بتدریج اتارا
علامہ محمد حسین نجفی
ہم ہی نے آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن نازل کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ہم نے ہی تجھ پر یہ قرآن اتارا، تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
23۔ 1 یعنی ایک ہی مرتبہ نازل کرنے کی بجائے حسب ضرورت مختلف اوقات میں نازل کیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے، یہ تیرا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے، جیسا کہ مشرکین دعویٰ کرتے ہیں۔
(آیت 23){ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا:} سورت کے شروع سے یہاں تک کفار و ابرار کے انجام کا ذکر فرمانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے اعتراضات کے جواب میں تسلی دی جا رہی ہے اور صبر و استقامت اور ذکر و تسبیح اور سجود کا حکم دیا جا رہا ہے۔ کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کے لیے کہا کرتے تھے کہ آپ قرآن مجید اپنے پاس ہی سے بنا کر سناتے رہتے ہیں، ورنہ یہ اکٹھا ہی کیوں نازل نہیں ہوا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس کا جواب مذکور ہے (مثلاً دیکھیے فرقان: ۳۲) مگر یہاں نہایت زور دار لہجے میں فرمایا کہ یقینا ہم ہی نے یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے آپ پر نازل کیا ہے، یعنی ہمارے علاوہ کوئی ایسا کلام بنا ہی نہیں سکتا، ورنہ تم سب مل کر ایک سورت ہی بنا کر دکھا دو اور ہم ہی جانتے ہیں کہ حکمت کا تقاضا اسے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا ہے، اس لیے آپ ان کے اعتراضات کی پروا نہ کریں۔
فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ وَ لَا تُطِعۡ مِنۡہُمۡ اٰثِمًا اَوۡ کَفُوۡرًا ﴿ۚ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لہٰذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو، اور اِن میں سے کسی بد عمل یا منکر حق کی بات نہ مانو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم ره اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہا نہ مان
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کے حکم پر صابر رہو اور ان میں کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے پروردگار کے حکم کی خاطر صبر کیجئے اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرگزار (منکر) کی بات نہ مانئیے۔
عبدالسلام بن محمد
پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور ان میں سے کسی گناہ گار یا بہت ناشکرے کا کہنا مت مان۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
24۔ 1 یعنی اس کے فیصلے کا انتظار کرو وہ تیری مدد میں کچھ تاخیر کر رہا ہے تو اس میں اس کی حکمت ہے۔ اس لئے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ اور اگر تجھے اللہ کے نازل کردہ احکام سے روکیں تو ان کا کہنا نہ مان، بلکہ تبلیغ ودعوت کا کام جاری رکھ اور اللہ پر بھروسہ رکھ، وہ لوگوں سے تیری حفاظت فرمائے گا، فاجر جو اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہو اور کفور جو دل سے کفر کرنے والا ہو یا کفر میں حد سے بڑھ جانے والا ہو۔
(آیت 24){ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ …:} یعنی وہ وقت آرہا ہے جب آپ کا رب حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، آپ اس وقت کا انتظار کرتے ہوئے صبر کریں۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ جہاد کے لیے اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کریں،یعنی خود بھی اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے رہیں، لوگوں کو بھی اسلام کی دعوت دیتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی ہر آزمائش پر بھی صبر کریں اور اس سے روکنے والے کسی شخص کے کہنے پر، خواہ وہ کوئی گناہ گار یعنی بد عمل ہو یا ناشکرا یعنی بد عقیدہ ہو، نہ اپنا عمل چھوڑیں، نہ عقیدہ اور نہ اس کی دعوت۔
وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿ۖۚ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے رب کے نام کا صبح وشام ذکر کیا کر
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو
علامہ محمد حسین نجفی
اور صبح و شام اپنے پروردگار کانام یاد کیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے رب کا نام صبح اور پچھلے پہر یاد کیا کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
25۔ 1 صبح شام سے مراد تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کر، یا صبح سے مراد فجر کی نماز اور شام سے عصر کی نماز ہے۔
(آیت 26،25){ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا (25) وَ مِنَ الَّيْلِ …:} دعوت کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرنے کے لیے قرآن مجید اللہ کے ذکر، نماز اور تسبیح کا حکم دیتا ہے، کیونکہ انھی چیزوں سے انسان ثابت قدم اور حوصلہ مند رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۴۵ ] ”اور نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ اور سورۂ مزمل میں کلامِ الٰہی کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کی استعداد کے لیے تہجد اور ذکر کا حکم دیا۔ یہاں بھی قرآن کی دعوت و تبلیغ کے راستے میں صبر کی تلقین کے ساتھ حکم دیا کہ صبح اور پچھلے پہر اپنے رب کا نام یاد کر اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کے لیے سجدہ کر۔ ذکر کی اعلیٰ ترین صورت نماز ہے۔ اوقات کی تعیین کے ساتھ ذکر کے حکم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا بھی حکم دیا جا رہا ہے، چنانچہ {” بُكْرَةً “} میں صبح کی نماز اور {” اَصِيْلًا “} میں ظہر و عصر کی نمازیں اور {” مِنَ الَّيْلِ “} (رات کے کچھ حصے) میں مغرب و عشاء کی نمازیں آجاتی ہیں اور {” سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا “} سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ یہ پانچوں نمازیں اگرچہ ان رکعات و متعین اوقات کے ساتھ معراج کی رات فرض ہو ئیں، مگر ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی ذکر و صلوٰۃ کے اوقات یہی تھے۔
وَ مِنَ الَّیۡلِ فَاسۡجُدۡ لَہٗ وَ سَبِّحۡہُ لَیۡلًا طَوِیۡلًا ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو، اور رات کے طویل اوقات میں اُس کی تسبیح کرتے رہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ میں اسے سجدہ کرو اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو
علامہ محمد حسین نجفی
اور رات کے ایک حصے میں اس کو سجدہ کیجئے اور رات کے طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور رات کے کچھ حصہ میں پھر اس کے لیے سجدہ کر اور لمبی رات تک اس کی تسبیح کیا کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
2 6 ۔ 1 رات کو سجدہ کر سے مراد بعض نے مغرب و عشاء کی نمازیں مراد لی ہیں اور تسبیح کا مطلب جو باتیں اللہ کے لائق نہیں ہیں ان سے اس کی پاکیزگی بیان کر، بعض کے نزدیک اس سے رات کی نفلی نمازیں یعنی تہجد ہے امر ندب واستحباب کے لیے ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ وَ یَذَرُوۡنَ وَرَآءَہُمۡ یَوۡمًا ثَقِیۡلًا ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ تو جلدی حاصل ہونے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک یہ لوگ جلدی ملنے والی (دنیا) کو چاہتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑے دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ لوگ پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز رکھتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک یہ لوگ دنیائے عاجل سے محبت رکھتے ہیں اور (آگے آنے والے) ایک بھاری دن (قیامت) کو اپنے پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا یہ لوگ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن کو اپنے پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
27۔ 1 یعنی کفار مکہ اور ان جیسے دوسرے لوگ دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اور ساری توجہ اسی پر ہے۔ 27۔ 2 یعنی قیامت کو، اس کی شدتوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے اسے بھاری دن کہا اور چھوڑنے کا مطلب ہے کہ اس کے لئے تیاری نہیں کرتے اور اس کی پروا نہیں کرتے۔
(آیت 27){ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ …:} اس آیت میں کفار و فجار کے کفر و فسوق کا اصل سبب بیان فرمایا کہ ان کے نصیحت قبول نہ کرنے کا سبب حبِ دنیا ہے۔ دنیا چونکہ جلد ہاتھ آنے والی چیز ہے، اس لیے یہ اسی کو چاہتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن سے غافل ہیں، بلکہ اس کے آنے کا یقین ہی نہیں رکھتے اور سمجھتے ہیں کہ جب مرنے کے بعد گل سڑ گئے تو کون دوبارہ زندہ کرے گا؟ آگے اس کا جواب ہے۔
نَحۡنُ خَلَقۡنٰہُمۡ وَ شَدَدۡنَاۤ اَسۡرَہُمۡ ۚ وَ اِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَہُمۡ تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے ہی اِن کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں، اور ہم جب چاہیں اِن کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ اور بندھن مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل ﻻئیں
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان جیسے اور بدل دیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور ہم نے ہی ان کے جوڑ بند مضبوط کئے ہیں اور ہم ہی جب چاہیں گے تو ان کی جگہ انہی جیسے لوگ بدل دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم نے ہی انھیں پیدا کیا اور ہم نے ان ( کے اعضا ) کا بندھن مضبوط باندھا اور ہم جب چاہیں گے بدل کر ان جیسے اور لوگ لے آئیں گے، بدل کر لانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
28۔ 1 یعنی ان کی پیدائش کو مضبوط بنایا، یا ان کے جوڑوں کو، رگوں کو اور پٹھوں کے ذریعے سے، ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا، بلفظ دیگر، ان کا مانجھا کڑا کیا۔
(آیت 28){ نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ …: ” اَسْرَهُمْ”أَسْرٌ“} کا معنی باندھنا ہے، اسیر بھی اسی سے نکلاہے، یعنی ہم نے ان کے اعضا کا بندھن مضبوطی سے باندھا ہے، ہڈیوں اور پٹھوں کے جوڑ نہایت مضبوط بنائے ہیں، یعنی یہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو عقل کے خلاف سمجھتے ہیں، لیکن اتنا نہیں سوچتے کہ ہم نے انھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، ان کے نرم و نازک رگ و ریشے، گوشت پوست، جوڑوں اور ہڈیوں کو مضبوطی سے باندھ دیا تو ہم دوبارہ انھیں کیوں زندہ نہیں کرسکتے؟ ہم تو جب چاہیں انھیں ختم کرکے ان کی جگہ ان جیسے اور لوگ لا سکتے ہیں، تو ان کا بنانا ہمیں کیا مشکل ہے؟ دوسری جگہ فرمایا: «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّهَا النَّاسُ وَ يَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۳۳ ] ”اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور دوسرے لوگوں کو لے آئے اور اللہ اس پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔“ مزید دیکھیے سورۂ ابراہیم (20،19)۔
اِنَّ ہٰذِہٖ تَذۡکِرَۃٌ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً یہ تو ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی راه لے لے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک یہ ایک بڑی نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے پروردگار کا راستہ اختیار کرے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف (جانے والا) راستہ اختیار کرلے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
29۔ 1 یعنی اس قرآن سے ہدایت حاصل کرے۔
(آیت 29) {اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ …:} یعنی یہ سورت یا موعظت نصیحت ہے، اس سے صحیح راستہ واضح ہوگیا، کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا، اب جو چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔
وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿٭ۖ۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے یقیناً اللہ بڑا علیم و حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے بیشک اللہ تعالیٰ علم واﻻ باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم کیا چاہو مگر یہ کہ اللہ چاہے بیشک وہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم نہیں چاہتے ہو مگر وہی جو خدا چاہتا ہے بےشک اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقینا اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
30۔ 1 یعنی تم میں سے کوئی اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ ہدایت کی راہ لگا لے، اپنے لئے کسی نفع کو جاری کرلے، ہاں اگر اللہ چاہے تو ایسا ممکن ہے، اس کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں کرسکتے۔ البتہ صحیح ارادہ نیت پر وہ اجر ضرور عطا فرماتا ہے ' اعمال کا دارو مدار، نیتوں پر ہے، ہر آدمی کے لئے وہ ہے جس کی وہ نیت کرے چوں کہ وہ علیم وحکیم ہے اس لیے اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے بنابریں ہدایت اور گمراہی کے فیصلے بھی یوں ہی نہیں ہوجاتے بلکہ جس کو ہدایت دی جاتی ہے وہ واقعی اس کا مستحق ہوتا ہے اور جس کے حصے میں گمراہی آتی ہے وہ حقیقتا اسی کے لائق ہوتا ہے۔ '
(آیت 30) {وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ …:} مگر تمھارا چاہنا اللہ کے چاہنے کے تابع ہے، وہ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے تقدیر کے منکروں کو اسی آیت سے لاجواب کیا تھا۔ خوارج کا ایک گروہ ان کے پاس آیا اور تقدیر کے انکار کی دلیل کے طور پر اسی سورت کی ابتدا میں سے یہ آیت پڑھی: «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا» ‏‏‏‏ [ الدھر: ۳ ] ”یعنی ہم نے انسان کو راستہ بتا دیا ہے، اب چاہے تو شکر کرنے والا بن جائے اور چاہے تو کفر کرنے والا۔“ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے فرمایا، آگے پڑھتے جاؤ، آخر میں یہ آیت آئی تو فرمایا، بے شک انسان جو راستہ چاہے اختیار کرے، مگر یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ اللہ تعالیٰ سے زبردست ہو کر کوئی شخص نہ نیک بن سکتاہے نہ بد۔ {” اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا “} یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت اندھی مشیت نہیں ہے، بلکہ وہ علیم وحکیم ہے اور اس کی مشیت اس کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ وہ انھی لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کے علم و حکمت کے مطابق اس کے اہل ہیں۔
یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ وَ الظّٰلِمِیۡنَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے، اور ﻇالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور اس نے ظالموں کیلئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ظالم لوگ، اس نے ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
31۔ 1 والظالمین اس لیے منصوب ہے کہ اس سے پہلے یعذب محذوف ہے۔
(آیت 31) ➊ {يُدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ:} ”وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے“ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں کو ہدایت کیوں نہیں دی؟ فرمایا ہدایت و رحمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، مالک اپنی چیز جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے، کوئی اسے پوچھ نہیں سکتا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْـَٔلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۲۳ ] ”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھاجاتا ہے۔“ ➋ {وَ الظّٰلِمِيْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا:} یعنی اس نے ظالموں کے لیے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔ یہاں {” الظّٰلِمِيْنَ “} سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ سب سے بڑے ظالم وہی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» ‏‏‏‏ [لقمان: ۱۳] ”بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ “ معلوم ہوا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے محروم انھی کو رکھتا ہے جو ظالم ہیں، جیسے فرمایا: «يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا وَّ يَهْدِيْ بِهٖ كَثِيْرًا وَ مَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ (26) الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَ يَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: 27،26 ] ”وہ اس(قرآن) کے ساتھ بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس کے ساتھ گمراہ نہیں کرتا مگر نافرمانوں کو۔ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو، اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو قطع کرتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی اپنی رحمت میں داخل فرمائے اور عذابِ الیم سے محفوظ رکھے۔ (آمین)