بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانسان/الدهر — Surah Insan
آیت نمبر 25
کل آیات: 31
قرآن کریم الانسان/الدهر آیت 25
آیت نمبر: 25 — سورۃ الانسان/الدهر islamicurdubooks.com ↗
وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿ۖۚ۲۵﴾
اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو
اور اپنے رب کے نام کا صبح وشام ذکر کیا کر
اور اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو
اور صبح و شام اپنے پروردگار کانام یاد کیجئے۔
اور اپنے رب کا نام صبح اور پچھلے پہر یاد کیا کر۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ’ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ‘۔ ، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ’ دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ ’ رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ‘۔ سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:1-4] ‏‏‏‏ ’ اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ‘ ـ پھر کفار کو روکتا ہے کہ ’ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ‘۔ یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19-20] ‏‏‏‏ ’ اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:39] ‏‏‏‏ ’ ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے ‘۔ پھر فرمایا ’ بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے ‘۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔

📖 احسن البیان

25۔ 1 صبح شام سے مراد تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کر، یا صبح سے مراد فجر کی نماز اور شام سے عصر کی نماز ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 26،25){ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا (25) وَ مِنَ الَّيْلِ …:} دعوت کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرنے کے لیے قرآن مجید اللہ کے ذکر، نماز اور تسبیح کا حکم دیتا ہے، کیونکہ انھی چیزوں سے انسان ثابت قدم اور حوصلہ مند رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۴۵ ] ”اور نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ اور سورۂ مزمل میں کلامِ الٰہی کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کی استعداد کے لیے تہجد اور ذکر کا حکم دیا۔ یہاں بھی قرآن کی دعوت و تبلیغ کے راستے میں صبر کی تلقین کے ساتھ حکم دیا کہ صبح اور پچھلے پہر اپنے رب کا نام یاد کر اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کے لیے سجدہ کر۔ ذکر کی اعلیٰ ترین صورت نماز ہے۔ اوقات کی تعیین کے ساتھ ذکر کے حکم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا بھی حکم دیا جا رہا ہے، چنانچہ {” بُكْرَةً “} میں صبح کی نماز اور {” اَصِيْلًا “} میں ظہر و عصر کی نمازیں اور {” مِنَ الَّيْلِ “} (رات کے کچھ حصے) میں مغرب و عشاء کی نمازیں آجاتی ہیں اور {” سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا “} سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ یہ پانچوں نمازیں اگرچہ ان رکعات و متعین اوقات کے ساتھ معراج کی رات فرض ہو ئیں، مگر ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی ذکر و صلوٰۃ کے اوقات یہی تھے۔
← پچھلی آیت (24) پوری سورۃ اگلی آیت (26) →