بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانسان/الدهر — Surah Insan
آیت نمبر 3
کل آیات: 31
قرآن کریم الانسان/الدهر آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ الانسان/الدهر islamicurdubooks.com ↗
اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾
ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا
ہم نے اسے راه دکھائی اب خواه وه شکر گزار بنے خواه ناشکرا
بیشک ہم نے اسے راہ بتائی یا حق مانتا یا ناشکری کرتا
بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا ہے اب چاہے شکر گزار بنے اور چاہے ناشکرا بنے۔
بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ نا شکرا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» ۱؎ [67-الملك:2] ‏‏‏‏ ’ تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ ‘ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی ‘۔

اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» ۱؎ [90- البلد:10] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں ‘، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔ «‏‏‏‏شاکراً» اور «کفوراً» ‏‏‏‏کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ میں ہے، یعنی ’ وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے ‘۔ جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:223] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔‏‏‏‏“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی] ‏‏‏‏

سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ { ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا }۔ مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ { جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:323/2:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

3۔ 1 یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کردیا ہے اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اطاعت الہی کا راستہ اختیار کر کے شکر گزار بندہ بن جائے یا معصیت کا راستہ اختیار کر کے اس کا ناشکرا بن جائے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 3) ➊ { اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ:} یعنی ہم نے انسان کی آزمائش کرتے ہوئے اسے صرف سمع و بصر اورعقل کی نعمت عطا کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اسے صحیح اور غلط راستہ بتانے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ نیکی و بدی کی یہ تمیز اس کی فطرت میں بھی رکھی ہے، جس کی وجہ سے اچھے کام اس کے لیے معروف (جانے پہچانے) اور برے کام منکر(نہ پہچانے ہوئے) ہیں اور انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے بھی اسے نیکی و بدی کا راستہ بتایا ہے۔ ➋ { اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا:} سمع و بصر، عقل و فہم، فطرتِ انسانی اور انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے ملنے والی آسمانی رہنمائی کے بعد انسان کے لیے صحیح راستہ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ اس راستے پر چل کر اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بن جائے، یا وہ سیدھا راستہ ترک کرکے اس کی نعمتوں کی نا شکری اور کفر کرنے والا بن جائے۔
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →