بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 43
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
مُہۡطِعِیۡنَ مُقۡنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمۡ لَا یَرۡتَدُّ اِلَیۡہِمۡ طَرۡفُہُمۡ ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ ہَوَآءٌ ﴿ؕ۴۳﴾
سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں
وه اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑ بھاگ کر رہے ہوں گے، خود اپنی طرف بھی ان کی نگاہیں نہ لوٹیں گی اور ان کے دل خالی اور اڑے ہوئے ہوں گے
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بے تحاشا دوڑے نکلیں گے اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی
وہ تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے اپنے سر اوپر اٹھاتے ہوئے اس عالم میں کہ ان کی نگاہ خود ان کی طرف نہیں پلٹے گی اور ان کے دل (خوف و دہشت کے سوا ہر خیال سے) خالی ہو رہے ہوں گے۔
اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے، ان کی نگاہ ان کی طرف نہیں لوٹے گی اور ان کے دل خالی ہوںگے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہولناک منظر ہو گا ٭٭

کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لیے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اس کی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہو جائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آ جائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کیلئے بیتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہو گا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔

📖 احسن البیان

43۔ 1 مھطعین۔ تیزی سے دوڑ رہے ہونگے۔ دوسرے مقام پر فرمایا، مھطعین الی الداع۔ القمر بلانے والے کی طرف دوڑیں گے اور حیرت سے ان کے سر اٹھے ہوئے ہونگے۔ 43۔ 2 جو ہولناکیاں وہ دیکھیں گے اور جو فکر اور خوف اپنے بارے میں انھیں ہوگا، ان کے پیش نظر ان کی آنکھیں ایک لمحہ کے لئے بھی پست نہیں ہونگی اور کثرت خوف سے ان کے دل گرے ہوئے اور خالی ہونگے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت43){” مُهْطِعِيْنَ “} تیز دوڑنے والے۔ {” أَهْطَعَ يُهْطِعُ “} (افعال) کا معنی ہے تیز دوڑنا۔ یہ لفظ سورۂ قمر (۸) اور سورۂ معارج (۳۶) میں بھی انھی معنوں میں استعمال ہوا ہے، یعنی قبروں سے نکل کر صور کی آواز کی طرف تیزی سے اس طرح دوڑ کر جا رہے ہوں گے کہ سر اوپر کی طرف اٹھے ہوئے اور آنکھیں کھلی، ٹکٹکی بندھی ہو گی۔{ ” مُقْنِعِيْ “} یہ لفظ اصل میں باب افعال سے مذکر اسم فاعل {”مُقْنِعِيْنَ“ } تھا، {” رُءُوْسِهِمْ “} کی طرف مضاف ہونے سے نون گر گیا، اس کا معنی ہے دائیں بائیں دیکھے بغیر اوپر کو سر اٹھانا، بعض نے اس کا معنی سر جھکانا بھی کیا ہے۔ (طنطاوی) {” أَفْئِدَةٌ “ ” فُؤَادٌ “} کی جمع ہے، بمعنی دل۔{ ”هَوَآءٌ“ } کا معنی ہے خالی، یعنی ان کے دل گھبراہٹ کی وجہ سے سوچ سمجھ سے خالی ہوں گے۔
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →