بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 44
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ یَوۡمَ یَاۡتِیۡہِمُ الۡعَذَابُ فَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ نُّجِبۡ دَعۡوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ ؕ اَوَ لَمۡ تَکُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَکُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴿ۙ۴۴﴾
اے محمدؐ، اُس دن سے تم اِنہیں ڈراؤ جبکہ عذاب اِنہیں آلے گا اُس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے" (مگر انہیں صاف جواب دے دیا جائے گا کہ) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اِس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟
لوگوں کو اس دن سے ہوشیار کردے جب کہ ان کے پاس عذاب آجائے گا، اور ﻇالم کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں بہت تھوڑے قریب کے وقت تک کی ہی مہلت دے کہ ہم تیری تبلیﻎ مان لیں اور تیرے پیغمبروں کی تابعداری میں لگ جائیں۔ کیا تم اس سے پہلے بھی قسمیں نہیں کھا رہے تھے؟ کہ تمہارے لیے دنیا سے ٹلنا ہی نہیں
اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم کہیں گے اے ہمارے رب! تھوڑی دیر ہمیں مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں اور رسولوں کی غلامی کریں تو کیا تم پہلے قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں
(اے رسول) لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم لوگ کہیں گے اے ہمارے رب تھوڑی سی مدت کے لئے ہمیں مہلت دے دے ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور (تیرے) رسولوں کی پیروی کریں گے (انہیں جواب دیا جائے گا) کیا تم نے اس سے پہلے قسمیں نہیں کھائی تھیں کہ تمہیں کبھی زوال نہ ہوگا۔
اور لوگوں کو اس دن سے ڈرا جب ان پر عذاب آئے گا، تو وہ لوگ جنھوںنے ظلم کیا، کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں قریب وقت تک مہلت دے دے، ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور ہم رسولوں کی پیروی کریں گے۔ اور کیا تم نے اس سے پہلے قسمیں نہ کھائی تھیں کہ تمھارے لیے کوئی بھی زوال نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عذاب دیکھنے کے بعد ٭٭

ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمانبرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کر لیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں «حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:99-100] ‏‏‏‏ ’ اے اللہ اب واپس لوٹا دے ‘ الخ۔ یہی مضمون «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» «وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [63-المنافقون:10-9] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الٰہی سے غافل نہ کر دیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری راہ میں دیتے رہو ایسا نہ ہو کہ موت کے وقت آرزو کرنے لگو کہ مجھے ذرا سی مہلت نہیں مل جائے تو میں خیرات ہی کر لوں اور نیک لوگوں میں مل جاؤں۔ یاد رکھو اجل آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ محشر میں بھی ان کا یہی حال ہوگا ‘۔ چنانچہ سورۃ السجدہ کی «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِم» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ کاش کے تم گنہگاروں کو دیکھتے کہ وہ اپنے پروردگار کے روبرو سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں ایک بار دنیا میں پھر بھیج دے کہ ہم یقین والے ہو کر نیک اعمال کرلیں ‘۔ یہی بیان «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ‏‏‏‏ اور «وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ» ۱؎ [35-فاطر:37] ‏‏‏‏ وغیرہ میں بھی ہے۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ تم تو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تمہاری نعمتوں کو زوال ہی نہیں قیامت کوئی چیز ہی نہیں مر کر اٹھنا ہی نہیں اب اس کا مزہ چکھو ‘۔ یہ کہا کرتے تھے اور خوب مضبوط قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو بھی یقین دلاتے تھے کہ مردوں کو اللہ زندہ نہ کرے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ تم دیکھ چکے کہ تم سے پہلے کے تم جیسوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ ان کی مثالیں ہم تم سے بیان بھی کر چکے کہ ہمارے عذابوں نے کیسے انہیں غارت کر دیا؟ باوجود اس کے تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور چوکنا نہیں ہوتے۔ یہ گو کتنے ہی چالاک ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کے سامنے کسی کی چالاکی نہیں چلتی ‘۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے جس نے جھگڑا کیا تھا اس نے دو بچے گدھ کے پالے جب وہ بڑے ہوگئے۔ جوانی کو پہنچے قوت والے ہوگئے تو ایک چھوٹی سی چوکی کے ایک پائے سے ایک کو باندھ دیا دوسرے سے دوسرے کو باندھ دیا انہیں کھانے کو کچھ نہ دیا خود اپنے ایک ساتھی سمیت اس چوکی پر بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے سرے پر گوشت باندھ کر اسے اوپر کو اٹھایا بھوکے گدھ وہ کھانے کے لیے اوپر کو اڑے اور اپنے زور سے چوکی کو بھی لے اڑے اب جب کہ یہ اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ ہر چیز انہیں مکھی کی طرح کی نظر آنے لگی تو اس نے لکڑی جھکا دی اب گوشت نیچے دکھائی دینے لگا اس لیے جانوروں نے پر سمیٹ کر گوشت لینے کے لیے نیچے اترنا شروع کیا اور تخت بھی نیچا ہونے لگا یہاں تک کہ زمین تک پہنچ گیا پس یہ ہیں وہ مکاریاں جن سے پہاڑوں کا زوال بھی ممکن سا ہو جائے۔

سیدنا عبداللہ کی قرأت میں «کَادَ مَکْرُھُم» ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی قرأت بھی یہی ہے۔ یہ قصہ نمرود کا ہے جو کنعان کا بادشاہ تھا اس نے اس حیلے سے آسمان کا قبض چاہا تھا اس کے بعد قبطیوں کے بادشاہ فرعون کو بھی یہی خبط سمایا تھا بڑا بلند منارہ تعمیر کرایا تھا لیکن دونوں کی ناتوانی ضعیفی اور عاجزی ظاہر ہوگئی۔ اور ذلت و خواری پستی و تنزل کے ساتھ حقیر و ذلیل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ جب بخت نصر اس حیلہ سے اپنے تخت کو بہت اونچا لے گیا یہاں تک کہ زمین اور زمین والے اس کی نظروں سے غائب ہو گئے تو اسے ایک قدرتی آواز آئی کہ اے سرکش طاغی کیا ارادہ ہے؟ یہ ڈر گیا ذرا سی دیر بعد پھر اسے یہی غیب ندا سنائی دی اب تو اس کا پِتّہ پانی ہو گیا اور جلدی سے نیزہ جھکا کر اترنا شروع کر دیا۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ کی قرأت میں «لِتَزُوْلُ» ہے بدلے میں «لِتَزُولَ» کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «اِنۡ» کو نافیہ مانتے ہیں یعنی ان کے مکر پہاڑوں کو زائل نہیں کرسکتے۔ حسن بصری رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔

ابن جریر رحمہ اللہ اس کی توجیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ”ان کا شرک و کفر پہاڑوں وغیرہ کو ہٹا نہیں سکتا کوئی ضرر دے نہیں سکتا صرف اس کا وبال انہی کی جانوں پر ہے۔‏‏‏‏“ میں کہتا ہوں اسی کے مشابہ یہ فرمان الٰہی بھی ہے «لَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا» ۱؎ [17-الإسراء:37] ‏‏‏‏ ’ زمین پر اکڑفوں سے نہ چل نہ تو تو زمین کو چیر سکتا ہے نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتا ہے ‘۔ دوسرا قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ ہے کہ ”ان کا شرک پہاڑوں کو زائل کر دینے والا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے «تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا» ۱؎ [19-مريم:90] ‏‏‏‏ ’ اس سے تو آسمانوں کا پھٹ جانا ممکن ہے ‘۔ ضحاک و قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔

📖 احسن البیان

44۔ 1 یعنی دنیا میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ کوئی حساب کتاب اور جنت دوزخ نہیں، دوبارہ کسے زندہ ہونا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت44) ➊ {وَ اَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ …: } یعنی لوگوں کو اس دن سے ڈرایے۔ لوگوں سے مراد تمام لوگ ہیں، کیونکہ ڈرانے کی ضرورت تو نیک و بد ہر شخص کو ہے۔ اگرچہ اہل ایمان کی جزا کا بھی وہی دن ہے مگر یہاں مقام ڈرانے کا ہے، اس لیے اسی کا ذکر فرمایا، یا {” النَّاسَ “ } سے خصوصاً کفار مراد ہیں۔ عذاب کا دن ظالموں کے لیے دنیا میں کسی وقت اور کسی صورت میں ہو سکتا ہے، موت کا وقت بھی مراد ہے اور قیامت کا بھی۔ اس وقت کفار اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول کرنے اور رسولوں کی پیروی کرنے کے لیے مہلت مانگیں گے، مگر مہلت کہاں۔ اس مفہوم کی آیات قرآن مجید میں بہت ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۹۹، ۱۰۰)، سورۂ سجدہ (۱۲) اور منافقون (۹، ۱۰)۔ ➋ { اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ …: ” زَوَالٍ “} کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، یا ایک حالت سے دوسری کی طرف منتقل ہونا ہے، یہاں مراد دوبارہ زندہ ہو کر اور قبروں سے نکل کر آخرت کی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے انھیں کہیں گے کہ تم نے تو دنیا میں قسمیں کھائی تھیں کہ مرنے کے بعد ہمیں کبھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مقصد انھیں ان کا ماضی یاد دلا کر مزید ذلیل و خوار کرنا ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ }» [ النحل: ۳۸ ] ”اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مر جائے۔ کیوں نہیں! وعدہ ہے اس کے ذمے سچا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ تم تو ایسے متکبر بن گئے اور موت کو بھول بیٹھے تھے کہ قسمیں اٹھاتے تھے کہ ہمارے عروج کو کبھی زوال نہیں۔
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →