بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 42
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمۡ لِیَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِیۡہِ الۡاَبۡصَارُ ﴿ۙ۴۲﴾
اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو اللہ تو اِنہیں ٹال رہا ہے اُس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں
ناانصافوں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی
اور ہرگز اللہ کو بےخبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں
(اے رسول(ص)) جو کچھ (یہ) ظالم لوگ کر رہے ہیں تم اللہ کو اس سے غافل نہ سمجھو۔ وہ تو انہیں اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس میں (شدتِ خوف و حیرت سے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
اور تو اللہ کو ہرگز اس سے غافل گمان نہ کر جو ظالم لوگ کر رہے ہیں، وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہولناک منظر ہو گا ٭٭

کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لیے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اس کی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہو جائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آ جائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کیلئے بیتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہو گا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔

📖 احسن البیان

42۔ 1 یعنی قیامت کی ہولناکیوں کی وجہ سے۔ اگر دنیا میں اگر اللہ نے کسی کو زیادہ مہلت دے دی اور اس کے مرنے تک اس کا مواخذہ نہیں کیا تو قیامت کے دن تو وہ مواخذہ الٰہی سے نہیں بچ سکے گا، جو کافروں کے لئے اتنا ہولناک دن ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت42) ➊ {وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا …:” الظّٰلِمُوْنَ “} سے مراد یہاں کفار اور مشرکین ہیں اور یہ بات اس سورت کی آیت (۴۴) سے صاف واضح ہو رہی ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کفار کو مہلت دے رہا ہے تو مت سمجھو کہ وہ ان کے اعمال سے بے خبر ہے۔ ➋ { اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ …: ” تَشْخَصُ “} باب {” مَنَعَ “} سے ہے، {”شُخُوْصٌ“} کا معنی ہے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے آنکھوں کا کھلا رہ جانا، حرکت نہ کرنا۔
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →