بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 41
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 41
آیت نمبر: 41 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡحِسَابُ ﴿٪۴۱﴾
پروردگار، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا"
اے ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی بخش اور دیگر مومنوں کو بھی بخش جس دن حساب ہونے لگے
اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا،
اے ہمارے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا (لیا جائے گا)۔
اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہوگا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مناجات ٭٭

خلیل الرحمن علیہ السلام اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ ”اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔‏‏‏‏“ «وَلِوَالِدَيَّ» کی قرأت بعض نے «وَالِوَالِدِیْ» بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پہلے کی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے معلوم ہو جائے کہ آپ علیہ السلام کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ علیہ السلام اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ علیہ السلام اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔

📖 احسن البیان

41۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دعا اس وقت کی جب کہ ابھی ان پر اپنے ماں باپ کا عَدُوُّاللّٰہِ ہونا واضح نہیں ہوا تھا، جب یہ واضح ہوگیا کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے اظہار سبکدوشی کردیا۔ اس لئے کہ مشرکین کے لئے دعا کرنا جائز نہیں چاہے وہ قرابت قریبہ ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت41) {رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ …:} والد کے لیے بخشش کی دعا وہ وعدہ پورا کرنے کے لیے تھی جو انھوں نے گھر سے نکلتے وقت اس سے کیا تھا، مگر جب وہ شرک ہی پر فوت ہو گیا اور اللہ سے اس کی دشمنی ختم ہونے کی امید ہی نہ رہی تو وہ اس سے صاف بری ہو گئے۔ (دیکھیے توبہ: ۱۱۴) رہی اپنی والدہ کے لیے دعا تو شاید وہ پہلے ہی مسلمان ہو چکی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق تفصیل سے کچھ بیان نہیں فرمایا۔ تمام مومنین کے حق میں مغفرت کی دعا نوح علیہ السلام (نوح: ۲۸) سے لے کر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بخاری: ۷۵۱۰) تک انبیاء اور اہلِ ایمان کرتے چلے آئے ہیں۔ (دیکھیے حشر: ۱۰)
← پچھلی آیت (40) پوری سورۃ اگلی آیت (42) →