بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 40
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 40
آیت نمبر: 40 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
رَبِّ اجۡعَلۡنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلۡ دُعَآءِ ﴿۴۰﴾
ا ے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار، میری دعا قبول کر
اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اوﻻد سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما
اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو اے ہمارے رب اور ہماری دعا سن لے،
اے میرے پروردگار! مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی۔ اے ہمارے پروردگار اور میری دعا کو قبول فرما۔
اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول کر۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مناجات ٭٭

خلیل الرحمن علیہ السلام اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ ”اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔‏‏‏‏“ «وَلِوَالِدَيَّ» کی قرأت بعض نے «وَالِوَالِدِیْ» بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پہلے کی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے معلوم ہو جائے کہ آپ علیہ السلام کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ علیہ السلام اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ علیہ السلام اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔

📖 احسن البیان

40۔ 1 اپنے ساتھ اپنی اولاد کے لئے بھی دعا مانگی، جیسے اس سے قبل بھی اپنے ساتھ اپنی اولاد کے لئے بھی دعا مانگی کہ انھیں پتھر کی مورتیوں کو پوجنے سے بچا رکھنا۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دین کے داعیوں کو اپنے گھر والوں کی ہدایت اور ان کی دینی تعلیم و تربیت سے غافل نہیں رہنا چاہیے تبلیغ و دعوت میں انھیں اولیت دینی چاہیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم دیا (وَ اَنْذِرُ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ) 26۔ الشعراء:214) ' اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائے '

📖 القرآن الکریم

(آیت40) ➊ {رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ:} یہ ابراہیم علیہ السلام کی عاجزانہ دعاؤں کا آخری حصہ ہے، جس میں انھوں نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اس چیز پر پابند رہنے کی دعا کی ہے جو توحید و رسالت کے یقین و اقرار کے بعد اسلام میں سب چیزوں سے زیادہ ضروری ہے، یعنی نماز جو خاشعین(عاجزی کرنے والوں) کے سوا سب لوگوں کے لیے نہایت دشوار ہے (دیکھیے بقرہ: ۴۵، ۴۶) اور جس کے متعلق موسیٰ علیہ السلام ({جَزَاهُ اللّٰهُ عَنَّا وَ عَنْ جَمِيْعِ أُمَّتِنَا أَحْسَنَ الْجَزَاءِ}) نے کہا تھا کہ میں نے بنی اسرائیل کو بہت زیادہ بھگتا ہے، آپ کی امت پانچ نمازوں کی طاقت بھی نہیں رکھے گی۔ سو جو ایمان و کفر کے درمیان فرق کرنے والی سب سے نمایاں چیز ہے، ابراہیم علیہ السلام کو اس کی اتنی فکر تھی کہ اپنے اور اپنی اولاد کے لیے اس کی پابندی کی خاص طور پر دعا کی۔ ➋ {وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ:} ”اور میری اولاد میں سے بھی“ بظاہر یہ{” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی مجھے اور میری اولاد میں سے بھی کچھ نماز کے پابند بنا، مگر اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انھوں نے ساری اولاد کے لیے یہ دعا کیوں نہ کی؟ اس کا جواب اکثر مفسرین نے یہ دیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو انسانی تاریخ سے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {” لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ “ } سے اندازہ تھا کہ ساری اولاد نمازی نہیں ہو سکے گی، اس لیے انھوں نے یہ دعا کی کہ ایسا نہ ہو کہ اولاد میں سے کوئی بھی نمازی نہ رہے، یہ اسی طرح ہے جیسا کہ انھوں نے دعا کی تھی: «{ رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ }» [ البقرۃ: ۱۲۸ ] ”اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا۔“ ابن عاشور صاحب ” التحریر والتنویر“ نے لکھا ہے: ”یہ {” مِنْ “} ابتدائیہ ہے، تبعیض کے لیے نہیں اور{ ” مِنْ ذُرِّيَّتِيْ “} محذوف کی صفت ہے جس کا عطف یائے متکلم پر ہے۔ مقدر عبارت اس طرح ہو گی: {” رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَاجْعَلْ مُقِيْمِيْنَ لِلصَّلَاةِ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ“ } یعنی مجھے نماز کا پابند بنا اور نماز کا پابند ان کو بھی بنا جو میری اولاد میں سے ہوں۔ {” وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ“} کی ترکیب بھی اسی طرح ہو سکتی ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ دعا مانگتے وقت یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام بت پرستی سے بچنے کی دعا تو اپنے اور اپنی ساری اولاد کے لیے کریں، فرمایا: «{ وَ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ }» [ إبراھیم: ۳۵ ] (اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بت پوجنے سے بچائے رکھ) مگر نماز کا پابند بنانے کی دعا سب کے لیے کرنے کے بجائے بعض کے لیے کریں۔ جب ہم خود دعا کرتے وقت یہ پسند نہیں کرتے کہ یہ دعا کریں کہ یا اللہ! ہماری کچھ اولاد کو نمازی بنا تو ابراہیم علیہ السلام یہ کیسے پسند کر سکتے ہیں؟“ ابن عاشور کی بات دل کو لگتی ہے۔ (واللہ اعلم) ➌ {رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ: } دعا کے بعد پھر قبولیت کی درخواست اپنے عجز کا اظہار اور قبولیت پر اصرار ہے۔{ ” دُعَآءِ “} پر کسرہ اس لیے ہے کہ یہ اصل میں [” دُعَائِيْ“] تھا، آیات کے فواصل کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ اس پر دلالت کے لیے باقی رکھا گیا ہے۔
← پچھلی آیت (39) پوری سورۃ اگلی آیت (41) →