بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 99
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 99
آیت نمبر: 99 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ اُتۡبِعُوۡا فِیۡ ہٰذِہٖ لَعۡنَۃً وَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ ﴿۹۹﴾
اور ان لوگوں پر دنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی کیسا برا صلہ ہے یہ جو کسی کو ملے!
ان پر تو اس دنیا میں بھی لعنت چپکا دی گئی اور قیامت کے دن بھی برا انعام ہے جو دیا گیا
اور ان کے پیچھے پڑی اس جہان میں لعنت اور قیامت کے دن کیا ہی برا انعام جو انہیں ملا،
اس دنیا میں لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن (دوزخ) کیا ہی برا عطیہ ہے جو انہیں عطا کیا جائے گا۔
اور ان کے پیچھے اس (دنیا) میں لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ برا عطیہ ہے جو کسی کو دیا جائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ علیہ السلام ٭٭

فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰ علیہ السلام کو اپنی آیتوں اور ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا «فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:16] ‏‏‏‏ ’ لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے ‘۔ «فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:21-26] ‏‏‏‏ ’ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے ‘۔ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:67، 68] ‏‏‏‏ ’ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے ‘۔ مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جھنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:228/2:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑ گئیں۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی۔

📖 احسن البیان

99۔ 1 لَعْنَۃ سے پھٹکار اور رحمت الٰہی سے دوری و محرومی ہے، گویا دنیا میں بھی وہ رحمت الٰہی سے محروم اور آخرت میں میں بھی اس سے محروم ہی رہیں گے، اگر ایمان نہ لائے۔ 99۔ 2 رِفْدً انعام اور عطیے کو کہا جاتا ہے۔ یہاں لعنت کو رفد کہا گیا ہے۔ اسی لئے اسے برا انعام قرار دیا گیا مَرْفُوْد وہ انعام جو کسی کو دیا جائے۔ یہ الرفد کی تاکید ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 99) ➊ {وَ اُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً …:} یعنی آگ کے علاوہ انھیں یہ سزا بھی دی گئی کہ رہتی دنیا تک لوگ ان پر پھٹکار بھیجتے رہیں گے اور قیامت کے دن ان پر جو پھٹکار پڑے گی اس کا حال تو معلوم ہی ہے۔ ان آیات میں فرعون کو صریح دوزخی بتایا گیا ہے، مگر بعض لوگوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے تصوف کے پردے میں وحدت الوجود کا عقیدہ ایجاد کیا اور کہا کہ ہر چیز ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہے، سو فرعون{” اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْليٰ “} کہنے میں غلط نہ تھا۔ ان لوگوں کے نزدیک حسین بن منصور حلاج، جسے عام طور پر منصور کہتے ہیں، کامل ولی تھا، کیونکہ وہ کہتا تھا کہ میں خدا ہوں۔ وہ اصل حقیقت کو پا گیا تھا اور صاف کہتا تھا کہ {” أَنَا الْحَقُّ “} مگر اس وقت اسلام کے محافظ خلیفۂ وقت نے اس کفریہ عقیدے کے ثابت ہونے پر اسے سولی پر چڑھا دیا۔ ان وجودی ملحدوں کے کہنے کے مطابق وہ سولی پر چڑھ گیا، مگر حق کہنے سے باز نہ آیا۔ ایسے کفر یہ الفاظ اور عقیدے پر اللہ کی پھٹکار جس کے نتیجے میں خالق و مخلوق کا فرق ختم، جنت و دوزخ کا فرق ختم اور شریعت کا ہر حکم ہی ختم ہو جاتا ہے۔ جب کہا جائے کہ فرعون اپنی سرکشی کی پاداش میں سمندر میں غرق کر دیا گیا تو وہ کہتے ہیں کہ فرعون دراصل بحر توحید میں غرق تھا۔ غرض اس طرح کی صریح کفر کی باتیں جو صاف قرآن کے خلاف ہیں، کہتے ہیں، مگر مسلمانوں میں شامل رہنے اور انھیں گمراہ کرنے کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں، حالانکہ یہ عقیدہ اس اسلام کے صریح مخالف ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے آیا اور قرآن و حدیث کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس عقیدے کی رو سے نیکی و بدی، شرک و توحید، نکاح و زنا، غرض ہر اطاعت اور نافرمانی کا فرق ہی مٹ جاتا ہے اور انبیاء و رسل اور کتب الٰہیہ سب بے کار ٹھہرتے ہیں۔ [ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ الْعَقِیْدَۃِ الْمَلْعُوْنَۃِ] قرآن مجید میں صراحت ہے کہ آل فرعون کو مرتے ہی آگ نے گھیر لیا اور قیامت کو وہ سخت ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ مومن (۴۵، ۴۶)۔ ➋ {” الرِّفْدُ “ } کا معنی عطیہ،{” الْمَرْفُوْدُ “} جو انھیں دیا گیا، یعنی دنیا اور آخرت میں لعنت کا عطیہ۔ لعنت کو عطیہ اور انعام بطور مذاق فرمایا ہے، جیسے فرمایا: «{ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ }» [ آل عمران:۲۱] ”سو انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دے۔“
← پچھلی آیت (98) پوری سورۃ اگلی آیت (100) →