بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 100
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 100
آیت نمبر: 100 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡقُرٰی نَقُصُّہٗ عَلَیۡکَ مِنۡہَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیۡدٌ ﴿۱۰۰﴾
یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے
بستیوں کی یہ بعض خبریں جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں ان میں سے بعض تو موجود ہیں اور بعض (کی فصلیں) کٹ گئی ہیں
یہ بستیوں کی خبریں ہیں کہ ہم تمہیں سناتے ہیں ان میں کوئی کھڑی ہے اور کوئی کٹ گئی
اے رسول(ص) یہ ان بستیوں کی چند خبریں ہیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔ ان (بستیوں) میں سے کچھ تو اب تک قائم ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے (بالکل اجڑ گئی ہیں)۔
یہ ان بستیوں کی چند خبریں ہیں جو ہم تجھے بیان کرتے ہیں، ان میں سے کچھ کھڑی ہیں اور کچھ کٹ چکی ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران ٭٭

نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں، جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کر لی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آ سکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کر دیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا ‘۔

📖 احسن البیان

10۔ 1 قائم سے مراد وہ بستیاں، جو اپنی چھتوں پر قائم ہیں اور حَصِیْد بمعنی محصود سے مراد وہ بستیاں جو کٹے ہوئے کھیتوں کی طرح نابود ہوگئیں۔ یعنی جن گزشتہ بستیوں کے واقعات ہم بیان کر رہے ہیں، ان میں سے بعض تو اب بھی موجود ہیں، جن کے آثار و کھنڈرات نشان عبرت ہیں اور بعض بالکل ہی صفہ ہستی سے معدوم ہوگئیں اور ان کا وجود صرف تاریخ کے صفحات پر باقی رہ گیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 100) {ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَآءِ الْقُرٰى …: ” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی گزشتہ بستیوں کی یہ چند خبریں ہیں جو ہم آپ کو بیان کر رہے ہیں۔ اس سورت میں انبیاء کے حالات زمانے کی ترتیب کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، یعنی نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب اور موسیٰ علیھم السلام۔{ ” قَآىِٕمٌ “} کھڑی (کھیتی)، {” حَصِيْدٌ “ } وہ کھیتی جو کاٹی جا چکی ہو، یعنی ان بستیوں میں سے بعض کے نشانات اب بھی قائم ہیں، مثلاً صالح علیہ السلام کی قوم کے پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکانات اور بعض کے نام و نشان تک مٹ چکے ہیں، جیسے کٹی ہوئی کھیتی کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔
← پچھلی آیت (99) پوری سورۃ اگلی آیت (101) →