بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 94
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 94
آیت نمبر: 94 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّیۡنَا شُعَیۡبًا وَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الصَّیۡحَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دِیَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۴﴾
آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیبؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے
جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ (تمام) مومنوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات بخشی اور ﻇالموں کو سخت چنگھاڑ کے عذاب نے دھر دبوچا جس سے وه اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ہوگئے
اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر بچالیا اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے،
اور جب ہمارا حکم (عذاب) آیا تو ہم نے اپنی خاص رحمت سے شیعب کو اور ان کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک خوفناک کڑک نے آپکڑا۔ پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی خاص رحمت سے بچا لیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا، چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مدین والوں پر عذاب الٰہی ٭٭

جب اللہ کے نبی علیہ السلام اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو تھک کر فرمایا ”اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے؟ تم منتظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔‏‏‏‏“ آخر ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کر دیا گیا۔ وہ جل بجھے۔ بے حس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہو گئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی تھے اور گناہ اور بدامنی میں انہیں جیسے تھے اور یہ دونوں قومیں عرب ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔

📖 احسن البیان

94۔ 1 اس چیخ سے ان کے دل پارہ پارہ ہوگئے اور ان کی موت واقع ہوگئی اور اس کے معا بعد ہی بھو نچال بھی آیا، جیسا کہ سورة اعراف۔ 91 (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ) اور سورة عنکبوت (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ) 29۔ العنکبوب:37) میں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت95،94) ➊ {وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا …:} یہ اللہ تعالیٰ کے ہر قوم پر آنے والے عذاب کی عجیب صفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا، نہ آندھی نے، نہ چیخ نے اور نہ زلزلے نے۔ صرف کفار اور ظالم مشرک ہی اس سے برباد ہوئے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۵۷) کی تفسیر۔ ➋ اللہ کے حکم سے آنے والے اس عذاب کو سورۂ اعراف (۹۱) اور عنکبوت (۳۷) میں {” الرَّجْفَةُ“} یعنی زلزلہ فرمایا، یہاں {”الصَّيْحَةُ “} یعنی چیخ فرمایا اور سورۂ شعراء (۱۸۹) میں {” عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ “} سائبان کے دن والا عذاب فرمایا۔ اس لیے زیادہ واضح بات یہی نظر آتی ہے کہ پہلے {” الصَّيْحَةُ “} چنگھاڑ یا سخت چیخ بلند ہوئی، جب وہ حد سے گزری تو شدید زلزلہ آگیا جس نے پہاڑوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا اور اس آواز سے کفار کے دل اور جگر پھٹ گئے اور جو جہاں تھا وہیں پڑا رہ گیا۔ زلزلے نے باقی کسر پوری کر دی اور تمام کفار کا نام و نشان اس طرح مٹا جیسے وہ یہاں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ آج بھی مدین کے علاقے میں سیکڑوں میل تک جو پہاڑ پائے جاتے ہیں ان پر زلزلے کے آثار واضح ہیں۔ تمام پہاڑ اس طرح پھٹے ہوئے ہیں جیسے کسی زبردست زلزلے نے انھیں کھیل کھیل کر دیا ہو۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ تمام عذاب ان پر آئے مگر آیات کے سیاق میں ہر مقام کے مطابق جو عذاب تھا اس کا ذکر ہوا۔ سورۂ اعراف (۸۸) میں کفار کا قول ذکر ہوا تھا: «{ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَاۤ }» ”اے شعیب! ہم تجھے اور تجھ پر ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔“ وہاں {”الرَّجْفَةُ“} کا ذکر ہے کہ یہ ہے وہ بستی جہاں سے تم نبی کو نکالنا چاہتے تھے۔ یہاں سورۂ ہود میں جب انھوں نے پیغمبر کی گستاخی کی تو اس کی مناسبت سے چیخ کا ذکر فرمایا اور سورۂ شعراء میں ان کا مطالبہ تھا کہ ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے تو وہاں سائبان والے عذاب کا ذکر فرمایا۔ ➌ { اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ:} یعنی قوم شعیب پر ویسی ہی ہلاکت مسلط ہوئی جیسی ثمود پر ہوئی، ان کے علاقے بھی ایک دوسرے کے قریب تھے اور کفر و سرکشی میں بھی دونوں قومیں ایک جیسی تھیں اور دونوں عرب تھے۔
← پچھلی آیت (93) پوری سورۃ اگلی آیت (95) →