بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 93
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 93
آیت نمبر: 93 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ یٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ اِنِّیۡ عَامِلٌ ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخۡزِیۡہِ وَ مَنۡ ہُوَ کَاذِبٌ ؕ وَ ارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ رَقِیۡبٌ ﴿۹۳﴾
اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا، جلدی ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں"
اے میری قوم کے لوگو! اب تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں، تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس وه عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے اور کون ہے جو جھوٹا ہے۔ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں
اور اے قوم تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جا ؤ میں اپنا کام کرتا ہوں، اب جاننا چاہتے ہو کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کون جھوٹا ہے، اور انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں،
اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ (اور اپنے طریقہ) پر عمل کئے جاؤ میں اپنی جگہ (اور اپنے طریقہ) پر عمل کر رہا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا؟ اور کون جھوٹا ہے؟ اور تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔
اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرو، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں۔ تم جلد ہی جان لوگے کہ کون ہے جس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کون ہے جو جھوٹا ہے، اور انتظار کرو، بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مدین والوں پر عذاب الٰہی ٭٭

جب اللہ کے نبی علیہ السلام اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو تھک کر فرمایا ”اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے؟ تم منتظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔‏‏‏‏“ آخر ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کر دیا گیا۔ وہ جل بجھے۔ بے حس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہو گئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی تھے اور گناہ اور بدامنی میں انہیں جیسے تھے اور یہ دونوں قومیں عرب ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔

📖 احسن البیان

93۔ 1 جب انہوں نے دیکھا کہ یہ قوم اپنے کفر و شرک پر مصر ہے اور وعظ و نصیحت کا بھی کوئی اثر ان پر نہیں ہو رہا، تو کہا اچھا تم اپنی ڈگر پر چلتے رہو، عنقریب تمہیں جھوٹے سچے کا اور اس بات کا کہ رسوا کن عذاب کا مستحق کون ہے؟ علم ہوجائے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت93){وَ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ …:} اس آیت میں لہجہ پچھلی آیت سے بھی سخت ہے، کیونکہ شعیب علیہ السلام ان کے اللہ تعالیٰ کی سطوت و عزت سے بے بس انسانوں کی عزت و سطوت زیادہ سمجھنے اور ان کے ایمان لانے سے ناامید ہونے پر انھیں اللہ کے عذاب کی دھمکی دے رہے ہیں کہ تم اپنی جگہ عمل کرو، میں بھی اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقے پر دعوت کا کام جاری رکھوں گا۔ نتیجہ بہت جلد سامنے آ جائے گا۔ ان دونوں آیات میں کفار کی ان تمام باتوں کا جواب موجود ہے جو پچھلی آیت میں ذکر ہوئی ہیں کہ تمھاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں، ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں، صرف اپنی برادری کی وجہ سے تو سنگسار ہونے سے بچا ہوا ہے، ورنہ ہمارے ہاں تیری نہ کوئی عزت ہے نہ طاقت۔ فرمایا، بہت جلد ان تمام باتوں کا فیصلہ ہو جائے گا۔ کس کی قوت زیادہ ہے، کون سنگسار ہوتا ہے، کون سچا ہے اور کون جھوٹا، فیصلہ ہو چکا، اب صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ فیصلہ کس طرح عمل میں آتا ہے۔ سو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں۔
← پچھلی آیت (92) پوری سورۃ اگلی آیت (94) →