بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 72
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 72
آیت نمبر: 72 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
قَالَتۡ یٰوَیۡلَتٰۤیءَ اَلِدُ وَ اَنَا عَجُوۡزٌ وَّ ہٰذَا بَعۡلِیۡ شَیۡخًا ؕ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ﴿۷۲﴾
وہ بولی "ہائے میری کم بختی! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پھونس ہو گئی اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہو چکے؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے"
وه کہنے لگی ہائے میری کم بختی! میرے ہاں اوﻻد کیسے ہو سکتی ہے میں خود بڑھیا اور یہ میرے خاوند بھی بہت بڑی عمر کے ہیں یہ تو یقیناً بڑی عجیب بات ہے!
بولی ہائے خرابی کیا میرے بچہ ہوگا اور میں بوڑھی ہوں اور یہ ہیں میرے شوہر بوڑھے بیشک یہ تو اچنبھے کی بات ہے،
(اس پر) وہ کہنے لگیں۔ ہائے میری مصیبت! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بوڑھی ہوگئی ہوں۔ اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہو چکے ہیں یہ تو بڑی عجیب بات ہے ۔
اس نے کہا ہائے میری بربادی! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینا یہ تو ایک عجیب چیز ہے.

📖 تفسیر ابن کثیر

ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو ٭٭

ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور ابراہیم علیہ السلام کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آ کر سلام کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔ سلام کے بعد ہی ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہو گئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی، «فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:26،27] ‏‏‏‏ ’ جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے ‘، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں۔ ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئیے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا یہی اس کی قیمت ہے۔‏‏‏‏“ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ ”فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بنائے۔‏‏‏‏“ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں طرح طرح کے خیالات گزرنے لگے۔

سارہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خود ابراہیم علیہ السلام ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔ ابراہیم علیہ السلام کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا ”آپ علیہ السلام خوف نہ کیجئے۔‏‏‏‏“ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ”ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں۔‏‏‏‏“ سارہ رضی اللہ عنہا کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے، وہ پوری غفلت میں ہے۔ الغرض فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اور پھر اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام کے ہونے کی بھی ساتھ ہی خوشخبری سنائی۔ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ یہ سن کر سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ”امر اللہ میں کیا حیرت؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے، اے نبی علیہ السلام کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

72۔ 1 یہ اہلیہ حضرت سارہ تھیں، جو خود بھی بوڑھی تھیں اور ان کا شوہر حضرت ابراہیم ؑ بھی بوڑھے تھے۔ اس لئے تعجب ایک فطری امر تھا، جس کا اظہار ان سے ہوا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 72) ➊ { قَالَتْ يٰوَيْلَتٰۤى: } امام طبری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ {” يَا وَيْلَتَا “} کا کلمہ عرب کسی چیز پر تعجب اور اسے انوکھا سمجھنے کے وقت بولتے ہیں، چنانچہ تعجب کے وقت کہتے ہیں: {” وَيْلُ أُمِّهِ مَا أَرْجَلَهُ “} ”اس کی ماں ہلاک ہو، وہ کس قدر مرد ہے۔“ باقی الف کے متعلق طبری کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ الف ”ندبہ“ کا ہے اور تاء کا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ {”وَيْلٌ“} کے بعد والا الف ندبہ اتنا واضح اور لمبا نہیں ہو سکتا جتنا درمیان میں تاء کے اضافے سے ہو سکتا ہے۔ ➋ { ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ …:} پہلی خوش خبری کا رد عمل وہ ہنسی تھی جو سارہ علیھا السلام کے چہرے پر نمودار ہوئی، اب ایک ایسی چیز کی خوش خبری ملی جو ساری زندگی کی آرزو کا خلاصہ تھی اور اس وقت ملی جب دنیاوی اسباب کے لحاظ سے اس کی امید ہی نہ تھی تو سارہ علیھا السلام کی ہنسی حیرت اور دہشت میں بدل گئی۔ کہا، کیا ایسا ہو گا کہ میرے ہاں بچہ ہو گا؟ جب کہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے، یقینا یہ تو ایک عجیب چیز ہے۔ یہ خوش خبری فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام کو بھی دی تھی، جیسا کہ سورۂ ذاریات میں ہے: «{ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ }» [ الذاریات: ۲۸ ] ”اور انھوں نے اسے (ابراہیم علیہ السلام) کو ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دی۔“ مگر یہاں خصوصاً ان کی بیوی کو خوش خبری دینے اور ان سے گفتگو کا ذکر کیا ہے، کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کے ہاں تو ہاجر علیھا السلام سے اسماعیل پیدا ہو چکے تھے، لیکن سارہ علیھا السلام ابھی تک بے اولاد تھیں۔ قدیم مفسرین اور اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر سو سال اور سارہ علیھا السلام کی عمر نوے سال تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کی عمر کے تعین کا کوئی بااعتماد ذریعہ ہمارے پاس نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا بیان سارہ علیھا السلام کا {” عَجُوْزٌ “} ہونا اور ان کے خاوند کا {” شَيْخًا “} ہونا ہی{ ” لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ “ } سمجھنے کے لیے کافی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کی عمر بھی بیان فرما دیتا۔ ➌ یہ آیت دلیل ہے کہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام تھے، کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی خوش خبری کے ساتھ ہی یعقوب پوتے کی خوش خبری بھی تھی، ان کے ذبح کے حکم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (قرطبی)
← پچھلی آیت (71) پوری سورۃ اگلی آیت (73) →