بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 71
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 71
آیت نمبر: 71 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ امۡرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتۡ فَبَشَّرۡنٰہَا بِاِسۡحٰقَ ۙ وَ مِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ یَعۡقُوۡبَ ﴿۷۱﴾
ابراہیمؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی وہ یہ سن کر ہنس دی پھر ہم نے اس کو اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی
اس کی بیوی جو کھڑی ہوئی تھی وه ہنس پڑی، تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی
اور اس کی بی بی کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی
اور ان کی بیوی (سارہ) پاس کھڑی ہوئی تھیں وہ ہنس پڑیں بس ہم نے انہیں اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب(ع) کی۔
اور اس کی بیوی کھڑی تھی، سو ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو ٭٭

ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور ابراہیم علیہ السلام کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آ کر سلام کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔ سلام کے بعد ہی ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہو گئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی، «فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:26،27] ‏‏‏‏ ’ جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے ‘، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں۔ ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئیے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا یہی اس کی قیمت ہے۔‏‏‏‏“ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ ”فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بنائے۔‏‏‏‏“ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں طرح طرح کے خیالات گزرنے لگے۔

سارہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خود ابراہیم علیہ السلام ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔ ابراہیم علیہ السلام کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا ”آپ علیہ السلام خوف نہ کیجئے۔‏‏‏‏“ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ”ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں۔‏‏‏‏“ سارہ رضی اللہ عنہا کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے، وہ پوری غفلت میں ہے۔ الغرض فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اور پھر اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام کے ہونے کی بھی ساتھ ہی خوشخبری سنائی۔ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ یہ سن کر سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ”امر اللہ میں کیا حیرت؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے، اے نبی علیہ السلام کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

71۔ 1 حضرت ابراہیم کی اہلیہ کیوں ہنسیں؟ بعض کہتے ہیں کہ قوم لوط ؑ کی فساد انگیزیوں سے وہ بھی آگاہ تھیں، ان کی ہلاکت کی خبر سے انہوں نے مسرت کی۔ بعض کہتے ہیں اس لئے ہنسی آئی کہ دیکھو آسمانوں سے ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ قوم غفلت کا شکار ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ تقدیم و تاخیر ہے۔ اور اس ہنسنے کا تعلق اس بشارت سے ہے جو فرشتوں نے بوڑھے جوڑے کو دی۔ واللہ اعلم۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 71) ➊ {وَ امْرَاَتُهٗ قَآىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ:} ان کی بیوی سارہ علیھا السلام مہمانوں کی خدمت کے لیے ساتھ ہی کھڑی تھی اور خوف زدہ تھی۔ جب اس نے یہ بات سنی تو ہنس پڑی، یا تو اس لیے کہ ہم انھیں ڈاکو سمجھے تھے یہ تو فرشتے نکلے، یا اس خوشی میں کہ ہم تو خوف زدہ تھے کہ اس طرح فرشتوں کی آمد خطرے سے خالی نہیں ہوتی (دیکھیے حجر: ۸) مگر یہ تو ہم پر عذاب کے بجائے ہمارے عزیز پیغمبر لوط علیہ السلام کی نافرمان قوم پر عذاب کی خوش خبری لے کر آئے ہیں اور دشمن کی ہلاکت کی خبر سے یقینا خوشی ہوتی ہے۔ ➋ { فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ …:} سارہ علیھا السلام کے لیے ایک خوشی کی خبر وہ تھی جو اوپر گزری، جس پر وہ بے ساختہ ہنس پڑیں۔ فرشتوں نے انھیں مزید دو خوش خبریاں دیں، ایک بیٹا عطا ہونے کی، پھر اس بیٹے سے پوتا یعقوب عطا ہونے کی اور ان کے ضمن میں یہ خوش خبری تھی کہ تم دونوں میاں بیوی ابھی اتنی عمر اور پاؤ گے کہ بیٹا ملے گا، وہ جوان ہو گا، پھر اس کی شادی ہو گی اور اسے یعقوب عطا ہو گا، گویا مسلسل چار خوش خبریاں۔ یہ چاروں خوش خبریاں فرشتوں نے دی تھیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اسے یہ خوش خبریاں دیں، کیونکہ فرشتوں کا کام تو صرف پہنچانا تھا، اصل خوش خبری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی جو کسی صورت غلط نہیں ہو سکتی۔
← پچھلی آیت (70) پوری سورۃ اگلی آیت (72) →