بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 60
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 60
آیت نمبر: 60 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ اُتۡبِعُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا لَعۡنَۃً وَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا کَفَرُوۡا رَبَّہُمۡ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ ہُوۡدٍ ﴿٪۶۰﴾
آخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی سنو! عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، سنو! دور پھینک دیے گئے عاد، ہودؑ کی قوم کے لوگ
دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی، دیکھ لو قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، ہود کی قوم عاد پر دوری ہو
اور ان کے پیچھے لگی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن، سن لو! بیشک عاد اپنے رب سے منکر ہوئے، ارے دور ہوں عاد ہود کی قوم،
(اس کی پاداش میں) اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور آخرت میں بھی آگاہ ہو جاؤ کہ قومِ عاد نے اپنے پروردگار کا انکار کیا۔ سو ہلاکت و بربادی ہے ہود کی قومِ عاد کے لئے۔
اور ان کے پیچھے اس دنیا میں لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ سن لو! بے شک عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو! عاد کے لیے ہلاکت ہے، جو ہود کی قوم تھی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہود علیہ السلام کا قوم کو جواب ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اپنا کام تو میں پورا کر چکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔‏‏‏‏“ آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے نجات پاگئے۔ سزاؤں سے بچ گئے، سخت عذاب ان پر سے ہٹا لیے گئے۔ یہ تھے عادی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، اللہ کے پیغمبروں کی مان کر نہ دی۔ یہ یاد رہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا نافرمان کل نبیوں علیہم السلام کا نافرمان ہے۔ یہ انہیں کی مانتے رہے جو ان میں ضدی اور سرکش تھے۔ اللہ کی اور اس کے مومن بندوں کی لعنت ان پر برس پڑی۔ اس دنیا میں بھی ان کا ذکر لعنت سے ہونے لگا اور قیامت کے دن بھی میدان محشر میں سب کے سامنے ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ اور پکار دیا جائے گا کہ عادی اللہ کے منکر ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”ان کے بعد جتنے نبی علیہم السلام سب ان پر لعنت ہی کرتے آئے ان کی زبانی اللہ کی لعنتیں بھی ان پر ہوتی رہیں۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

60۔ 1 لَعْنَہ کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری، امور خیر سے محرومی اور لوگوں کی طرف سے ملامت و بیزاری۔ دنیا میں یہ لعنت اس طرح کہ اہل ایمان میں ان کا ذکر ہمیشہ ملامت اور بیزاری کے انداز میں ہوگا اور قیامت میں اس طرح کہ وہاں علٰی رؤوس الشہاد ذلت اور رسوائی سے دو چار اور عذاب الٰہی میں مبتلا ہوں گے۔ 60۔ 2 بُعْد کا یہ لفظ رحمت سے دوری اور لعنت اور ہلاکت کے معنی کے لئے ہے، جیسا کہ اس سے قبل بھی وضاحت کی جا چکی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 60) ➊ { وَ اُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ:} لعنت کا معنی ناراض ہو کر دفع دور کر دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں عذاب اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم کر دینا ہے اور انسان کی طرف سے لعنت کا مطلب اس کے لیے یہ بددعا کرنا ہے۔ (راغب) یعنی دنیا میں آنے والا ہر پیغمبر اور مومن ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کرتا رہے گا اور آخرت میں وہ سب کے سامنے رسوا اور مبتلائے عذاب ہوں گے۔ ➋ {اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ …: ” اَلَاۤ “} کے ساتھ خبردار اس لیے کیا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ ان بے چاروں پر زیادتی ہوئی۔ فرمایا، سن لو! یہ لوگ تمام جرائم سے بڑے جرم رب تعالیٰ کے کفر کے مرتکب تھے۔ پھر دوبارہ فرمایا، سن لو! عاد کے لیے ہر قسم کی خیر اور اللہ کی رحمت سے دوری ہے، جو ہود علیہ السلام کی قوم تھے۔ یاد رہے کہ {” كَفَرَ“} کے بعد عام طور پر باء آتی ہے، مثلاً {” كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ “} جس کا مطلب رب کی نعمتوں کی ناشکری اور انکار ہوتا ہے۔ باء کے بغیر{ ” كَفَرُوْا رَبَّهُمْ “} کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے سرے ہی سے اپنے رب کا انکار کر دیا، جیسے دہریے رب تعالیٰ کو نہیں مانتے۔ {” كَفَرُوْا رَبَّهُمْ “ ” كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ “} سے بھی بڑا جرم ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق {” كَفَرُوْا رَبَّهُمْ “} میں یہ بھی ممکن ہے کہ {” كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ“ } میں سے تخفیف کے لیے باء حذف کر دی گئی ہو اور دونوں کا معنی ایک ہی ہو۔
← پچھلی آیت (59) پوری سورۃ اگلی آیت (61) →