بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 59
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 59
آیت نمبر: 59 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ تِلۡکَ عَادٌ ۟ۙ جَحَدُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ وَ عَصَوۡا رُسُلَہٗ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿۵۹﴾
یہ ہیں عاد، اپنے رب کی آیات سے انہوں نے انکار کیا، اس کے رسولوں کی بات نہ مانی، اور ہر جبار دشمن حق کی پیروی کرتے رہے
یہ تھی قوم عاد، جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ایک سرکش نافرمان کے حکم کی تابعداری کی
اور یہ عاد ہیں کہ اپنے رب کی آیتوں سے منکر ہوئے اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر بڑے سرکش ہٹ دھرم کے کہنے پر چلے،
اور یہ ہے قومِ عاد جس نے جان بوجھ کر اپنے پروردگار کی آیتوں (نشانیوں) کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش اور دشمن (حق) کی اطاعت کی۔
اور یہ عاد تھے جنھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر زبردست جابر، سخت عناد والے کے حکم کی پیروی کی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہود علیہ السلام کا قوم کو جواب ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اپنا کام تو میں پورا کر چکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔‏‏‏‏“ آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے نجات پاگئے۔ سزاؤں سے بچ گئے، سخت عذاب ان پر سے ہٹا لیے گئے۔ یہ تھے عادی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، اللہ کے پیغمبروں کی مان کر نہ دی۔ یہ یاد رہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا نافرمان کل نبیوں علیہم السلام کا نافرمان ہے۔ یہ انہیں کی مانتے رہے جو ان میں ضدی اور سرکش تھے۔ اللہ کی اور اس کے مومن بندوں کی لعنت ان پر برس پڑی۔ اس دنیا میں بھی ان کا ذکر لعنت سے ہونے لگا اور قیامت کے دن بھی میدان محشر میں سب کے سامنے ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ اور پکار دیا جائے گا کہ عادی اللہ کے منکر ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”ان کے بعد جتنے نبی علیہم السلام سب ان پر لعنت ہی کرتے آئے ان کی زبانی اللہ کی لعنتیں بھی ان پر ہوتی رہیں۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

59۔ 1 عاد کی طرف صرف ایک نبی حضرت ہود ؑ ہی بھیجے گئے تھے، یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ اس سے یا تو یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ایک رسول کی تکذیب، یہ گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ کیونکہ تمام رسولوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ قوم اپنے کفر اور انکار میں اتنی آگے بڑھ چکی تھی کہ حضرت ہود ؑ کے بعد اگر ہم اس قوم میں متعدد رسول بھی بھیجتے، تو یہ قوم ان سب کی تکذیب ہی کرتی۔ اور اس سے قطعاً یہ امید نہ تھی کہ وہ کسی بھی رسول پر ایمان لے آتی۔ یا ہوسکتا ہے کہ اور بھی انبیاء بھیجے گئے ہوں اور اس قوم نے ہر ایک کی تکذیب کی۔ 59۔ 2 یعنی اللہ کے پیغمبروں کی تکذیب کی لیکن جو لوگ اللہ کے حکموں سے سرکشی کرنے والے اور نافرمان تھے، ان کی اس قوم نے پیروی کی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 59) ➊ { وَ تِلْكَ عَادٌ:} اور یہ تھے عاد، اس سے مراد ان کے علاقے بھی ہو سکتے ہیں اور وہ قوم بھی جن کا واقعہ بیان ہوا۔ ➋ {جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ:” جَحَدُوْا “} کا معنی ہے دلیل سے ثابت شدہ بات کا انکار کردینا۔ آیات سے مراد کائنات میں رب تعالیٰ کی توحید کی بے شمار نشانیاں، ہود علیہ السلام پر نازل ہونے والی آیات اور ان کا تنہا پوری قوم کے سامنے بے خوف ہو کر ڈٹ جانا وغیرہ ہیں۔ غرض اس بدنصیب قوم نے واضح نشانات، معجزات اور آیات سمجھ میں آ جانے کے باوجود انھیں ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ ➌ { عَصَوْا رُسُلَهٗ:} انھوں نے اگرچہ ہود علیہ السلام ہی کی نافرمانی کی، لیکن چونکہ ایک پیغمبر کی نافرمانی تمام پیغمبروں کی نافرمانی ہے، اس لیے فرمایا: ”انھوں نے اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی۔“ (شوکانی) ➍ {وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ:عَنِيْدٍ “} سخت عناد والا، ہر وہ شخص جو حق قبول نہ کرے اور اس کے ساتھ شدت کے ساتھ اس کی مخالفت بھی کرے، مراد قوم کے سردار ہیں۔
← پچھلی آیت (58) پوری سورۃ اگلی آیت (60) →