بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 23
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِیۡرٌ ﴿۲۳﴾
تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو
آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں
تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو
آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔
توُ تو محض ایک ڈرانے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یعنی جس طرح کوئی مرنے کے بعد قبر میں دفنا دیاجاتا ہے تو اسے پکارنا بےسود ہے۔ اسی طرح کفار ہیں کہ ہدایت و دعوت ان کے لیے بیکار ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر بدبختی چھاگئی ہے اور ان کی ہدایت کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ تو انہیں کسی طرح ہدایت پر نہیں لا سکتا تو صرف آگاہ کر دینے والا ہے۔ تیرے ذمے صرف تبلیغ ہے، ہدایت و ضلالت من جانب اللہ ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ہر امت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم آتا رہا۔ تاکہ ان کا عذر باقی نہ رہ جائے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [13-الرعد:7] ‏‏‏‏ اور جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، وغیرہ، ان کا تجھے جھوٹا کہنا کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ہے۔ جو بڑے بڑے معجزات، کھلی کھلی دلیلیں، صاف صاف آیتیں لے کر آئے تھے اور نورانی صحیفے ان کے ہاتھوں میں تھے، آخر ان کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے انہیں عذاب و سزا میں گرفتار کر لیا۔ دیکھ لے کہ میرے انکار کا نتیجہ کیا ہوا؟ کس طرح تباہ و برباد ہوئے؟ «واللہ اعلم»

📖 احسن البیان

23۔ 1 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے۔ ہدایت اور ضلالت یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23){ اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ:} یعنی تیرا کام لوگوں کو خبردار کرنے اور اللہ کے عذاب سے ڈرانے سے زیادہ کچھ نہیں، انھیں ہدایت دینا اور ان کے دل میں ایمان اتار دینا تیرا کام نہیں، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے تُو ان کے ایمان نہ لانے پر اس قدر دلبرداشتہ اور غم زدہ نہ ہو۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →