بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 22
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 22
آیت نمبر: 22 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۲۲﴾
اور نہ زندے اور مردے مساوی ہیں اللہ جسے چاہتا ہے سنواتا ہے، مگر (اے نبیؐ) تم اُن لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں
اور زنده اور مردے برابر نہیں ہوسکتے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے، اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں
اور برابر نہیں زندے اور مردے بیشک اللہ سنا تا ہے جسے چاہے اور تم نہیں سنانے والے انہیں جو قبروں میں پڑے ہیں
اور نہ ہی زندے (مؤمنین) اور مردے (کافرین) برابر ہیں۔ بے شک اللہ جسے چاہتا ہے سنوارتا ہے (اے رسول) جو (کفار مردوں کی طرح) قبروں میں دفن ہیں آپ انہیں نہیں سنا سکتے۔
اور نہ زندے برابر ہیں اور نہ مردے۔ بے شک اللہ سنا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تو ہرگز اسے سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک موازنہ ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایماندار اور بے ایمان میں بھی بے انتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا «اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:122] ‏‏‏‏، یعنی جو مردہ تھا پھر اسے ہم نے زندہ کر دیا اور اسے نور دیا جسے لیے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے ایسا شخص اور وہ شخص جو اندھیروں میں گھرا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہیں سکتا کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ اور آیت میں ہے «مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [11-هود:24] ‏‏‏‏، یعنی ان دونوں جماعتوں کی مثال اندھے بہرے اور دیکھنے اور سننے والوں کی سی ہے۔ مومن تو آنکھوں اور کانوں والا اجالے اور نور والا ہے پھر راہ مستقیم پر ہے۔ جو صحیح طور پر سایوں اور نہروں والی جنت میں پہنچے گا اور اس کے برعکس کافر اندھا بہرا اور اندھیروں میں پھنسا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہ سکے گا اور ٹھیک جہنم میں پہنچے گا۔ جو تند و تیز حرارت اور گرمی والی آگ کا مخزن ہے۔ اللہ جسے چاہے سنا دے یعنی اس طرح سننے کی توفیق دے کہ دل سن کر قبول بھی کرتا جائے۔ تو قبر والوں کو نہیں سنا سکتا۔

📖 احسن البیان

22۔ 1 احیاء سے مومن اور اموات سے کافر یا علماء اور جاہل یا عقلمند اور غیر عقلمند مراد ہیں۔ 22۔ 2 یعنی جسے اللہ ہدایت سے نواز نے والا ہوتا ہے اور جنت اس کی مقدر ہوتی ہے، اسے حجت یا دلیل سننے اور پھر اسے قبول کرنے کی تو فیق دے دیتا ہے۔ 22۔ 3 یعنی جس طرح قبروں میں مردہ اشخاص کی کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی اسی طرح جن لوگوں کے دلوں کو کفر نے موت سے ہمکنار کیا اے پیغمبر تو انہیں حق کی بات نہیں سنا سکتا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مرنے اور قبر میں دفن ہونے کے بعد مردہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح کافر و مشرک جن کی قسمت میں بدبختی لکھی ہے دعوت و تبلیغ سے انہیں فائدہ نہیں ہوتا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 22) ➊ { وَ مَا يَسْتَوِي الْاَحْيَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ:} یہ ایمان لانے والوں کی اور ایمان نہ لانے والوں کی مثال ہے کہ ایمان لانے والے زندوں کی طرح ہیں اور ایمان نہ لانے والے مُردوں کی طرح۔ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، جس طرح یہ باہم متضاد اور مختلف چیزیں برابر نہیں ہیں کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان بہت سا فرق اور بُعد ہے اور جس طرح اندھیرے اور روشنی برابر نہیں اور سایہ اور لُو برابر نہیں، اسی طرح زندہ اور مُردے برابر نہیں۔ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بیان فرمائی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور کافروں کے لیے کہ وہ مردہ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۱۲۲ ] ”اور کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایسی روشنی بنا دی جس کی مدد سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، اس شخص کی طرح ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیروں میں ہے، ان سے کسی صورت نکلنے والا نہیں۔“ اور فرمایا: «مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِيْرِ وَ السَّمِيْعِ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا» ‏‏‏‏ [ ھود: ۲۴ ] ”دونوں گروہوں کی مثال اندھے اور بہرے اور دیکھنے والے اور سننے والے کی طرح ہے، کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں؟“ چنانچہ مومن سننے اور دیکھنے والا ہے، دنیا اور آخرت کے اندر روشنی میں صراطِ مستقیم پر چلتا ہے، یہاں تک کہ یہ سفر اسے سایوں اور چشموں والی جنتوں کے ٹھکانے میں پہنچا دیتا ہے اور کافر اندھا اور بہرا ہے، اندھیروں میں چلتا ہے، ان سے کسی طرح نہیں نکلتا۔ دنیا اور آخرت میں اپنی سرکشی اور گمراہی میں بھٹکتا پھرتا ہے، یہاں تک کہ یہ سفر اسے جہنم کی لُو اور گرم پانی تک پہنچا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ ظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ (43) لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِيْمٍ» ‏‏‏‏ [ الواقعۃ: ۴۳، ۴۴ ] ”اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ جو نہ ٹھنڈا ہے اور نہ باعزت۔“ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَآءُ:} سنانے کا مطلب سوچنے، سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق کے ساتھ سنانا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور چاہنے کی تو بات ہی دوسری ہے، وہ جسے چاہے سنا دے، چاہے تو بے جان پتھروں کو سنا دے، کسی اور میں یہ قدرت نہیں، نہ یہ رسول کے بس کا کام ہے کہ جن لوگوں کے دل مردہ ہو چکے ہوں ان کے دلوں میں اپنی بات اُتار سکے اور جو بات سننا ہی نہ چاہتے ہوں ان کے بہرے کانوں کو حق کی آواز سنا سکے، وہ تو انھی کو سنا سکتا ہے جو معقول بات سننے اور اس پر غور کے لیے آمادہ ہوں۔ ➌ { وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ:} یہ مشرکین کی مثال ہے کہ وہ مُردوں کی طرح ہیں جو سنتے نہیں، یعنی جس طرح تیرے بس میں یہ بات نہیں کہ تو قبروں میں دفن مُردوں کو اپنی بات سنا سکے اسی طرح جن لوگوں کے دل مُردہ ہو چکے ہیں تو انھیں بھی اللہ کی آیات نہیں سنا سکتا، نہ انھیں راہ راست پر لا سکتا ہے۔ ➍ یہ آیت مُردوں کے نہ سننے کی بھی واضح دلیل ہے۔ دیکھیے سورۂ نمل (۸۰، ۸۱)۔
← پچھلی آیت (21) پوری سورۃ اگلی آیت (23) →