بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 24
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ ﴿۲۴﴾
ہم نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر اور کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو
ہم نے ہی آپ کو حق دے کر خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈر سنانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے واﻻ نہ گزرا ہو
اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سنا تا اور جو کوئی گروہ تھا سب میں ایک ڈر سنانے والا گزر چکا
بیشک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشیر و نذیر (بشارت دینے والا اور ڈرانے والا) بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں (گزری) جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو۔
بے شک ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کو ئی امت نہیںمگر اس میں ایک ڈرانے والا گزرا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یعنی جس طرح کوئی مرنے کے بعد قبر میں دفنا دیاجاتا ہے تو اسے پکارنا بےسود ہے۔ اسی طرح کفار ہیں کہ ہدایت و دعوت ان کے لیے بیکار ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر بدبختی چھاگئی ہے اور ان کی ہدایت کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ تو انہیں کسی طرح ہدایت پر نہیں لا سکتا تو صرف آگاہ کر دینے والا ہے۔ تیرے ذمے صرف تبلیغ ہے، ہدایت و ضلالت من جانب اللہ ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ہر امت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم آتا رہا۔ تاکہ ان کا عذر باقی نہ رہ جائے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [13-الرعد:7] ‏‏‏‏ اور جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، وغیرہ، ان کا تجھے جھوٹا کہنا کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ہے۔ جو بڑے بڑے معجزات، کھلی کھلی دلیلیں، صاف صاف آیتیں لے کر آئے تھے اور نورانی صحیفے ان کے ہاتھوں میں تھے، آخر ان کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے انہیں عذاب و سزا میں گرفتار کر لیا۔ دیکھ لے کہ میرے انکار کا نتیجہ کیا ہوا؟ کس طرح تباہ و برباد ہوئے؟ «واللہ اعلم»

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) ➊ { اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا:} حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت ہے۔ یعنی اے رسول! ہم نے تجھے حق دے کر بھیجا ہے، تاکہ جو تجھ پر ایمان لائیں انھیں جنت کی بشارت دے اور جو تجھے جھٹلائیں انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرائے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بشارت اور تسلی ہے۔ ➋ { وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ:} اس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اپنی رحمت کا اور اپنے فضل کا بیان فرمایا ہے کہ اس نے لوگوں کو اندھیروں میں بھٹکتا ہوا نہیں چھوڑا کہ ان کے لیے سیدھے اور غلط راستے کی نشان دہی نہ کرے، بلکہ اس سے پہلے جو قوم بھی گزری اس نے اس کی طرف کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور بھیجا، خواہ وہ نبی یا رسول ہو، خواہ اس کا نائب دین کا کوئی عالم اور مبلغ ہو جس کے ذریعے سے رسول کی لائی ہوئی شریعت لوگوں تک پہنچ جائے۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →