بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 62
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 62
آیت نمبر: 62 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ لَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۶۲﴾
اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، یقیناً اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے
اللہ کشادہ کرتا ہے رزق اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

توحید ربویت توحید الوہیت ٭٭

اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا، سورج کو مسخر کرنے والا، دن رات کو پے در پے لانے والا، خالق، رازق، موت و حیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، سب پر قابض صرف وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے۔ قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت ہے۔ اس لیے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی، انہیں قائل معقول کر کے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ { مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے، کہتے تھے: «لَبَیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ» یعنی یا اللہ! ہم حاضر ہوئے، تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1185] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

62-1یہ مشرکین کے اعتراض کا جواب ہے جو وہ مسلمانوں پر کرتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو پھر غریب اور کمزور کیوں ہو؟ اللہ نے فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور کمی اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت و مشیت کے مطابق جس کو چاہتا کم یا زیادہ دیتا ہے، اس کا تعلق اس کی رضامندی یا غضب سے نہیں ہے۔ 62-2اس کو بھی وہی جانتا ہے کہ زیادہ رزق کس کے لئے بہتر ہے اور کس کے لئے نہیں؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 62) ➊ { اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ …:} یعنی ہجرت کی وجہ سے کسی کا رزق کم نہیں ہوتا۔ رزق کا فراخ ہونا یا تنگ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، وہی جانتا ہے کہ کس کو کتنا رزق دینا چاہیے۔ اور اگر خطاب مشرکین سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ رزق کھول دینا یا بند کر دینا تمھارے بنائے ہوئے داتاؤں اور دستگیروں کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پوری طرح علم رکھنے والا ہے۔ ➋ ”اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے“ کا ایک مطلب تویہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، لیکن {”يَقْدِرُ“ } کے بعد{” لَهٗ “} کی وجہ سے ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور اسی کے لیے کبھی تنگ بھی کر دیتا ہے۔ یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے، جب چاہے کسی کا رزق کھول دے اور جب چاہے اس کا رزق تنگ کر دے، اس کا ہجرت کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ ➌ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے، مگر بند نہیں کرتا۔ ➍ { اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} یعنی اللہ کی مشیت اندھے کی لاٹھی کی طرح نہیں کہ بلا وجہ کسی کا رزق فراخ کر دے یا تنگ کر دے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے خوب واقف ہے کہ کس کے حق میں فراخی سے روزی دینا بہتر ہے اور کس کے حق میں تنگی سے روزی دینا، یا ایک ہی بندے کو کب فراخی سے روزی دینا بہتر ہے اور کب تنگی سے۔
← پچھلی آیت (61) پوری سورۃ اگلی آیت (63) →