بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 61
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 61
آیت نمبر: 61 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ۚ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اگر تم اِن لوگوں سے پُوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند اور سُورج کو کس نے مسخّر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کدھر سے دھوکا کھا رہے ہیں؟
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے واﻻ کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ، پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں
اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں لگائے سورج اور چاند تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تو کہاں اوندھے جاتے ہیں
اور اگر آپ ان (مشرکوں) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ تو پھر وہ کدھر جا رہے ہیں؟
اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے، پھر کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

توحید ربویت توحید الوہیت ٭٭

اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا، سورج کو مسخر کرنے والا، دن رات کو پے در پے لانے والا، خالق، رازق، موت و حیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، سب پر قابض صرف وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے۔ قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت ہے۔ اس لیے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی، انہیں قائل معقول کر کے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ { مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے، کہتے تھے: «لَبَیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ» یعنی یا اللہ! ہم حاضر ہوئے، تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1185] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

61-1یعنی یہ مشرکین، جو مسلمان کو محض توحید کی وجہ سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں، ان سے اگر پوچھا جائے کہ آسمان و زمین کو عدم وجود میں لانے والا اور سورج اور چاند کو اپنے اپنے مدار پر چلانے والا کون ہے؟ تو وہاں یہ اعتراف کئے بغیر انھیں چارہ نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ کرنے والا اللہ ہے 61-2 یعنی دلائل اور و اعتراف کے باوجود حق سے انکار اور گریز باعث تعجب ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 61) ➊ { وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …:} یہاں سے کلام کا رُخ پھر اہلِ مکہ کی طرف ہو گیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے معبودِ واحد ہونے کی دلیل کے طور پر مشرکینِ مکہ کے اس اعتراف کا ذکر ہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چنانچہ فرمایا، اے رسول! یا اے مخاطب! اگر تو ان مشرکین سے پوچھے کہ وہ کون ہے جس نے یہ سب آسمان پیدا کیے اور یہ زمین پیدا کی؟ اور وہ کون ہے جس نے تمھارے فائدے کے لیے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا؟ تو یقینا وہ کسی تردّد کے بغیر کہیں گے کہ وہ ”الله“ ہے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا آج تک کسی نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ میں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور میں نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے۔ اس لیے کتنا بڑے سے بڑا مشرک ہو، اسے یہ حقیقت ماننے کے بغیر چارہ نہیں۔ ➋ { فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ:} یہ ان کی الٹی سوچ پر اور اپنے ہی قول کے خلاف عمل پر تعجب کا اظہارہے۔ یعنی جب تم مانتے ہو کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اور سورج و چاند کو مسخر کرنے والا ہے، تو عبادت میں کسی اور کو کیوں شریک کرتے ہو اور کسی اور پر بھروسا کیوں کرتے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر اپنے اکیلے رب اور مالک ہونے کو اپنے اکیلا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے، کیوں کہ مشرکین اس کا اعتراف کرتے تھے۔ ➌ بعض مفسرین نے پچھلی آیت کے ساتھ اس آیت کی مناسبت یہ بیان کی ہے کہ اس آیت کے مخاطب فکر معاش کی وجہ سے ہجرت میں تردّد کرنے والے حضرات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زمین و آسمان، سورج اور چاند سب کو پیدا کرنے والا اور انھیں اپنے اپنے کام پر لگانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور انسان کی تمام ضروریاتِ زندگی اسی نظام سے وابستہ ہیں۔ انھی ضروریات میں سے ایک ضرورت کھانے پینے کی اور ذریعہ معاش کی ہے۔ تو مسلمان جہاں بھی ہجرت کر کے جائیں گے یہ سارا نظام وہاں بھی موجود ہو گا اور اللہ عزوجل انھیں وہاں بھی ایسے ہی روزی مہیا کرے گا جیسے یہاں کر رہا ہے، تو یہ لوگ کہاں بہکائے جارہے ہیں۔
← پچھلی آیت (60) پوری سورۃ اگلی آیت (62) →