بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 56
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 56
آیت نمبر: 56 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ اَرۡضِیۡ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾
اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، میری زمین وسیع ہے، پس تم میری بندگی بجا لاؤ
اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین بہت کشاده ہے سو تم میری ہی عبادت کرو
اے میرے بندو! جو ایمان لائے بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو
اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو! میری زمین (بہت) وسیع ہے۔ پس تم میری ہی عبادت کرو۔
اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ! بیشک میری زمین وسیع ہے، سو تم میری ہی عبادت کرو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے۔ اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجا لا سکیں، وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں۔ جہاں تو بھلائی پا سکتا ہو، وہیں قیام کر۔ } ۱؎ [مسند احمد:166/1:ضعیف] ‏‏‏‏ چنانچہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم پر جب مکہ مکرمہ کی رہائش مشکل ہو گئی تو وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تاکہ امن و امان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کر سکیں۔ وہاں کے سمجھدار، دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی رحمہ اللہ نے ان کی پوری تائید و نصرت کی اور وہاں بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو، موت کے پنجے سے نجات نہیں پا سکتے۔ پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہیئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جا کر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایمان دار، نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلند و بالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی، کہیں شراب طہور کی، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی۔ یہ چشمے خودبخود جہاں جتنے چاہیں، بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ وہاں سے نکالے جائیں گے، نہ ہٹائے جائیں گے، نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی، نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالاخانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی، اس کے دشمنوں کو ترک کیا اور اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اور اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات مار دی۔ ابن ابی حاتم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں، خوش کلام، نرم گو ہوں، روزے، نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہو یا دنیوی۔ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:343/5:حسن] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقسیم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو، اسے وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہو گئے اور بادشاہ بن گئے۔ فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ کسی مخلوق کو کسی حالت میں کسی وقت نہیں بھولتا۔ چیونٹیوں کو ان کے سوراخوں میں، پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں، مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا: «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [11-هود:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔ وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے۔ یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ‘ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: { میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کر کے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے تو یہ ردی کھجوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں، اس لیے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ ملا ہی نہیں۔ سنو! اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر و کسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! تیرا کیا حال ہو گا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہو گا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کر لیا کریں گے اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودہ ہو جائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے کہ جو آیت «وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا۔ جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار درہم جمع کروں، نہ کل کے لیے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ } ۱؎ [بغوی فی التفسیر:253/6:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابوالعطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر و بال سفید ہوتے ہیں، یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کر کے بھاگ جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے پروں کی رنگت سیاہ پڑ جاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں۔ ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے، اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے، وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ۔ } ۱؎ [بیھقی فی السنن الکبری:102/7:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے: { سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ } اور حدیث میں ہے: { سفر کرو، نفع اٹھاؤ گے۔ روزے رکھو، تندرست رہو گے۔ جہاد کرو، غنیمت ملے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:380/2:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے: { جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ } ۱؎ [الدیلمی فی مسند الفردوس:3387:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔

📖 احسن البیان

56-1اس میں ایسی جگہ سے، جہاں اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہو اور دین پر قائم رہنا دوبھر ہو رہا ہو ہجرت کرنے کا حکم ہے، جس طرح مسلمانوں نے پہلے مکہ سے حبشہ کی طرف اور بعد میں مدینہ کی طرف ہجرت کی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 56) ➊ {يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا:} یہ حقیقت ہے کہ ساری مخلوق ہی اللہ تعالیٰ کے عبد (غلام) ہیں۔ پھر یہ بندے دوقسم کے ہیں، مومن اور کافر۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا، مومن نے اپنی پسند چھوڑ کر رب کی پسند اختیار کی، اس کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دی، چنانچہ وہ ہر چیز میں اللہ کا عبد، بندہ اور غلام بن گیا۔ جو مالک نے کہا، کیا، جس سے روک دیا اس سے رک گیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے{” يٰعِبَادِيْ “} (اے میرے بندو!) کے معزز اور پیار بھرے الفاظ کے ساتھ مخاطب فرمایا۔ کافر بھی اگرچہ اللہ ہی کا بندہ ہے مگر اس نے اپنے رب کے سامنے سرکشی اختیار کی، اس کی مرضی کے بجائے اپنی مرضی پر چلا، سو محبت کے خطاب سے محروم رہا۔ {” يٰعِبَادِيْ“} کے بعد {” الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا “} اس بات کے اظہار کے لیے ہے کہ ان لوگوں کو یہ شرف ایمان کی وجہ سے حاصل ہواہے۔ ➋ { اِنَّ اَرْضِيْ وَاسِعَةٌ:} اس سورت کا مضمون ہے اہلِ ایمان کی آزمائش، یہ آزمائش بعض اوقات اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ اپنے وطن میں رہنے کی صورت میں مومن کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے، کفار کا ظلم و ستم اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنے دین پر نہ عمل کر سکتا ہے نہ اس کی دعوت دے سکتا ہے۔ سورت کے نزول کے وقت مکہ میں مسلمانوں کا یہی حال تھا۔ ایسی صورت میں انھیں ہجرت کی ترغیب دی کہ اگر مکہ کی سرزمین میں، جہاں تم اب ہو، میری بندگی بجا لانا مشکل ہو رہا ہے تو میری زمین تنگ نہیں، بہت فراخ ہے، تم اپنا وطن چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں تم آزادی سے میری بندگی کر سکو۔ ابراہیم اور لوط علیھما السلام کی مثالیں اسی سورت میں اس سے پہلے گزر چکی ہیں۔ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی، پھر مدینہ منورہ کی طرف اور اللہ تعالیٰ نے انھیں امن و اطمینان اور آزادی کی نعمت بھی عطا فرمائی اور فراخ رزق کی بھی۔ اب بھی یہی حکم ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی جگہ رہتا ہو جہاں برائیوں کا دور دورہ ہو اور اس کے لیے اللہ کے احکام پر عمل ممکن نہ رہے تو لازم ہے کہ اس جگہ سے ہجرت کر کے ایسی جگہ چلا جائے جہاں وہ آزادی سے اللہ تعالیٰ کی بندگی کر سکے۔ سورۂ نساء کی آیات (۹۷ تا ۱۰۰) میں ہجرت کی فرضیت، اس کی فضیلت اور ہجرت نہ کرنے والوں کے بارے میں وعید بیان ہوئی ہے۔ ➌ { فَاِيَّايَ فَاعْبُدُوْنِ:} اس سے معلوم ہوا کہ ہجرت کا اصل مقصد اکیلے اللہ کی عبادت ہے، روزی کمانے یا کسی اور مقصد کے لیے کسی ملک یا شہر میں چلے جانا اصل ہجرت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَی اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلی اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ، وَمَنْ هَاجَرَ إِلٰی دُنْيَا يُصِيْبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلٰی مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ] [بخاري، الحیل، باب في ترک الحیل…: ۶۹۵۳، عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ] ”تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس نے دنیا کی کسی چیز کی طرف ہجرت کی، جسے وہ حاصل کرے یا کسی عورت کی طرف، جس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔“
← پچھلی آیت (55) پوری سورۃ اگلی آیت (57) →