بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 55
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 55
آیت نمبر: 55 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
یَوۡمَ یَغۡشٰہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ وَ یَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۵۵﴾
(اور انہیں پتہ چلے گا) اُس روز جبکہ عذاب انہیں اُوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے
اس دن ان کے اوپر تلے سے عذاب ڈھانﭗ رہا ہوگا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب اپنے (بد) اعمال کا مزه چکھو
جس دن انہیں ڈھانپے گا عذاب ان کے اوپر اور ان کے پاؤں کے نیچے سے اور فرمائے گا چکھو اپنے کیے کا مزہ
جس دن عذاب ان کو اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے ڈھانک لے گا اور خدا کہے گا کہ (اب) مزہ چکھو اس کا جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو (تب ان کو پتہ چلے گا)۔
جس دن عذاب انھیں ان کے اوپر سے اور ان کے پائوں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا اور (اللہ) فرمائے گا چکھو جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت ٭٭

مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کہ ’ جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی درد ناک عذاب کر۔ ‘ ۱؎ [8-الأنفال:32] ‏‏‏‏ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العالمین یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہوں گے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ان کے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرور آئیں گے بلکہ ان کی بےخبری میں اچانک اور یک بہ یک آ پڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے یعنی یقیناً انہیں عذاب ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے، ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج، چاند اسی میں بے نور کر کے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث یعلیٰ سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا» یعنی ’ وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں ‘ تو فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلیٰ کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہوں گا جب تک کہ اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤں اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ‏‏‏‏ ’ ان کے لیے جہنم ہی اوڑھنا بچھونا ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ» ۱؎ [39-الزمر:16] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہو گا۔ ‘ اور مقام پر ارشاد ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:39] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جب کہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹا سکیں گے نہ پیچھے سے۔ ‘ ان آیتوں سے معلوم ہو گیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہو گی، آگے پیچھے سے، اوپر نیچے سے، دائیں بائیں سے۔ تو اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہو گی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا: لو اب عذاب کے مزے چکھو۔ پس ایک تو وہ ظاہری، جسمانی عذاب، دوسرا یہ باطنی، روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت «يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ» ۱؎ [40-غافر:71] ‏‏‏‏ اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [52-الطور:13-16] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لو اب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے۔ اب بتاؤ! یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔ ‘

📖 احسن البیان

55-1یقول کا فاعل اللہ ہے یا فرشتے یعنی جب چاروں طرف سے ان پر عذاب ہو رہا ہوگا تو کہا جائے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 55) ➊ {يَوْمَ يَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ:} یہ جہنم کے گھیرنے کی تفصیل ہے کہ عذاب کافروں کو ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے یعنی ہر طرف سے گھیر لے گا، جیسا کہ فرمایا: «{ لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ[الأعراف: ۴۱ ] ”ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے۔“ اور فرمایا: «{ لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ }» [ الزمر: ۱۶ ] ”ان کے لیے ان کے اوپر سے آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی سائبان ہوں گے۔“ اور فرمایا: «{ لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ }» [ الأنبیاء: ۳۹ ] ”کاش! وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اس وقت کو جان لیں جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے۔“ ➋ { وَ يَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} یعنی آگ کے عذاب کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ کا معنوی عذاب مزید ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ }» [ القمر: ۴۸ ] ”جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔“ اور فرمایا: «{ يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا (13) هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ (14) اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ (15) اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ }» [ الطور: ۱۳ تا ۱۶ ] ”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔ تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے؟ اس میں داخل ہو جاؤ، پھر صبر کرو یا صبر نہ کرو، تم پر برابر ہے، تمھیں صرف اسی کا بدلا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔“ {” يَقُوْلُ “} کا فاعل اللہ تعالیٰ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے یہ بات کہے گا اور عذاب کا فرشتہ بھی، یا پھر خود عذاب اس کا فاعل ہے جو ان سے کہے گا کہ اپنے اعمال کی سزا چکھو، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ آتَاهُ اللّٰهُ مَالاً فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيْبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ، يَعْنِيْ بِشِدْقَيْهِ، ثُمَّ يَقُوْلُ أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ ثُمَّ تَلاَ: «{ وَ لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ }» ] [ آل عمران: ۱۸۰ ] [ بخاري، الزکاۃ، باب إثم مانع الزکاۃ …: ۱۴۰۳، عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی، تو قیامت کے دن وہ مال اس کے لیے ایک گنجے شکل کا سانپ بنا دیا جائے گا، جس کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اس کے گلے میں طوق بنا دیا جائے گا۔ پھر وہ اس کی باچھوں کو پکڑے گا، پھر کہے گا، میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ }» [ آل عمران: ۱۸۰ ] ”اور وہ لوگ جو اس میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے، ہر گز گمان نہ کریں کہ وہ ان کے لیے اچھا ہے، بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے، عنقریب قیامت کے دن انھیں اس چیز کا طوق پہنایا جائے گا جس میں انھوں نے بخل کیا اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی میراث ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پورا با خبر ہے۔“
← پچھلی آیت (54) پوری سورۃ اگلی آیت (56) →