بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 52
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 52
آیت نمبر: 52 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ شَہِیۡدًا ۚ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡبَاطِلِ وَ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۵۲﴾
(اے نبیؐ) کہو کہ "میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے وہ آسمانوں اور زمین میں سب کچھ جانتا ہے جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں"
کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ گواه ہونا کافی ہے وه آسمان وزمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے ہیں وه زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں
تم فرماؤ اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں،
(اے رسول(ص)) آپ کہہ دیجئے! کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کیلئے اللہ کافی ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اور جو لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا ذکر کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
کہہ دے اللہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ لوگ جو باطل پر ایمان لائے اور انھوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن کریم ٭٭

کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کر لیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہو جائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے کہ ’ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گزشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:59] ‏‏‏‏ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں، پیغمبر ہوں، قاصد ہوں، میراکام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا۔ نیک بد سمجھا دیا۔ اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کر دے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ایک اور جگہ ہے: ’ تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:277] ‏‏‏‏ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آ چکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کرمعجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کامعارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کر سکے۔

تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گزشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے۔ جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں حلاوت، جس کے انداز میں فصاحت، جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا، جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود ہیں۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور، اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لیے رحمت ونصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے اور باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے۔ گنہگاروں کا انجام دکھا کر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہدو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب وسرکشی کو اور میری سچائی و خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ ’ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:44-47] ‏‏‏‏ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لیے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتاجاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کاجاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بداعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔

📖 احسن البیان

52-1اس بات پر کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور جو کتاب مجھ پر نازل ہوئی ہے یقینا منجانب اللہ ہے۔ 52-2یعنی غیر اللہ کی عبادت کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور جو فی الواقع مستحق عبادت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ، اس کا انکار کرتے ہیں۔ 52-3کیونکہ یہی لوگ فساد عقلی اور سوء فہم میں مبتلا ہیں، اسی لئے انہوں نے سودا کیا ہے کہ ایمان والوں کے بدل کفر اور ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ہے، اس میں یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 52) ➊ {قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ شَهِيْدًا:} کفار کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا یہ ایک اور جواب ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ }» [ الرعد: ۴۳ ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا،کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔“ یعنی اگر تم مجھے جھٹلاتے ہو تو میرے اور تمھارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمھاری تکذیب اور سرکشی کو اور میری سچائی اور خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا، کیونکہ وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام لیے نہیں چھوڑتا، جیسے خود اس کا فرمان ہے: «{ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل (44) لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ (45) ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (46) فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ }» [ الحاقۃ: ۴۴ تا ۴۷ ] ”اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔“ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی بات تم سے کہتا ہوں، اس لیے وہ میری تائید کر رہا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جا رہا ہے اور واضح معجزات اور قطعی دلائل کے ساتھ میری تائید فرماتا جا رہا ہے۔ (ابن کثیر) ➋ {يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، نہ میرا پیغام رسالت پہنچانا اور نہ تمھارا جھٹلانا۔ وہ اپنے علم کے مطابق قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ ➌ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ …:} جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اصل خسارے والے یہی لوگ ہیں، کیونکہ انھوں نے حق کو چھوڑا اور باطل کو اختیار کیا، پھر اس سے بڑھ کر خسارا کیا ہو گا؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں اس کی جزا دے گا۔
← پچھلی آیت (51) پوری سورۃ اگلی آیت (53) →