بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 51
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 51
آیت نمبر: 51 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
اَوَ لَمۡ یَکۡفِہِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَرَحۡمَۃً وَّ ذِکۡرٰی لِقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۵۱﴾
اور کیا اِن لوگوں کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اِنہیں پڑھ کر سُنائی جاتی ہے؟ در حقیقت اِس میں رحمت ہے اور نصیحت ہے اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں
کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں
اور کیا یہ انہیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے،
کیا ان کیلئے یہ (معجزہ) کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر (یہ) کتاب نازل کی ہے۔ جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟ بے شک اس میں ایمان والوں کیلئے رحمت اور نصیحت موجود ہے۔
اور کیا انھیں یہ کافی نہیں ہوا کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے۔ بے شک اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے بڑی رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن کریم ٭٭

کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کر لیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہو جائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے کہ ’ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گزشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:59] ‏‏‏‏ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں، پیغمبر ہوں، قاصد ہوں، میراکام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا۔ نیک بد سمجھا دیا۔ اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کر دے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ایک اور جگہ ہے: ’ تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:277] ‏‏‏‏ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آ چکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کرمعجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کامعارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کر سکے۔

تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گزشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے۔ جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں حلاوت، جس کے انداز میں فصاحت، جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا، جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود ہیں۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور، اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لیے رحمت ونصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے اور باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے۔ گنہگاروں کا انجام دکھا کر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہدو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب وسرکشی کو اور میری سچائی و خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ ’ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:44-47] ‏‏‏‏ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لیے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتاجاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کاجاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بداعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔

📖 احسن البیان

51-1یعنی وہ نشانیاں طلب کرتے ہیں۔ کیا ان کے لیے بطور نشانی قرآن کافی نہیں ہے جو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور جس کی بابت انھیں چیلنج دیا گیا ہے کہ اس جیسا قرآن لا کردکھائیں یا کوئی ایک سورت ہی بنا کر پیش کردیں۔ جب قرآن کی اس معجزہ نمائی کے باوجود یہ قرآن پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کی طرح انھیں معجزے دکھا بھی دیے جائیں تو اس پر یہ کون سا ایمان لے آئیں گے۔ 51-2یعنی ان لوگوں کے لیے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہے، کیونکہ وہی اس سے متمتع اور فیض یاب ہوتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 51) ➊ {اَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ …:} فرمایا، یہ لوگ نشانی طلب کرتے ہیں، کیا نشانی کے لیے انھیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ عظیم کتاب نازل کی ہے، جب کہ آپ اُمّی (اَن پڑھ) تھے؟ ایک اَن پڑھ شخص پر اتنی عظیم کتاب کا نازل ہونا کیا کم معجزہ ہے، جس کی ایک سورت کی مثال لانے سے کل عالم عاجز ہے؟ مطلب یہ کہ اگر تم ہدایت قبول کرنا چاہو تو قرآن کریم ہی اس مقصد کے لیے کافی معجزہ ہے، اس کے ہوتے ہوئے مزید نشانیاں طلب کرنا محض ہٹ دھرمی ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلاَّ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ أُوْمِنَ، أَوْ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِيْ أُوْتِيْتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللّٰهُ إِلَيَّ فَأَرْجُوْ أَنِّيْ أَكْثَرُهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [بخاري، الاعتصام بالکتاب و السنۃ، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعثت بحوامع الکلم: ۷۲۷۴ ] ”انبیاء میں سے جو بھی نبی تھا، اسے نشانیوں میں سے ایسی نشانیاں دی گئیں جن نشانیوں (کو دیکھ کر ان) پر آدمی ایمان لائے اور مجھے جو نشانی دی گئی وہ صرف وحی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی۔ اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے ان سب سے زیادہ ہوں گے۔“ ➋ { يُتْلٰى عَلَيْهِمْ:} یہ کتاب ہر جگہ اور ہر وقت ان کے سامنے پڑھی جا رہی ہے، یعنی ایسا نہیں کہ یہ معجزہ ان سے مخفی یا ان کی نگاہوں سے کسی وقت اوجھل ہو۔ جب کہ اس سے پہلے انبیاء کے معجزے ہر وقت سامنے نہیں ہوتے تھے۔ عصائے موسیٰ سانپ بنا مگر چند بار، ہر وقت نہیں۔ ➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کردہ معجزہ (قرآن کریم) کی دوخصوصیات بیان فرمائیں، جو پہلے کسی پیغمبر کے معجزے میں نہیں تھیں۔ پہلی یہ کہ پہلے پیغمبروں کے معجزے ان کی اقوام کے لیے عذاب کا باعث ہوتے، کیونکہ ان میں حقیقت سے اس طرح پردہ اٹھا دیا گیا تھا کہ جب آنکھوں سے دیکھ کر وہ ایمان نہ لائے تو اللہ کے عذاب نے ان کا نام ونشان مٹا دیا۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کردہ معجزہ (قرآن کریم) بنی نوع انسان کے لیے سراسر رحمت ہے، کیونکہ اسے نہ ماننے والوں کے لیے بھی مہلت ہے کہ ان پر فوراً عذاب نہیں آتا۔ یہ {” اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً “} کا مطلب ہے۔ دوسری خصوصیت یہ کہ پہلے پیغمبروں کے معجزے ان کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے، جب کہ قرآن کریم قیامت تک اہلِ ایمان کی نصیحت اور یاد دہانی کے لیے باقی رہے گا۔ یہ {” ذِكْرٰى “} کا مفہوم ہے۔
← پچھلی آیت (50) پوری سورۃ اگلی آیت (52) →