بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کیا جس کی ناک کٹ جائے وہ سونے کی ناک لگوا سکتا ہے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: کیا جس کی ناک کٹ جائے وہ سونے کی ناک لگوا سکتا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 5164 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَبَّانُ ، سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ ، عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ , فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ ," فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جنگ کلاب کے دن ان کی ناک کٹ گئی، تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوا لی، پھر اس میں بدبو آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الخاتم 7 (4232، 4233)، سنن الترمذی/اللباس 31 (1770)، (تحفة الأشراف: 9895)، مسند احمد (5/13، 23) (حسن)»
وضاحت
۱؎: کلاب ایک چشمے یا کنویں کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں اس کے پاس ایک عظیم جنگ لڑی گئی تھی۔ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے بوقت حاجت سونے کی ناک بنوانے اور دانتوں کو سونے کے تار سے باندھنے کو مباح قرار دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 5165 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَبِي الْأَشْهَبِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ ، عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ كُرَيْبٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ كُرَيْبٍ، قَالَ: وَكَانَ جَدُّهُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَأَى جَدَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ فِضَّةٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ , فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَهُ مِنْ ذَهَبٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ جاہلیت میں جنگ کلاب کے دن ان کے دادا (عرفجہ بن اسد رضی اللہ عنہ) کی ناک کٹ گئی، تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی، پھر اس میں بدبو آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ سونے کی ناک بنوا لیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن