مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَبَّانُ ، سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ ، عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ , فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ ," فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جنگ کلاب کے دن ان کی ناک کٹ گئی، تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوا لی، پھر اس میں بدبو آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الخاتم 7 (4232، 4233)، سنن الترمذی/اللباس 31 (1770)، (تحفة الأشراف: 9895)، مسند احمد (5/13، 23) (حسن)»
وضاحت
۱؎: کلاب ایک چشمے یا کنویں کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں اس کے پاس ایک عظیم جنگ لڑی گئی تھی۔ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے بوقت حاجت سونے کی ناک بنوانے اور دانتوں کو سونے کے تار سے باندھنے کو مباح قرار دیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن