مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَهُوَ يُرِيدُ الِانْتِفَاءَ مِنْهُ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: فِيهَا ذَوْدُ وُرْقٍ، قَالَ: فَمَا ذَاكَ تُرَى؟ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ، قَالَ: فَلَعَلَّ هَذَا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ , قَالَ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟“ اس نے کہا (جی ہاں) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا۔ آپ نے فرمایا: ”(یہ بھی ایسا ہی سمجھ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا“، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/الطلاق 28 (2261)، (تحفة الأشراف: 13273)، مسند احمد (2/233، 279) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح