إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ," أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى تَرَى، أَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”کس رنگ کے ہیں؟“، اس نے کہا لال رنگ (کے ہیں)، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: (جی ہاں) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا ہو سکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو۔ آپ نے فرمایا: ”(یہی بات یہاں بھی سمجھو) ہو سکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/الطلاق 28 (2260)، سنن ابن ماجہ/النکاح 58 (2200)، (تحفة الأشراف: 13129)، صحیح البخاری/الطلاق 26 (5305)، والحدود 41 (6847)، والاعتصام 12 (7314)، سنن الترمذی/الولاء 4 (2129)، مسند احمد (2/334، 239، 409) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: گویا اس شخص کو اپنی بیوی پر شک ہوا کہ بیٹے کا کالا رنگ کہیں اس کی بدکاری کا نتیجہ تو نہیں ہے؟ ۲؎: یعنی تم گرچہ گورے سہی تمہارے آباء و اجداد میں کوئی کالے رنگ کا رہا ہو گا اور اس کا اثر تمہارے بیٹے میں آ گیا ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح