بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل باب: جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1794 سنن نسائی
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، شُعْبَةَ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ:" مَنْ فَاتَهُ وِرْدُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَقْرَأْهُ فِي صَلَاةٍ قَبْلَ الظُّهْرِ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ صَلَاةَ اللَّيْلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، تو اسے چاہیئے کہ وہ ظہر سے پہلے کسی نماز میں اسے پڑھ لے، کیونکہ یہ رات کی نماز کے برابر ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1791 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح مقطوع
حدیث نمبر: 1795 سنن نسائی
الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ثَابَرَ عَلَى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا , وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو دن رات میں بارہ رکعتوں پر مداومت کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الصلاة 190 (414)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 100 (1140)، (تحفة الأشراف: 17393) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: فرض نماز سے پہلے یا اس کے بعد جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم وہ ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مداومت فرمائی ہے بعض روایتوں میں ان کی تعداد دس بیان کی گئی ہے، اور بعض میں بارہ، اور بعض میں چودہ، انہیں سنن مؤکدہ یا سنن رواتب کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے جس پر آپ نے مداومت نہیں کی ہے انہیں نوافل یا غیر موکدہ کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے مزید تقرب کے لیے نوافل یا غیر مؤکدہ سنتوں کی بھی بڑی اہمیت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1796 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، أَبُو يَحْيَى إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ ثَابَرَ عَلَى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ , وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پابندی سے بارہ رکعتوں پر مداومت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1796]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1797 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى ، الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، مَعْقِلٌ ، عَطَاءٍ ، أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَكَعَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بِهَا بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15873)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 15 (729)، سنن ابی داود/الصلاة 290 (1250)، سنن الترمذی/الصلاة 190 (415)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 100 (1141)، مسند احمد 6/326، 327، 426، سنن الدارمی/ ال صلاة 144 (1478) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1798 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، لِعَطَاءٍ ، أُمَّ حَبِيبَةَ
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مَا بَلَغَكَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْ عَنْبَسَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ رَكَعَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ جمعہ سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو کیا معلوم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عنبسہ بن ابی سفیان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے رات دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15859)، مسند احمد 6/326 (صحیح) (اس سند میں انقطاع ہے، لیکن پچھلی سند سے یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر عطاء کی یہ سمجھ خطا ہے کہ ایک ہی وقت میں بارہ رکعتیں پڑھ لیں تو وہی ثواب ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1799 سنن نسائی
أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، زَيْدُ بْنُ حِبَّانَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَنْبَسَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ عزوجل اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ عطا نے اسے عنبسہ سے نہیں سنا ہے (اس کی دلیل آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1800 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِفِيُّ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أُمُّ حَبِيبَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الطَّائِفَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَزَعًا , فَقُلْتُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ , فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالنَّهَارِ أَوْ بِاللَّيْلِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" , خَالَفَهُمْ أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں طائف آیا، تو عنبسہ بن ابی سفیان کے پاس گیا، اور وہ مرنے کے قریب تھے، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ گھبرائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: آپ تو اچھے آدمی ہیں، اس پر انہوں نے کہا مجھے میری بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دن یا رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ ابویونس قشیری نے ان لوگوں کی جنہوں نے اسے عطا سے روایت کی ہے مخالفت کی ہے، (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15865) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 1801 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ ، حِبَّانُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيٍّ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ ، ابْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيٍّ , قَالَا: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ:" مَنْ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ فَصَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15852) (صحیح) (اس کے راوی ’’شہر‘‘ ضعیف ہیں، لیکن پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1802 سنن نسائی
الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اثْنَتَا عَشْرَةَ رَكْعَةً مَنْ صَلَّاهُنَّ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بارہ رکعتیں ہیں، جو انہیں پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد، دو رکعتیں عصر سے پہلے، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 15 (728) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 290 (1250) مختصراً، (تحفة الأشراف: 15860)، مسند احمد 6/327، 426، سنن الدارمی/الصلاة 144 (1478) (ضعیف الإسناد) (ابو اسحاق کے مدلس اور مختلط ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے)»
وضاحت
۱؎: اس روایت میں (اور اس کے بعد دونوں روایتوں میں جو دراصل ایک ہی روایت ہے) عشاء کے بعد دو رکعت کے بجائے عصر سے پہلے دو رکعت کا ذکر ہے، جو سنداً ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن عجلان و أبو إسحاق السبيعي عنعنا. وللحديث شواهد قوية دون قوله: ’’وركعتين قبل العصر‘‘. والحديث السابق (1795) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 335
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 1803 سنن نسائی
أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فُلَيْحٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْمُسَيَّبِ ، عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَهَا وَاثْنَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ , وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , وَاثْنَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو اس کے بعد، دو عصر سے پہلے، دو مغرب کے بعد اور دو صبح سے پہلے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: فلیح بن سلیمان زیادہ قوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 189 (415)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 100 (1141) مختصراً، (تحفة الأشراف: 15862)، مسند احمد 6/326 (ضعیف الإسناد) (ابو اسحاق مدلس مختلط اور فُلَیْح کثیر الخطا راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، أبوإسحاق عنعن. وأصل الحديث صحيح دون قوله: ’’واثنتين قبل العصر‘‘. وانظر الحديث السابق (1802) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 335
الحكم: ضعيف الإسناد