بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 1802 — باب: جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
کتب سنن نسائی کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل باب: جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔ حدیث 1802
حدیث نمبر: 1802 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اثْنَتَا عَشْرَةَ رَكْعَةً مَنْ صَلَّاهُنَّ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بارہ رکعتیں ہیں، جو انہیں پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد، دو رکعتیں عصر سے پہلے، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 15 (728) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 290 (1250) مختصراً، (تحفة الأشراف: 15860)، مسند احمد 6/327، 426، سنن الدارمی/الصلاة 144 (1478) (ضعیف الإسناد) (ابو اسحاق کے مدلس اور مختلط ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے)»
وضاحت
۱؎: اس روایت میں (اور اس کے بعد دونوں روایتوں میں جو دراصل ایک ہی روایت ہے) عشاء کے بعد دو رکعت کے بجائے عصر سے پہلے دو رکعت کا ذکر ہے، جو سنداً ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن عجلان و أبو إسحاق السبيعي عنعنا. وللحديث شواهد قوية دون قوله: ’’وركعتين قبل العصر‘‘. والحديث السابق (1795) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 335
الحكم: ضعيف الإسناد
← پچھلی حدیث (1801) باب پر واپس اگلی حدیث (1803) →