سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي لِي بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا، قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْبِسْ أَصْلَهَا، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: میرے پاس خیبر میں جو سو حصے ہیں اس سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ مال مجھے کبھی بھی نہیں ملا، میں نے اسے صدقہ کر دینے کا ارادہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اصل روک لو اور اس کا پھل (پیداوار) تقسیم کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الصدقات 4 (2397)، (تحفة الأشراف: 7902) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح