بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غیر منقسم مال و جائیداد کو وقف کرنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: اللہ کی راہ میں مال وقف کرنے کے احکام و مسائل باب: غیر منقسم مال و جائیداد کو وقف کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3633 سنن نسائی
سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي لِي بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا، قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْبِسْ أَصْلَهَا، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: میرے پاس خیبر میں جو سو حصے ہیں اس سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ مال مجھے کبھی بھی نہیں ملا، میں نے اسے صدقہ کر دینے کا ارادہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اصل روک لو اور اس کا پھل (پیداوار) تقسیم کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الصدقات 4 (2397)، (تحفة الأشراف: 7902) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3634 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ، كَانَ لِي مِائَةُ رَأْسٍ، فَاشْتَرَيْتُ بِهَا مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِهَا، وَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ:" فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلِ الثَّمَرَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا اچھا مال ہاتھ لگا ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا تھا۔ میرے پاس سو «راس» (جانور) تھے تو میں نے انہیں خیبر والوں کو دے کر سو حصے خرید لیے اور میرا ارادہ ہے کہ انہیں اللہ عزوجل کی راہ میں دے کر اس کی قرابت حاصل کر لوں۔ آپ نے فرمایا: (اگر تمہارا ایسا ارادہ ہے تو) اصل (یعنی زمین) کو روک لو اور پھل تقسیم کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3635 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى بْنِ بَهْلُولٍ ، بَقِيَّةُ ، سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى بْنِ بَهْلُولٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ:" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْضٍ لِي بِثَمْغٍ، قَالَ:" احْبِسْ أَصْلَهَا، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک زمین ثمغ (مدینہ) میں تھی، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اصل (زمین) کو روک لو اور اس کے پھل (پیداوار و فوائد) کو تقسیم کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3627 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح