أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: إِنَّ رَبَّنَا لَيَسْأَلُنَا عَنْ أَمْوَالِنَا، فَأُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي لِلَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ"، فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ , وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» ”تم «بِر» (بھلائی) کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم اس میں سے خرچ نہ کرو جسے تم پسند کرتے ہو“ (آل عمران: ۹۲) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ہم سے ہمارے اچھے مال میں سے مانگتا ہے، تو اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین اللہ کی راہ میں وقف کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقف کو اپنے قرابت داروں: حسان بن ثابت اور ابی بن کعب کے لیے کر دو“ (کہ وہ لوگ اس زمین کو اپنے تصرف میں لائیں اور فائدہ اٹھائیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الزکاة 14 (998)، سنن ابی داود/الزکاة 45 (1689)، (تحفة الأشراف: 315)، موطا امام مالک/الصدقة 1 (2)، مسند احمد 3/285، سنن الدارمی/الزکاة 23 (1695) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح