سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، سُفْيَانَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک بیوی نے غسل جنابت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطھارة 35 (68)، سنن الترمذی/فیہ 48 (65)، سنن ابن ماجہ/فیہ 33 (370)، (تحفة الأشراف 6103)، مسند احمد 1/235، 284، 308، 337، سنن الدارمی/الطہارة 57(761، 762) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی جو پانی جنبی یا محدث کے استعمال سے بچ جائے، وہ استعمال کرنے والے کی جنابت یا حدث کی وجہ سے نجس نہیں ہوتا۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (68) ترمذي (65) ابن ماجه (370) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
الحكم: صحيح