مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، مُخَارِقًا ، طَارِقٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ طَارِقٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَصَبْتَ، فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى"، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي أَصَبْتَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا، اس نے نماز نہیں پڑھی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا، پھر ایک دوسرا آدمی بھی جنبی ہو گیا، تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، اور آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے بھی ایسا ہی فرمایا جیسا کہ دوسرے سے فرمایا تھا، یعنی تم نے بھی ٹھیک کیا“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 4982)، ویاتی عندالمؤلف برقم 435 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد