هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْحِيَضُ وَالنَّتَنُ؟ فَقَالَ:" الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں سے وضو کریں؟ اور حال یہ ہے کہ یہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطھارة 34 (66، 67)، سنن الترمذی/فیہ 49 (66)، (تحفة الأشراف 4144)، مسند احمد 3/16، 31، 86 (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عبیداللہ‘‘ مجہول الحال ہیں) قال إبن حجر: ’’مستور‘‘ من الرابعة۔»
وضاحت
۱؎: بئر بضاعہ مدینہ کے ایک کنویں کا نام ہے۔ ۲؎: یعنی اس کنویں کے نشیب میں واقع ہونے اور منڈیر نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب اور ہوائیں ان چیزوں کو بہا اور اڑا کر کنویں میں ڈال دیتی تھیں۔ ۳؎: «الماء طہور» میں الف لام عہد کا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سائل کے ذہن میں جس کنویں کا پانی ہے وہ نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہو گا، کیونکہ اس کنویں کی چوڑائی چھ ہاتھ تھی، اور اس میں ناف سے اوپر پانی رہتا تھا، اور جب کم ہوتا تو ناف سے نیچے ہو جاتا جیسا کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں اس کا ذکر کیا ہے، مطلب حدیث کا یہ ہے کہ جب پانی کی مقدار زیادہ ہو تو محض نجاست کا گر جانا اسے ناپاک نہیں کرتا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مطلق پانی میں نجاست گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح