إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ:" بَلْ لَنَا خَاصَّةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج25 (1808)، سنن ابن ماجہ/الحج42 (2984)، (تحفة الأشراف: 2027)، مسند احمد (3/469)، سنن الدارمی/المناسک 37 (1897) (ضعیف منکر) (اس کے راوی ’’حارث‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث دیگر صحیح حدیثوں کے مخالف ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی حج کو عمرہ کے ذریعہ فسخ کرنا خاص ہے، نہ کہ تمتع کیونکہ اس کا حکم عام ہے جیسا کہ اوپر کی روایت میں گزرا اور جو لوگ فسخ کو بھی عام کہتے ہیں وہ اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی حارث ہیں جو ضعیف ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: ضعيف