هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَبْدَةَ ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَطَاءٍ ، سُرَاقَةُ
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ: سُرَاقَةُ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ، فَقُلْنَا: أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِأَبَدٍ؟ قَالَ:" بَلْ لِأَبَدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج تمتع کیا ۱؎ اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا۔ تو ہم نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2808 (صحیح الإسناد)»
وضاحت
۱؎: یہاں اصطلاحی تمتع مراد نہیں لغوی تمتع مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کا آپ نے فائدہ اٹھایا کیونکہ صحیح روایتوں سے آپ کا قارن ہونا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح الإسناد