أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، سُرَيْجٌ ، إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، أَبُو قِلَابَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ثُمّ قَالَ: هَلْ لَكَ فِي صَاحِبِ الْحَدِيثِ , فَدَلَّنِي عَلَيْهِ فَلَقِيتُهُ , فَقَالَ: حَدَّثَنِي قَرِيبٌ لِي , يُقَالُ لَهُ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ كَانَتْ لِي أُخِذَتْ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ فَدَعَانِي إِلَى طَعَامِهِ , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ:" ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے یہ حدیث بیان کی، پھر مجھ سے کہا: کیا آپ اس حدیث کے بیان کرنے والے سے ملنا چاہیں گے؟ پھر انہوں نے ان کی طرف میری رہنمائی کی، تو میں جا کر ان سے ملا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے جنہیں انس بن مالک کہا جاتا ہے نے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے سلسلے میں جو پکڑ لیے گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، میں پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے، تو آپ نے مجھے اپنے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بلایا۔ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں، (سنو) اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: 2276، 2277 (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن